رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:21 1.5.2020

افغانستان میں کرونا کے مزید 164 کیسز

افغانستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 14 صوبوں میں کرونا وائرس کے مزید 164 کیسز کی تصدیق کی ہے۔

جس کے بعد افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2339ہو گئی ہے۔

وزارتِ صحت کے ترجمان ڈاکٹر واحداللہ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19کے 50 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔

کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 310ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 68 ہو گئی ہے۔

18:15 1.5.2020

متفقہ حکمت عملی نہ ہونے سے وائرس پھیلا: سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ یہ ایک المیہ ہے کہ دنیا کے لیڈر کرونا وائرس کا سامنا کرنے کے لیے مربوط انداز میں متفقہ لائحہ عمل نہیں طے کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ملک نے انفرادی سطح پر خود اپنی پالیسی اپنائی اور ہر ملک کی پالیسی اور حکمت عملی مختلف رہی ہے جس کے باعث وائرس کو مزید پھیلنے کا موقع ملا۔

سیکٹری جنرل گوتریس نے کہا کہ یہ بات عیاں ہے کہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں دنیا میں قیادت کا فقدان ہے۔

انہوں نے دنیا کے اہم ملکوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور پھر عالمی برادری کو ساتھ لے کر چلیں۔

اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق کرونا وائرس کے باعث دنیا کی لگ بھگ آٹھ فی صد آبادی یعنی تقریباً 50 کروڑ لوگ اس سال کے آخر تک غربت کا شکار ہو جائیں گے۔ عالمی سطح پر کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز نے جمعے کو بتایا کہ دینا بھر میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 32 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور 233,000 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

دنیا میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مستند کیسز اور ہلاکتیں امریکہ میں ہوئی ہیں جو دنیا کے کل کیسز اور ہلاکتوں کا ایک تہائی ہیں۔ امریکہ میں کرونا وائرس سے 63000لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کو کہا کہ برطانیہ میں کرونا وائرس کی صورت حال اپنے انتہائی مقام سے گزر چکی ہے اور نئے کیسز کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔

کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے کرونا وائرس کے بعد ملک کی معیشت اور طرز زندگی کے رجحان کے بارے میں ایک منصوبہ پیش کریں گے۔

برطانیہ میں کرونا وائرس سے 27000 جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور وہاں مستند کیسز کی تعداد 172,500 کے لگ بھگ ہے۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں کرونا وائرس کیلئے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور اگر اس میں کامیابی حاصل ہوئی تو یہ ویکسین اس سال موسم خزاں تک دستیاب ہو گی۔

بہت سے یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں بتدریج ہٹائی جا رہی ہیں اور وہاں کاروبار شروع کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ یورپ میں اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران معیشت 3.8 فیصد تک سکڑ چکی ہے۔

15:26 1.5.2020

پشاور کے اسپتال میں 'پیسو امیو نائزیشن' سے کرونا کا علاج

پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلکس کی انتظامیہ نے کرونا کے متاثرہ مریضوں کا 'پیسو امیونائزیشن' یعنی کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض کے خون میں موجود پلازما سے علاج شروع کر دیا ہے۔

اسپتال نے اس ضمن میں کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض خون کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی نگرانی میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے پلازما لے کر متاثرہ مریضوں کو لگایا جائے گا۔

اس طریقہ کار کا مقصد متاثرہ مریضوں میں بھی وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنا ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ جو لیبارٹری میں اس طریقہ کار پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

ابتداً اسپتال میں شعبہ امراض قلب کے ڈاکٹر سلمان نے رضاکارانہ طور پر اپنے خون کا نمونہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر سلمان کرونا سے متاثر ہو کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔

13:27 1.5.2020

چین میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ، لیکن معیار پر سوال کیوں؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

چین میں کرونا وائرس کی وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اسکولز، دفاتر اور دیگر مقامات پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

چین میں معمولات زندگی کی جزوی بحالی کے بعد کمپنیاں، اسکول اور انفرادی سطح پر لوگ بھی ٹیسٹنگ کے اس عمل سے گزر رہے ہیں۔ البتہ ناقدین ٹیسٹنگ کٹس کے معیار پر سوالات بھی اُٹھا رہے ہیں۔

چین میں بڑے پیمانے پر 'اینٹی باڈی ٹیسٹنگ' کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس ٹیسٹ سے یہ تعین ہوتا ہے کہ آیا کوئی شخص کرونا وائرس سے متاثر ہوا یا نہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق چین کی ٹیکنالوجی کمپنی 'سینا' نے ایک اسکول میں خصوصی ٹیسٹنگ روم قائم کر رکھا ہے۔ جہاں کلاس روم جانے سے قبل کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے طلبہ کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG