بھارت: کرونا سے ہلاکتیں ایک ہزار سے متجاوز
بھارت میں کرونا وائرس سے ایک روز کے دوران سب سے زیادہ 73 اموات ہوئی ہیں۔ جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 31 ہزار 332 تک پہنچ گئی ہے اور اب تک ایک ہزار سات افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس روز کے دوران ملک بھر میں ہلاکتوں اور نئے کیسز کی تعداد دو گنی ہو گئی ہے۔
بھارت کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 47 اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
اہلکاروں میں وائرس کی تشخیص کے بعد سی آر پی ایف کی دہلی بٹالین کے تمام ایک ہزار اہلکاروں کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز
پاکستان میں ایک روز کے دوران سب سے زیادہ 806 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 14 ہزار 885 ہو گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کرونا وائرس سے 26 اموات ہوئیں اور اس طرح ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 327 تک پہنچ گئی ہے۔
کرونا وائرس: 31 لاکھ مریض، ساڑھے 9 لاکھ صحت یاب
روس میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھتے ہوئے ایران سے زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ لاطینی امریکہ کے ملک ایکویڈور میں ایک دن میں 200 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
نئے اعداد و شمار سے ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ کرونا وائرس صرف امریکہ اور یورپ کو متاثر نہیں کرے گا، بلکہ باری باری تمام ملک اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں منگل کو کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 31 لاکھ اور اموات کی تعداد 2 لاکھ 16 ہزار سے بڑھ گئی۔
ایکویڈور کے بارے میں شبہ ہے کہ وہاں ہزاروں افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق نہیں کی جا رہی۔ مقامی حکومتوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اموات میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری طور پر ایکویڈور میں 24 ہزار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور منگل سے پہلے 663 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن میڈیا کے مطابق، اتنی بڑی تعداد میں لوگ مر رہے ہیں کہ قبرستانوں میں توسیع کرنا پڑی ہے۔ اسپتالوں کے دروازوں پر، برآمدوں میں اور حد یہ کہ سڑکوں پر لاشیں پڑی دکھائی دیتی ہیں۔
چائے، ادرک، شراب، کلوروکوئن اور جراثیم کش کیمیکلز
صحت عامہ کے ماہرین بار بار عوام کو خبردار کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس کی نہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ کوئی علاج۔ نہ ہی کوئی شے کھانے یا پینے سے خاص طور پر اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔
لیکن، دنیا بھر میں افواہوں کی وجہ سے کچھ لوگ الٹی سیدھی چیزیں کھا پی رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہزاروں لوگوں نے مضر اشیا سے صحت بگاڑ لی ہے اور سیکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
تازہ خبر ایران سے آئی ہے جہاں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ 20 فروری سے 7 اپریل کے دوران ملک بھر میں 728 افراد زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہوگئے۔ وزارت کے ایک مشیر نے اے پی کو بتایا کہ 525 افراد اسپتالوں میں اور باقی گھروں پر دم توڑ گئے۔
اس خوف کی فضا میں یہ افواہ پھیل گئی کہ الکوحل پینے سے کرونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ملک میں زہریلی شراب کے کیسز میں 10 گنا اضافہ ہوگیا۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق دو ماہ سے کم عرصے میں پانچ ہزار افراد زہریلی شراب پی کر بیمار ہوئے۔ ان میں کم از کم 90 اندھے ہوگئے۔
ایران واحد ملک نہیں جہاں افواہوں یا گمان کی بنیاد پر غلط علاج تجویز کیا گیا۔ کئی اور ملکوں میں بھی یہی حال ہے۔