'ہوائی سفر پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں طویل عرصہ لگے گا'
یورپ کی ہوا بازی کی کمپنی ایئر بس کا کہنا ہے کہ ہوا بازی کی صنعت کرونا وائرس کے باعث شدید بحران سے دوچار ہے جب کہ ہوائی سفر پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں طویل عرصہ لگے گا۔
سفری پابندیوں اور لوگوں کے گھروں میں محدود رہنے کے باعث ہوائی سفر میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے۔
ایئر بس نے سال کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں ملازمین کو فرلو پر بھیجنے اور گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 40 جہاز کم فراہم کرنے سے اسے 52 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔
افغانستان میں مصدقہ کیسز کی تعداد 1939 ہو گئی
افغانستان کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10 صوبوں میں کرونا وائرس کے 110 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔
نئے کیسز سامنے آنے کے بعد افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1939ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر واحد اللہ مائر نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ اب تک کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 60 ہو چکی ہے جب کہ 252 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ افغانستان میں ابھی وبا اپنی انتہا کو نہیں پہنچی۔
میانمار: اندرونی طور پر بے دخل ساڑھے تین لاکھ افراد میں وبا پھیلنے کا خطرہ
میانمار میں اندرونی طور پر بے دخل ہونے والے لگ بھگ تین لاکھ 50 ہزار افراد کو کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ بے دخل افراد انتہائی بھیڑ کی حالت میں اور بعض اوقات صفائی ستھرائی سے مکمل طور پر عاری حالات میں رہ رہے ہیں۔
سفری سہولتوں کی عدم دستیابی اور لاک ڈاؤن کے دوران ان کی خوراک، امداد اور معلومات تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔
کاچن ریاست میں قائم کیمپ میں کرونا وائرس کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ کیمپ میانمار کی افواج اور آزادی پسند کاچن ملیشیا کے درمیان 17 برس سے جاری جنگ بندی ختم ہونے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
میانمار کے شہر مائے کینا میں طویل عرصے سے آباد رہائشی روز مرہ کی اجرتی مزدوری پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کرونا وائرس سے آمدنی ختم ہونے سے خطرہ ہے۔
بلوچستان میں کرونا سے 44 ڈاکٹرز بھی متاثر
بلوچستان میں کرونا وائرس سے 44 ڈاکٹرز، 22 پیرا میڈیکس اور 4 نرسز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ جن کو قرنطینہ کرکے علاج شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر سلیم ابڑو نے وائس آف امر یکہ سے گفتگو کے دوران کہا کہ جو بھی ڈاکٹر وبا سے متاثر ہوتے ہیں ان کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ اُس کے بعد وہ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر آ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت 44 ڈاکٹرز متاثر ہو چکے ہیں لیکن لوگوں کے علاج کا سلسلہ چل رہا ہے کیونکہ اگر ایک ڈاکٹر بیمار ہوتا ہے تو اُس کی جگہ پر دوسرا کام شروع کر دیتا ہے۔
ان کے بقول صوبے میں ڈاکٹروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے تر جمان عبدالرحیم بابر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے احتجاج کے بعد بھی صرف 30 فی صد ڈاکٹروں حفاظتی کٹس دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے کرونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ نہ ہی اس کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل تیار کیا۔
بلوچستان میں اس وقت کرونا سے متائر افراد کی تعداد 940 ہو چکی ہے جب کہ وبا سے پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔