پاکستان میں یومیہ ریکارڈ کیسز
پاکستان میں ایک روز کے دوران اب تک کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 874 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 346 تک پہنچ چکی ہے۔
اینٹی وائرل دوا سے کرونا وائرس کے علاج میں کامیابی
امریکہ میں سرکاری سطح پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیوئیر سے کرونا وائرس کے مریض جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔
امکان ہے کہ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن جلد کرونا وائرس کے علاج کے لیے ریمڈیسیوئیر کے استعمال کی منظوری دے گی۔ اگرچہ اس بارے میں مزید تحقیق کی جائے گی لیکن ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہونے کی وجہ سے صحت عامہ کے ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس دوا سے بہت سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیشنل ایجنسی آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزز کے سربراہ ڈاکٹر فاؤچی نے وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ کے دوران اس دوا کے بارے میں اچھی امیدوں کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر فاؤچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کے ادارے نے ابھی اس دوا کا باقاعدہ جائزہ لینا ہے لیکن انھوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ مریضوں کی جلد صحت یابی میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
پی آئی اے کی اسپیشل فلائٹس لانے کی کوششں جاری ہیں، پاکستانی سفیر
امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ امریکہ میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے سپیشل فلائٹس کے معاملے پر امریکہ میں ہمیں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، ''جسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔"
انھوں نے یہ بات بدھ کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتائی۔ اس گفتگو میں سب سے پہلا سوال یہی کیا گیا کہ کووڈ 19 کی ایمرجنسی میں سفارت خانہ کیسے کام کر رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جبکہ دوسرے ملکوں نے اپنے اپنے قونصلیٹ بند کر دیے تھے، پاکستان نے ایک دن کیلئے بھی اپنا قونصل خانہ بند نہیں کیا۔ اور وہ پاکستانیوں کو پاسپورٹ کے اجرا اور پاور آف اٹارنی جیسے اہم کاغذات کی تصدیق کے لیے کام کرتے رہے۔
سفیر کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایمبیسی نے لوگوں کو پاکستان کے حالات اور ان کے خاندانوں سے متعلق معلومات بھی مسلسل فراہم کی اور کمیونٹی کے ساتھ رابطہ قائم کیے رکھا۔
اسد خان نے کہا کہ ایسے تمام پاکستانی جو وطن واپس جانا چاہتے تھے ان سے ایمبیسی نے فرداً فرداً رابطہ کیا اور ایسے افراد کی ایک جامع فہرست موجود ہے۔
نیویارک سے سات پاکستانیوں کی میتیں وطن روانہ
کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے پانچ افراد سمیت سات پاکستانیوں کی میتیں پاکستان روانہ کر دی گئی ہیں، جو دو مئی کو پاکستان کے مختلف شہروں میں پہنچیں گی۔
نیویارک کے معروف 'الریان فیونرل ہوم' کے ڈائریکٹر، امتیاز احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث نیویارک سے بین الااقوامی پروازیں بند تھیں جو اب کھل گئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ایک عارضہ قلب کی وجہ سے اور ایک نوجوان کی موت کار حادثے میں ہوئی تھی، جن کی لاشیں الریان فیونرل ہوم میں محفوظ تھیں۔
امتیاز احمد نے بتایا کہ پی آئی اے دنیا بھر سے پاکستانیوں کی میتیں مفت وطن لے جاتا ہے۔ لیکن، چونکہ اس وقت پی آئی اے کی نیویارک سے کوئی پرواز نہیں ہے، اس لئے ان میتوں کو قطر ایئرلائن سے پاکستان بھیجا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان میتیوں میں سے ایک میرپور، ایک سیالکوٹ، ایک اٹک، ایک لاہور اور دو گجرات کے لئے روانہ کی گئی ہیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے پروازوں کی بندش کے بعد لواحقین میتوں کی تدفین نیویارک میں ہی کرانا شروع کر دیا تھا۔ لیکن ان سات میتوں کے ورثا کا اصرار تھا کہ ہر صورت یہ میتیں پاکستان بھیجی جائیں۔