رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: پاکستان میں صلاحیت کے باوجود ٹیسٹ کیوں نہیں ہو رہے؟


(فائل فوٹو)

پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے روزانہ ہزاروں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ملک میں بتدریج ٹیسٹنگ کی استعدار کار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں ملک بھر میں ٹیسٹوں کی شرح کم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 82 ہزار 131 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جن میں سے 16 ہزار 817 کیس مثبت آئے ہیں۔ یوں ٹیسٹ مثبت آںے کی شرح لگ بھگ آٹھ فی صد ہے۔

پاکستان کو ابتداً ٹیسٹنگ کٹس نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب محض بیرون ملک سے آنے والوں کی صرف تھرمل اسکینگ کی جا رہی تھی۔

تاہم بعد میں چین اور دیگر ممالک سے پاکستان نے بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس درآمد کیں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ٹیسٹنگ کٹس وافر مقدار میں موجود ہیں۔

پاکستان میں روزانہ ہونے والے ٹیسٹس کی تعداد کا جائزہ لیں تو وزارت صحت کے مطابق اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 82 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

پنجاب میں سب سے زیادہ 79,914 ٹیسٹ ہوئے، یہاں روزانہ دو سے ڈھائی ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ سندھ میں جمعرات کو 3729 ٹیسٹ اور مجموعی طور پراب تک 51 ہزار 790 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 730 جب کہ مجموعی طور پراب تک 10 ہزار 435 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں عام طور پر روزانہ ایک ہزار ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور تک مجموعی طور پر17 ہزار 452 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں ایک دن میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعد 316 اور اب تک مجموعی طور پر 8820 ٹیسٹ ہوئے۔

گلگت بلتستان میں اب تک 3791 ٹیسٹ کیے گئے، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک مجموعی طور پر 1958 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کے ڈاکٹر ممتاز کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 20 سے 25 ہزار ہو چکی ہے۔ پاکستان کے پاس ٹیسٹنگ کٹس بھی وافر تعداد میں موجود ہیں۔

پاکستان کی صلاحیت اگرچہ 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ کرنے کی ہے لیکن ابھی بھی روزانہ لگ بھگ آٹھ ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

صوبوں میں کرونا ٹیسٹنگ کی کیا صورتِ حال آئیں جانتے ہیں۔

سندھ کی صورتِ حال

پاکستان کا صوبہ سندھ کرونا کے حوالے سے سب سے پہلے اقدامات کرنے والا صوبہ ہے۔ جہاں کرونا کا پہلا مثبت کیس سامنے آیا تھا۔

صوبہ سندھ میں کرونا وائرس کے اب تک چھ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اور یہ تعداد ملک بھر میں کسی بھی صوبے میں دوسرے نمبر پر ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اب تک 117 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک اور 1284 صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے محمد ثاقب کے مطابق اس وقت صوبے میں کرونا ٹیسٹ کے 11 مراکز قائم ہیں۔ جن میں سے نو کراچی جب کہ ایک ضلع خیرپور کے علاقے گمبٹ اور ایک حیدرآباد کی لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں واقع ہے۔

صوبے بھر کے 29 اضلاع میں 68 چھوٹے بڑے آئسولیشن مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں آبادی کے تناسب سے سندھ میں ٹیسٹنگ کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ صوبے میں کیے جانے والے ٹیسٹس کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی سب سے زیادہ قابل بھروسہ قرار دیا تھا۔

گزشتہ 18 روز میں صوبے میں کرونا ٹیسٹ کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس دوران کرونا ٹیسٹ کی استعداد کار 500 سے بڑھا کر 2500 ٹیسٹ یومیہ تک کر دی ہے۔ جسے مزید بڑھانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

پنجاب میں ٹیسٹنگ کی استعداد کار

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق اِس وقت اُن کے پاس روزانہ کی بنیاد پر صوبہ بھر میں کرونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت پانچ ہزار سے زائد کی ہے۔ لیکن روزانہ اس تعداد میں ٹیسٹ نہیں ہو رہے۔

محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے ترجمان حافظ قیصر عباس کے مطابق صوبہ بھر میں روزانہ تقریباً دو ہزار کے قریب ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کم ہونے کی وجہ ترجیحی بنیادوں پر تبلیغی جماعت اور بیرون ممالک سے آنے والے افراد کے ٹیسٹ کرنا ہے۔

ترجمان کے مطابق اب محکمہ صحت مختلف علاقوں میں یا وہ علاقے جہاں وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے، وہاں بھی اسمارٹ ٹیسٹنگ کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ جن علاقوں میں کرونا کا پھیلاؤ نہیں ہے، وہاں سے بھی نمونے لے کر ٹیسٹ کرنے کا عمل جاری ہے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ چند روز میں پنجاب میں روزانہ سات ہزار تک ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مزید لیبارٹریاں قائم کرنے کی اجازت مل گئی، ٹیسٹںگ کی شرح مزید بڑھ جائے گی۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے ضیاء الرحمن کے مطابق پنجاب میں حکومتی اسپتالوں کے ساتھ نجی شعبہ میں بھی کرونا کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ جن میں شوکت خانم میموریل اسپتال لیبارٹری، چغتائی لیبارٹری اور مغل لیبارٹریز شامل ہیں۔

مذکورہ لیبارٹریز روزانہ کی شرح پندرہ سو ٹیسٹ ہے۔ محکمہ صحت نے بتایا کہ سرکاری سطح پر کسی بھی شخص کے ٹیسٹ سے انکار نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی جگہ کرونا کا مشتبہ مریض سامنے آتا ہے تو اُس کا مفت ٹیست کیا جاتا ہے۔ صوبہ کے ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں سرکاری سطح پر کرونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

خیبرپختونخوا میں کتنے ٹیسٹ ہو رہے ہیں؟

خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر کرونا وائرس ٹیسٹنگ کی شرح کم ہے۔ اس ضمن میں سوات میں ایک نجی لیبارٹری کو بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔

مجموعی طور پر نجی شعبے میں تین اداروں کو ٹیسٹ کرنے کی اجازت ہے۔ پشاور کے رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور نارتھ ویسٹ اسپتال کو پہلے ہی سے کرونا ٹیسٹ کرنے کی اجازت ہے۔ شوکت خانم اسپتال کی پشاور برانچ بھی تجزیے کے لیے نمونے جمع کرتی ہے۔

بلوچستان کے کان کنوں کی پریشانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:34 0:00

وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق خیبر پختونخوا میں پشاور کی خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ٹیسٹنگ سہولت موجود ہے۔

سوات کے سیدو شریف اسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان کے مفتی محمود اسپتال اور ایبٹ آباد کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی سہولیات اور انتظامات بھی موجود ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابتدائی دنوں میں صوبے میں روزانہ کی بنیادوں پر صرف 20 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا سکتے تھے۔ مگر اب صوبے بھرمیں یہ تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

بلوچستان میں کتنے ٹیسٹ ہو رہے؟

وائس آف امریکہ نمائندے عبدالستار کاکڑ کے مطابق صوبہ بلوچستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 1031 ہوگئی ہے جبکہ صوبے میں کرونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت تقریباً 800 ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان کرونا وائرس سیل کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کہتے ہیں کہ اس وقت بلوچستان میں کوئٹہ میں سول اسپتال، اور فاطمہ جناح ٹی بی سینٹوریم میں کرونا ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

تفتان بازار میں بھی وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر اب تک 24 ہزار 145 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG