پاکستان میں کرونا وائرس کے اثرات
اٹلی میں کرونا وائرس سے 25 ہزار اموات
امریکی ریاست نیویارک میں عالمگیر وبا سے اموات کی تعداد 20 ہزار اور اٹلی میں 25 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ جرمنی میں کیسز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن، ان میں سے تقریباً ایک لاکھ صحت یاب ہوچکے ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد سوا 26 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار ہوچکی ہے۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 763، فرانس میں 544، اٹلی میں 437، اسپین میں 435، بیلجیم میں 264، سویڈن میں 172، برازیل میں 165، جرمنی میں 164، میکسیکو میں 145، نیدرلینڈز میں 138، کینیڈا میں 132 اور ترکی میں 117 مریض چل بسے۔ ایران میں 94 اور روس میں 57 افراد ہلاک ہوئے۔
امریکہ میں بدھ کی سہ پہر تک 25 ہزار نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی تھی اور 1900 اموات کی خبر ملی تھی۔ ملک میں 43 لاکھ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 8 لاکھ 40 ہزار مثبت آئے ہیں۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی کل تعداد 25085، اسپین میں 21717، فرانس میں 21340، برطانیہ میں 18100، بیلجیم میں 6262، ایران میں 5391، جرمنی میں 5250، چین میں 4632 اور نیدرلینڈز میں 4054 ہو چکی ہے۔
امریکہ میں 46700 سے زیادہ ہلاکتوں کا علم ہو چکا ہے۔ ان میں نیویارک میں 20167، نیوجرسی میں 5063، مشی گن میں 2813، میساچوسیٹس میں 2182، پینسلوانیا میں 1622، الی نوئے میں 1565، کنیٹی کٹ میں 1544، لوزیانا میں 1473 اور کیلی فورنیا میں 1407 اموات ہوچکی ہیں۔
کرونا وائرس: صدر ٹرمپ اور عمران خان کی فون پر گفتگو
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں ٹیلی فون رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں میں کوویڈ 19 کی موجودہ صورتحال، اس سے درپیش چیلنجوں، عالمی اقتصادیات پر اس کے اثرات اور ان اثرات میں کمی لانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کرونا وبا کے ٹیسٹ کے حوالے سے امریکی صدر نے جدید ترین تیز رفتار مشین وزیر اعظم کو بھجوانے کی پیشکش بھی کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، آج وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماوں نے کوویڈ 19 اور اس سے درپیش چیلنجوں، عالمی اقتصادیات پر اس کے اثرات اور ان اثرات میں کمی لانے، علاقائی معاملات اور پاک امریکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی۔
ترجمان کے مطابق، وزیراعظم عمران خان نے کوویڈ 19 وبا کے باعث امریکہ میں بے شمار قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر تعزیت اور اظہار ہمدردی کیا اور کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا۔
بھارت میں طبی عملے پر حملہ کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا آرڈیننس
بھارت میں کرونا وائرس سے نمٹنے والے طبی عملے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والوں کو سات سال تک سزا دی جا سکے گی۔ اس حوالے سے بھارت کی حکومت نے ایک آرڈیننس بھی جاری کردیا ہے۔
آرڈیننس کے تحت اگر کوئی شخص ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف یا پولیس ٹیم پر حملہ کرے گا تو اسے جرمانہ اور سات سال تک جیل ہو سکتی ہے۔ یہ آرڈیننس ایک صدی پرانے 'ایپیڈیمک ایکٹ' میں ترمیم کرکے لایا گیا ہے۔
اس آرڈیننس کے تحت معمولی کیسیز میں تین ماہ سے پانچ سال تک کی جیل اور 50 ہزار سے لے کر دو لاکھ روپے تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔ سنگین کیسز میں چھ ماہ سے لے کر سات سال تک کی جیل ہو گی اور ایک لاکھ سے لے کر سات لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔
اگر کسی حملے میں صحت ورکر کی گاڑی یا کلینک کو نقصان پہنچتا ہے تو ملزم پر تباہ کی جانے والی چیز کے مارکیٹ ریٹ سے دو گنا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جس شخص کا نقصان ہو گا اسے معاوضہ دیا جائے گا۔
یہ آرڈیننس انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو تحفظ دینے کے مطالبے کے ایک روز بعد لایا گیا ہے۔ ایسو سی ایشن نے 23 اپریل کو بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا تھا۔