رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

01:49 2.5.2020

بھارت میں اپریل کے دوران ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی

عام حالات میں اس سے زیادہ عجیب کوئی خبر نہیں ہوسکتی تھی کہ ایک ارب 38 کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں اپریل کے 30 دنوں میں ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی۔ لیکن کرونا وائرس بحران میں اس پر حیرت کا کوئی سوال نہیں۔

بھارت میں گاڑیاں بنانے والے سب سے بڑے ادارے، ماروتی سوزوکی انڈیا نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ اپریل میں مقامی سطح پر اس کا ایک بھی یونٹ فروخت نہیں ہوا۔ گزشتہ ماہ پورے بھارت میں لاک ڈاؤن تھا اور آٹو کمپنیوں کے پیداواری یونٹ بند رہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مندرا بندرگاہ پر کام شروع ہونے کے بعد اس نے 632 گاڑیاں درآمد کی ہیں اور اس سلسلے میں تمام احتاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔

ایم جی موٹرز نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ اپریل میں ڈیلرشپ کی بندش کے باعث اس کی ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوسکی۔

مہندرا اینڈ مہندرا نے بھی مقامی سطح پر کوئی گاڑی فروخت نہیں کی۔ لیکن، اس نے اپریل میں 733 گاڑیاں برآمد کی ہیں۔
مارچ کے دوران بھارت میں ایک لاکھ 97 ہزار اور فروری میں 3 لاکھ 71 ہزار گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔ 2018 کے دوران 44 لاکھ اور 2019 میں 38 لاکھ گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔

پاکستان میں بھی اس عرصے میں لاک ڈاؤن تھا۔ لیکن اپریل کے اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے۔ مارچ میں ملک بھر میں 7264 اور فروری میں 12521 گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔

امریکہ اور یورپ کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن، ان میں گاڑیوں کی فروخت صفر نہیں ہوئی۔ امریکہ کی کئی ریاستیں کھلی رہیں اور وہاں نئی گاڑیاں خریدی جاتی رہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں 50 سے 60 فیصد کمی آئی ہے۔

01:48 2.5.2020

بھارت: لاک ڈاون میں مزید دو ہفتوں کی توسیع

بھارتی حکومت نے کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاون میں مزید 14 دنوں کی توسیع کر دی ہے۔ دوسرے مرحلے کے لاک ڈاون کی مدت 3 مئی کو ختم ہو رہی تھی۔

حکومت نے اس اعلان کے ساتھ ہی اقتصادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام اضلاع کو گرین، اورینج اور ریڈ زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گرین زون میں پابندیاں کم اور ریڈ زون میں زیادہ ہوں گی۔

وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق، غیر ضروری سرگرمیوں کے لیے لوگوں کی آمد و رفت شام سات بجے سے صبح کے سات بجے تک معطل رہے گی۔

بیان کے مطابق، اس پوری مدت میں 65 سال کی عمر سے اوپر کے بزرگ، بچے اور حاملہ خواتین گھروں میں رہیں گی۔ ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

آخری رسوم کی ادائیگی میں 20 سے زائد افراد کی شرکت کی اجازت نہیں ہوگی اور شادیوں میں زیادہ سے زیادہ 50 افراد شریک ہو سکیں گے۔

گرین زون میں پان اور شراب کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ گرین زون میں گھریلو ملازموں کی آمد و رفت کی بھی اجازت ہوگی۔

اورینج زون میں فور وہیلر پر ڈرائیور سمیت تین اور ٹو وہیلر پر دو افراد کی اجازت ہوگی۔ اسی شرط کے ساتھ بین الاضلاعی آمد و رفت کی بھی اجازت ہوگی۔

ہوائی، ریل اور میٹرو سروس اور بذریعہ سڑک بین الریاستی آمد و رفت پر تینوں زونس میں پابندی رہے گی۔ اسکول، کالج، ٹریننگ اور کوچنگ سینٹرس اور تعلیمی اداروں کے بھی کھلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہوٹل، ریسٹورینٹ، سنیما ہال، مالز اور جم بھی بند رہیں گے۔

ریڈ زون میں کچھ سرگرمیوں کی اجازت ہوگی جیسے کہ فور وہیلر میں ڈرائیور سمیت صرف دو افراد کی اجازت ہوگی، جبکہ ٹو وہیلر پر ایک ہی شخص جا سکے گا۔ دیہی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔

شہری علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں صرف اسپیشل اکانومک زون تک محدود رہیں گی۔ ضروری اشیا، ادویات اور ایکسپورٹ کی جانے والی اشیا کی مینوفیکچرنگ کی اجازت ہوگی۔

01:46 2.5.2020

بھارت: یوم مئی، کرونا اور بیروزگاری کی صورت حال

کروناوائرس کے سبب بھارت میں نافذ 40 روزہ لاک ڈاون نے جہاں عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، وہیں سب سے زیادہ متاثر وہ لاکھوں مزدور ہیں جو دیہی علاقوں سے دوسری ریاستوں میں جا کر کام کرتے ہیں۔

یوم مئی کے عالمی دن کے موقع پر، مزدور نیشنل ہائی وے 24 پر جو کہ کم از کم ایک درجن ریاستوں سے گزرتا ہے اور دوسری سڑکوں پر بھی لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ لاک ڈاون نے ان کی زندگی میں بری طرح اتھل پتھل مچا دی ہے اور وہ بے روزگاری کے شکار ہو کر بھوکے لوگوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔

مزدوروں کی متعدد تنظیموں کی جانب سے اس بار یوم مئی مختلف انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پروگراموں کا انعقاد تو ہو رہا ہے، لیکن ان میں سماجی فاصلے کا بھی خیال رکھا جا رہا ہے۔

مزدوروں کے لیے کام کرنے والوں کے ایک گروپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاون کے دوران مزدوروں اور گھروں میں کام کرنے والے ملازموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر یکم مئی بروز جمعہ صبح سے شام تک کا برت رکھیں۔

مزید پڑھیے

01:43 2.5.2020

پاکستان میں صلاحیت کے باوجود زیادہ ٹیسٹ کیوں نہیں ہو رہے؟

پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے روزانہ ہزاروں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ملک میں بتدریج ٹیسٹنگ کی استعدار کار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں ملک بھر میں ٹیسٹوں کی شرح کم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 82 ہزار 131 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جن میں سے 16 ہزار 817 کیس مثبت آئے ہیں۔ یوں ٹیسٹ مثبت آںے کی شرح لگ بھگ آٹھ فی صد ہے۔

پاکستان کو ابتداً ٹیسٹنگ کٹس نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب محض بیرون ملک سے آنے والوں کی صرف تھرمل اسکینگ کی جا رہی تھی۔

تاہم بعد میں چین اور دیگر ممالک سے پاکستان نے بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس درآمد کیں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ٹیسٹنگ کٹس وافر مقدار میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG