رسائی کے لنکس

logo-print

کیا ڈزنی کے تفریحی پارکوں کی رونقیں لوٹ سکیں گی؟


شنگھائی میں والٹ ڈزنی کا تفریحی پارک کھول دیا گیا ہے۔ تاہم، مہمانوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کرونا وائرس سے جن بڑے کاروباروں کو شدید دھچکا لگا ہے، ان میں ڈزنی کے تفریح پارک بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، 2019 میں ڈزنی نے 6 ارب 80 کروڑ ڈالر کا منافع کمایا تھا، جب کہ موجودہ سال کا تخمینہ 500 ملین ڈالر اور اگلے سال کا محض 200 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ ڈزنی فلمیں اور کئی دوسری مصنوعات بھی تیار کرتا ہے۔

والٹ ڈزنی کے دنیا کے کئی ملکوں میں تفریحی پارک ہیں جو عالمی وبا کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ حال ہی میں ڈزنی نے شنگھائی میں قائم اپنے تفریحی پارک کو محدود پیمانے پر عوام کے لیے کھولنے کا تجربہ کیا ہے۔

اس موقع پر داخلے کے دروازوں پر ماضی کے برعکس لوگوں کی روایتی لمبی قطاریں نظر نہیں آئیں۔ پارک میں آنے والوں کے لیے ہدایت تھی کہ وہ ایک دوسرے سے 6 فٹ کے فاصلے پر رہیں اور اپنے چہرہ ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں۔

داخلے کے دروازوں پر موجود ڈزنی کے عملے کے ارکان کے پاس دور سے درجہ حرارت نوٹ کرنے والے تھرما میٹر تھے۔ انہوں نے دستانے پہن رکھے تھے اور ان کے پاس سینی ٹائزرز کی بوتلیں تھیں۔ وہ لوگوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ اپنے ہاتھوں کو سینی ٹائز کرنے کے بعد پارک میں داخل ہوں۔

شنگھائی میں ڈزنی کے تھیم پارک دوبارہ کھلنے کے موقع پر عملے کے ارکان مرکزی دروازے کے پاس ماسک پہنے کھڑے ہیں۔
شنگھائی میں ڈزنی کے تھیم پارک دوبارہ کھلنے کے موقع پر عملے کے ارکان مرکزی دروازے کے پاس ماسک پہنے کھڑے ہیں۔

پارک کے اندر کی صورت حال بھی ماضی سے یکسر مختلف تھی۔ کسی رائیڈ پر کوئی لائن نہیں تھی۔ پارک میں آنے والوں سے کہا گیا تھا کہ وہ جس رائیڈ پر جانا چاہتے ہیں، اس کا ایپ پر اندارج کرا لیں۔ ایپ کے ذریعے ہی انہیں اپنی باری کی اطلاع مل جائے گی۔ رائیڈز میں بھی سماجی فاصلہ قائم رکھا گیا تھا۔

چین میں کرونا وائرس پر قابو پا لینے کے بعد کاروبار کھول دیے گئے ہیں اور روزمرہ زندگی کے معمولات بحال ہو گئے ہیں۔ تاہم، احتیاطی تدابیر جاری رکھی گئی ہیں تاکہ مہلک وبا دوبارہ حملہ نہ کر دے۔ شنگھائی میں ڈزنی کا تفریحی پارک کھولنا بھی اس سلسلے کا ایک حصہ ہے۔ ڈزنی کی انتظامیہ اس تجربے سے سیکھ رہی ہے تاکہ، ان ملکوں میں جہاں اس کے پارک ہیں، جب کاروبار کھلیں گے تو وہاں تفریحی پارکوں کی سرگرمیوں کو کس طرح بحال کیا جائے گا۔

شنگھائی کے تفریحی پارک کا ایک اور منظر، ماضی کی بھیڑ بھاڑ دکھائی نہیں دے رہی۔
شنگھائی کے تفریحی پارک کا ایک اور منظر، ماضی کی بھیڑ بھاڑ دکھائی نہیں دے رہی۔

ڈزنی کے تھیم پارک ڈیزائن کرنے والے ہٹما گروپ کے بانی فل ہٹما نے کہا ہے کہ یہ تفریحی پارک انڈسٹری کی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ وہ وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد اپنی سرگرمیاں کیسے بحال کرے۔

ڈزنی کے ایکزیکٹو چیئرمین باب ایگر نے فی الحال امریکہ میں اپنے پارک کھولنے کی کسی تاریخ کا اعلان تو نہیں کیا۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ پارک میں داخل ہونے والوں کا ٹمپریچر چیک کرنا ہمارا روزمرہ کا معمول بن جائے گا۔

پارک کے ایک اور اعلیٰ عہدے دار نے بتایا کہ پارک میں ماسک پہننا ہر مہمان کے لیے لازمی ہو گا اور اسے سماجی فاصلے کے قواعد پر بھی عمل کرنا ہو گا۔ رائیڈز پر قطاریں نہیں لگیں گی اور انہیں ایپ کے ذریعے اپنی باری کی اطلاع دی جائے گی۔ مہمان انتظار کا وقت پارک میں گھوم پھر کر یا ریستوران میں بیٹھ کر گزار سکتا ہے۔ تاہم تمام جگہوں پر سماجی فاصلے کی پابندی کرنا ہو گی۔

ان دنوں جب کہ پارک بند ہیں، ڈزنی نے اپنے کرداروں مثلاً مکی ماؤس وغیرہ کو سامنے رکھتے ہوئے فروخت کے لیے مخصوص ڈیزائنز کے ماسک بنانے شروع کر دیے ہیں، جس کے منافع کا کچھ حصہ کرونا وائرس کے فنڈ میں جائے گا۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ احتیاطی اقدامات کے ساتھ ڈزنی اتنے افراد کو اپنے تفریحی پارکوں میں آنے کی اجازت دے پائے گی کہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکے۔ تھیمڈ انٹرٹینمنٹ ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2018 میں 15 کروڑ 75 لاکھ افراد ڈزنی کے تفریحی پارکوں میں گئے تھے۔ ڈزنی کے اخراجات اس صورت پورے ہو سکتے ہیں جب پارک کی گنجائش کے لحاظ سے کم ازکم 50 فی صد لوگ وہاں جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG