برطانیہ کے نرسنگ ہومز میں کرونا وائرس سے 4 ہزار اموات
برطانیہ نے کرونا وائرس سے متعلق ڈیٹا میں ان ہزاروں افراد کو شامل کر لیا ہے جن کی اموات نرسنگ ہومز میں ہوئی ہیں۔ ادھر برازیل میں 2 دن میں 900 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یوں، دنیا بھر میں عالمگیر وبا سے ہلاکتوں کی تعداد سوا دو لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، بدھ تک دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 32 لاکھ اور اموات 2 لاکھ 27 ہزار سے بڑھ گئی تھی جبکہ 10 لاکھ افراد صحت یاب ہوچکے تھے۔
لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کا امریکی خواب خطرے میں
کرونا وائرس سے ہزاروں امریکی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ وبا لاکھوں تارکین وطن کا امریکی خواب بھی قتل کرنے کے درپے ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد بیروزگار ہوئے ہیں۔ ان میں لاکھوں تارکین وطن بھی شامل ہیں جو ورک ویزے پر امریکہ آئے۔ ان کے قیام کی شرط ان کی ملازمت تھی۔
مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سارہ پئیرس کہتی ہیں کہ ایچ ون بی ویزا کے تحت آپ اسی آجر کے لیے کام کر سکتے ہیں، جس کے لیے آپ کو ویزا ملا ہے۔ آپ اتنے ہی گھنٹے کام کرسکتے ہیں، جتنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور اسی مقام پر کام کرسکتے ہیں، جس کا ذکر ہوا ہے۔ ان میں تبدیلیوں کے لیے نئی درخواست دائر کرنا پڑتی ہے جو موجودہ حالات میں مشکل کام ہے۔
اگر کوئی شخص ملازمت کھو بیٹھے تو اس کے پاس نئی ملازمت حاصل کرکے درخواست دائر کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ یہ معمول کے دنوں میں بھی آسان کام نہیں ہوتا۔ موجودہ بحران میں کون نئی ملازمت کی امید کرسکتا ہے۔
بھارت چین سے اینٹی باڈیز ٹبسٹ کٹس برآمد نہیں کرے گا
بھارت کی سرکاری میڈیکل ریسرچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ بھارت چین سے منگائی گئی کٹس کو واپس کر دے گا، کیوں کہ ان کی کارکردگی غیر معیاری ہے۔ ایجنسی نے ملک کے تمام میڈیکل مراکز کو ان کے استعمال سے روک دیا ہے۔
ان کٹس سے اینٹی بادیز کا فوری ٹسٹ کیا جاتا ہے اور آدھے گھنٹے کے اندر اس کا نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ بھارت نے خود بھی پانچ لاکھ ایسی کٹس تیار کر لی ہیں۔ یہ ٹسٹ ایسے مریضوں کا لیا جاتا ہے جو کرونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی اینٹی باڈیز سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مریض کا جسم مرض کے خلاف کتنی قوت مدافعت رکھتا ہے۔
چین سے برآمد کی جانے والی کٹس کے بارے میں طبی مراکز نے شکایت کی ہے کہ ان کے نتائج یکساں نہیں نکلے۔
نئی دہلی میں چینی سفارت خانے کی ترجمان ژی رونگ نے کہا کہ چند افراد کا یہ اعتراض انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ناجائز ہے۔ بقول ان کے، ''انہوں نے پہلے سے طئے شدہ منصوبے کے تحت ایسا کیا''۔
چین کا کہنا ہے کہ اس کی کٹس طبی معیار کو پورا کرتی ہیں اور بھارت کے اندر ان کی سٹوریج اور ترسیل میں ضروری احتیاط برتی جانی تھی۔ اور اگر ان ضابطوں پر عمل نہ کیا جائے اور بے احتیاطی برتی جائے تو اس ٹسٹ کے نتائج میں فرق آسکتا ہے۔
حیات بعد از کرونا
علامہ اقبال نے کہا تھا ’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہی۔ محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی'۔
آج اگر واقعی دنیا پر نگاہ ڈالی جائے تو بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لب سچ پر کھلنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ لیکن دنیا بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ شہر ہوں یا ان کی تفریح گاہیں۔ ہوٹل ہوں یا ریستوراں۔ پارک ہوں یا ساحل، جہاں کبھی رونقیں ہوتی تھیں قہقہے گونجتے تھے، بچوں کی چہچہاہٹیں کانوں میں رس گھولتی تھیں اب وہاں ویرانیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
پہلے لوگ جب ملتے تھے تو تپاک سے ملتے تھے۔ لیکن اب اگر سر راہ ملاقات بھی ہو جائے اور غلطی سے قربت ہو نے لگے تو ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں، گلے ملنا تو کجا ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے تو شاید ایک مخصوص شہر کے لئے کہا ہو گا کہ:
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو
لیکن آج تو شہر شہر، قریہ قریہ، یہ ہی صورتِ حال ہے۔ نہ کوئی ہاتھ ملاتا ہے۔ نہ گلے ملتا ہے۔ بلکہ دوسرے کو دیکھ کر دور بھاگتا ہے۔