متعدد ممالک میں معاشی عدم استحکام اور خوراک کی کمی کا اندیشہ
ہنگامی حالات میں امدادی سرگرمیاں کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم نے تمام حکومتوں پر زور دیا ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والے معاشی نقصانات کے ازالے کی منصوبہ بندی کی جائے۔
دنیا کے 192 ممالک میں خدمات انجام دینے والی انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے صدر فرانچسکو روکا کا کہنا ہے کہ وبا سے معاشی عدم استحکام، خوراک کی کمی اور فاقہ کشی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
فرانچسکو روکا نے مزید کہا کہ ہمیں اداروں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی قبل اس کے کہ بہت تاخیر ہو جائے۔
ویڈیو نیوز کانفرنس میں انہوں نے دنیا کے اکثر ممالک میں نافذ پابندیوں کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن سے لاکھوں لوگوں کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو گئے ہیں۔ ان ممالک میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں جب کہ وہ ملک بھی ہیں جہاں صورت خراب ہے یا وہ تنازعات کا شکار ہیں۔
پاکستان میں ٹیسٹ کی استعداد میں اضافہ، کیسز بھی بڑھنے لگے
حکومت نے پاکستان میں 12723 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں وبا کے 783 نئے مریض سامنے آئے جب جب کہ حکومت اب تک ایک لاکھ 44ہزار افراد کے ٹیسٹ کر چکی جن میں سے 6200 افراد کے ٹیسٹ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک 269 افراد کی موت ہو چکی ہے جن میں سے 93 افراد خیبر پختونخوا، 81 افراد پنجاب، 78 افراد سندھ، 11 افراد بلوچستان، 3 گلت بلتستان جب کہ 3 اسلام آباد میں ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی کی بھی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
کرونا وائرس سے تین درجن ملکوں میں قحط کا خطرہ
خوراک کے عالمی ادارے کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے مزید تکلیف دہ اثرات ظاہر ہونے کے خدشات موجود ہیں جس کے لیے ابھی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے نیوز چینل سی بی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آنے والے دنوں میں انسانی ہمدردی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے اور تین درجن کے لگ بھگ ملکوں میں قحط پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے شدید بحران ہوگا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بندرگاہیں بند پڑی ہیں اور رسد کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کے اعلیٰ عہدے دار، ڈیوڈ بیسلی نے، جو اس سے قبل ساؤتھ کرولائنا کے گورنر رہ چکے ہیں، بتایا کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں ملک کو غربت، خوراک کی قلت اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ لیکن، ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
معیشت کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سارے عوامل کو پیش نظر رکھ کر احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے اور کرونا وائرس کا پھیلاؤ بھی قابو میں رہے۔
اس وقت افریقہ کے کئی ملکوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں لاکھوں پناہ گزینوں کو بھی خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارے ان کی مدد کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں ملنے والی امداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
- By قمر عباس جعفری
لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے لیکن کس حد تک
دوسرے ملکوں کی طرح، پاکستان میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ لاک ڈاؤن کو کھولا جائے یا نہیں۔ اور اگر کھولا جائے تو کس حد تک؟ تاہم، زیادہ تر ماہرین کا اب بھی یہی موقف ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مکمل اور سخت نوعیت کا لاک ڈاؤن ہونا چاہئے۔
وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی ہونی چاہئے، کیونکہ سخت نوعیت کا لاک ڈاؤن غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ تین صوبائی حکومتیں جو یا تو PTI کی ہیں یا اسکی اتحادی ہیں وفاق کے موقف کے حق میں ہیں، جبکہ صوبہ سندھ میں جہاں اپوزیشن کی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس بارے میں مختلف موقف رکھتی ہے۔
اس ضمن میں، پاکستان کی ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کا موقف یہ ہے لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع ہونی چاہئے، تاکہ ایک ہی دفعہ میں کرونا وائرس کی وبا پر قابو پایا جا سکے۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں لاک ڈاؤن میں توسیع ڈاکٹروں کے کہنے پر ہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کے بلا شبہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے اور ماہرین کی اس بارے میں جو رائے ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن، زمینی حقائق کو بھی پیش نظر رکھنا پڑتا ہے اور لوگوں کو بھوک سے نہیں مارا جا سکتا۔
صوبے میں کرونا وائرس کی صورت حال کے بارے میں، راجہ بشارت نے کہا کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کرونا کا پھیلاؤ بھی کم اور شرح اموات بھی کم ہے ۔
ڈاکٹروں کی اس شکایت کے بارے میں کہ انکو حفاظتی سامان ضرورت کے مطابق نہیں ملتا اور انکی سلامتی خطرے میں پڑی رہتی ہے، راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت ضرورت بھر سامان فراہم کر رہی ہے؛ اور صوبے میں ٹیسٹ بھی دوسرے صوبوں سے زیادہ ہو رہے ہیں اور ٹیسٹس کی گنجائش بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت ذمہ دارانہ راستہ ختیار کر رہی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے لئے کیا کسی وقت کا تعین کر لیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ صورت حال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ایکدم سے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری، ڈاکٹر سلمان کاظمی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں ضرورت کے مطابق، حفاظتی سامان یا 'پروٹیکٹو گیئر' فراہم کیا جائے، خاص طور سے N-95 ماسک جو ڈاکٹروں کے تحفظ کے لئے بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے یہ حفاظتی ساز و سامان قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے کے توسط سے آتا تھا، اس لئے بہت سی رکاوٹیں حائل ہوتی تھیں۔ لیکن، اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسپتالوں کو براہ راست سامان فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ سپلائی کی صورت حال میں بہتری آ سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب Home Isolation کا کوئی نظام موجود نہیں۔ بقول ان کے، ''اور ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی مریض کا پتا چلے تو اسے اسپتال بھیجا جاتا ہے اور اسے اسپتال پہنچانے کے لئے پولیس اس کے گھر جاتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ اور پھر لوگ اس خوف سے بیماری چھپاتے پیں کہ پولیس آجائے گی، اور یوں، بیماری پھیلتی رہتی ہے''۔
ڈاکٹر سلمان کاظمی نے کہا کہ ایسوسی ایشن یہ بھی سمجھتی ہے کہ سارک ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؛ اور ان سب کو ملکر ایک ساتھ لاک ڈاؤن کرنے اور ایک ساتھ کھولنے کا فیصلہ کرنا چاہئیے، جس سے اسے کُٹرول کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔