رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:02 2.5.2020

کرونا وائرس: امریکہ میں بندش سے جان کب چھوٹے گی؟

ایسے میں جب کرونا وائرس کا آسیب دنیا بھر میں لوگوں کا پیچھا کر رہا ہے، امریکہ میں بھی اس حوالے سے لاک ڈاؤن کا مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اقتصادی بحران اور بیروزگاری بھی جاری ہے۔

معمول کی اقتصادی سرگرمی کی بحالی آج تک کوسوں دور نظر آرہی ہے اور بے یقینی کی فضا میں لوگوں کی اگتاہٹ میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اور آبادی کا وہ حصہ جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھروں کا خرچہ چلا رہا تھا، نہایت ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے لئے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار پیٹسی ویڈا کوسورا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی اور معیشت کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ صدر نے ریاستوں پر چھوڑ دیا ہے۔

تاہم، سماجی فاصلے کے لئے جو رہنما اصول جاری کئے گئے تھے، جمعرات کو ان کی معیاد ختم ہوگئی اور صدر ٹرمپ نے ان کی توسیع کا اعلان نہیں کیا، بلکہ اس خوش امیدی کا اظہار کیا کہ ریاستیں ازخود پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ لیکن، صحت عامہ کے بعض ماہرین کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ کھولنے کے ممکنہ نتائج کے پیش نظر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

02:00 2.5.2020

کرونا بحران میں کاروبار آن لائن ٹیکنالوجی سے کہاں تک مستفید ہو رہے ہیں؟

کاروباری دنیا میں جدت اور تبدیلی کا اپنانا ایک لازمی جُزو سمجھا جاتا ہے اور کرونا وائرس کے بحران میں لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے قائم رکھنے کی پابندیوں کی وجہ سے کاروباری کمپنیوں اور کارکنان کا آن لائن ٹیکنالوجی کے استعمال پر انحصار کئی گنا بڑھ گیا ہے۔

اقتصادی تحقیق کے قومی بیورو کے مطابق، امریکہ میں اس وقت 37 فیصد ملازمتیں گھروں سے کام کرکے سرانجام دی جا سکتی ہیں۔

دوسری طرف، کووڈا 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال کے نتیجے میں تین کروڑ امریکی بے روزگار ہو چکے ہیں۔

کاروبار کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو 'والٹ ہب' نامی تنظیم کے ایک سروے کے مطابق، کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں 87 فیصد چھوٹے پیمانے کے بزنس نقصان برداشت کر رہے ہیں، جبکہ 35 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ تین ماہ سے زیادہ نہیں چل سکیں گے۔

لیکن، واشنگٹن ایریا کی ایک کاروباری تنظیم، ایشیائی امریکی چیمبر آف کامرس کی سربراہ، ڈاکٹر سینڈی شاو کہتی ہی کہ موجودہ صورتحال کارکنان اور کاروبار کے مالکان کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ساتھ ہی ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیے

01:53 2.5.2020

کیا ڈزنی کے تفریحی پارکوں کی رونقیں لوٹ سکیں گی؟

کرونا وائرس سے جن بڑے کاروباروں کو شدید دھچکا لگا ہے، ان میں ڈزنی کے تفریح پارک بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، 2019 میں ڈزنی نے 6 ارب 80 کروڑ ڈالر کا منافع کمایا تھا، جب کہ موجودہ سال کا تخمینہ 500 ملین ڈالر اور اگلے سال کا محض 200 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ ڈزنی فلمیں اور کئی دوسری مصنوعات بھی تیار کرتا ہے۔

والٹ ڈزنی کے دنیا کے کئی ملکوں میں تفریحی پارک ہیں جو عالمی وبا کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ حال ہی میں ڈزنی نے شنگھائی میں قائم اپنے تفریحی پارک کو محدود پیمانے پر عوام کے لیے کھولنے کا تجربہ کیا ہے۔

اس موقع پر داخلے کے دروازوں پر ماضی کے برعکس لوگوں کی روایتی لمبی قطاریں نظر نہیں آئیں۔ پارک میں آنے والوں کے لیے ہدایت تھی کہ وہ ایک دوسرے سے 6 فٹ کے فاصلے پر رہیں اور اپنے چہرہ ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں۔

مزید پڑھیے

01:49 2.5.2020

بھارت میں اپریل کے دوران ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی

عام حالات میں اس سے زیادہ عجیب کوئی خبر نہیں ہوسکتی تھی کہ ایک ارب 38 کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں اپریل کے 30 دنوں میں ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی۔ لیکن کرونا وائرس بحران میں اس پر حیرت کا کوئی سوال نہیں۔

بھارت میں گاڑیاں بنانے والے سب سے بڑے ادارے، ماروتی سوزوکی انڈیا نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ اپریل میں مقامی سطح پر اس کا ایک بھی یونٹ فروخت نہیں ہوا۔ گزشتہ ماہ پورے بھارت میں لاک ڈاؤن تھا اور آٹو کمپنیوں کے پیداواری یونٹ بند رہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مندرا بندرگاہ پر کام شروع ہونے کے بعد اس نے 632 گاڑیاں درآمد کی ہیں اور اس سلسلے میں تمام احتاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔

ایم جی موٹرز نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ اپریل میں ڈیلرشپ کی بندش کے باعث اس کی ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوسکی۔

مہندرا اینڈ مہندرا نے بھی مقامی سطح پر کوئی گاڑی فروخت نہیں کی۔ لیکن، اس نے اپریل میں 733 گاڑیاں برآمد کی ہیں۔
مارچ کے دوران بھارت میں ایک لاکھ 97 ہزار اور فروری میں 3 لاکھ 71 ہزار گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔ 2018 کے دوران 44 لاکھ اور 2019 میں 38 لاکھ گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔

پاکستان میں بھی اس عرصے میں لاک ڈاؤن تھا۔ لیکن اپریل کے اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے۔ مارچ میں ملک بھر میں 7264 اور فروری میں 12521 گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔

امریکہ اور یورپ کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن، ان میں گاڑیوں کی فروخت صفر نہیں ہوئی۔ امریکہ کی کئی ریاستیں کھلی رہیں اور وہاں نئی گاڑیاں خریدی جاتی رہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں 50 سے 60 فیصد کمی آئی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG