'کرونا' ہار گیا، محبت جیت گئی
دنیا میں جہاں ایک جانب کرونا وائرس مہلک بنا ہوا ہے اور زندگی کی تمام سرگرمیاں اس سے متاثر ہیں۔ وہیں محبت کرنے والوں نے اسے ہرا دیا ہے اور بہت سے جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ گئے ہیں۔
امریکہ میں کیسز 10لاکھ 35ہزار سے متجاوز، 59ہزار افراد ہلاک
امریکہ میں کورنا وائرس کے مریضوں کی تعداد 10 لاکھ 35 ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے جب کہ 59ہزار سے زائد افراد کی موت ہوئی ہے۔
اعداد و شمار جمع کرنے والی ویب سائٹ 'ورلڈو میٹرز' کے مطابق امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں نیویارک میں 23ہزار 144 ہوئی ہیں جب کہ بعد نیو جرسی میں چھ ہزار، میساچوسٹس میں تین ہزار، ایلانوئے میں دو ہزار ایک سو سے زائد افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں وبا کے شکار ہونے والے 20 فی صد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ چھ فی صد کی موت ہوئی ہے۔
'ورلڈو میٹرز' پر موجود اعداد شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا میں وبا کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ بھی امریکہ میں ہوئے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے ٹیسٹس کی تعداد 60 لاکھ کے قریب ہے جب کہ نیویارک میں آٹھ لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔
ماسک نہ پہننے پر گلیوں میں جھاڑوں لگانے کی سزا
افریقی ملک مڈگاسکر کے دارالحکومت اینٹانانیریو میں پولیس نے ایک نیا قانون لاگو کیا ہے۔ جس کے تحت گھر سے نکلنے والے ہر شخص کو لازمی طور پر چہرے پر ماسک پہننا ہوگا۔
پولیس کے مطابق وہ افراد جو ماسک نہیں پہنیں گے ان کو سزا کے طور پر شہر کی گلیاں صاف کرنی ہوں گی۔
پولیس نے نیا ضابطہ رواں ہفتے ہی لاگو کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ افراد جو بغیر ماسک کے باہر نظر آ رہے ہیں پولیس ان سے شہر کی گلیاں صاف کروا رہی ہے جب کہ کئی لوگ کچرا اٹھاتے ہوئے بھی نظر آئے۔
حکام نے ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے لازمی قرار دیا کہ گھر سے نکلنے والا ہر شخص ماسک لگائے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق رواں ہفتے پیر سے 500 افراد کو سزائیں دی گئی ہیں جب کہ 25 افراد کو فوری طور پر گلیوں میں جھاڑو لگانے کے کام پر لگایا گیا۔
خیال رہے کہ مڈاگاسکر میں کرونا کے 128 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے تاہم وبا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
حکام کے مطابق 75 مریض وبا سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
- By ثمن خان
لاک ڈاؤن میں رمضان: نہ افطار پارٹیاں، نہ عید کی شاپنگ
پاکستان میں اس بار ماہِ رمضان گزشتہ برسوں کی نسبت قدرے مختلف انداز میں گزر رہا ہے۔ افطار پارٹیوں کا اہتمام ہے اور نہ ہی عید کی شاپنگ کے رنگ۔ ایک پاکستانی فیملی سے جانتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ ماہِ صیام کس طرح گزار رہے ہیں؟