ٹرمپ کا رواں برس کے اختتام تک کرونا ویکسین کی تیاری کا وعدہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے باقاعدہ طور پر انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کے آغاز پر انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ رواں برس کے اختتام تک کرونا وائرس کے علاج کے لیے ویکسین تیار کر لی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کا آغاز اتوار کو 'فاکس نیوز' کو دیے گئے ایک انٹرویو سے کیا۔ انٹرویو کے لیے انہوں نے لنکن میموریل کے اندرونی احاطے کا انتخاب کیا۔
صدر ٹرمپ نے عوام سے وعدہ کیا کہ رواں برس کے اختتام تک کرونا وائرس کی ویکسین تیار کر لی جائے گی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ عالمی وبا سے پھیلنے والی مایوسی کو ترک کریں اور شاندار مستقبل کی طرف دیکھیں۔
دو گھنٹے طویل اس انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے زیادہ وقت کرونا وائرس اور اس سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر صرف کیا۔
پاکستان میں کیسز 20 ہزار سے بڑھ گئے
بالی ووڈ فنکاروں کا ہیلتھ ورکز کے لیے امدادی ورچوئل شو
اتوار کے روز بالی ووڈ کے دو بڑے فلم ڈائریکٹروں نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہیلتھ ورکز کے لیے فنڈ اکھٹے کرنے ایک جدید انداز اپنایا۔ اس چیرٹی شو کا نام تھا، 'آئی فار انڈیا'، جسے فیس بک پر لائیو دیکھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
بھارتی ہدایت کار کرن جوہر اور زویا اختر نے کرونا وائرس کے خلاف نبرد آزما ہیلتھ ورکرز کے لیے یہ شو کیا، جس میں فلمی صنعت کے نامور فنکاروں نے شرکت کی۔ شو کا مقصد ہیلتھ ورکز کے لیے فندز جمع کرنا تھا۔
اس ورچوئل شو میں بالی وڈ کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی اہم فنکاروں نے حصہ لیا۔ یہ شو فیس بک اپنی لائیو سٹریم پر دنیا بھر کے لیے پیش کر رہا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس شو سے اکھٹی ہونے والی رقم بھارت کے ریلیف فنڈ میں دی جائے گی، جسے ہیلتھ کیر ورکرز کے لیے حفاظتی کٹس، غیر ملکی مزدوروں کو خوراک، راشن اور نقد رقم فراہم کی جائے گی۔
یہ ورچوئل کنسرٹ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ جاری ہے۔ اتوار کی سہ پہر تک ملک میں مصدقہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 42 ہزار اور ہلاکتیں تقریباً 1400 کے قریب تھیں۔ بھارت میں لاک ڈاون کی مدت میں بھی توسیع کر دی گئی ہے۔
کرونا وائرس کے ووہان کی تجربہ گاہ سے نکلنے کے شواہد ہیں، پومپیو
امریکی وزیر خارجہ نے چین پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بہت تاخیر سے وائرس پھیلنے کی اطلاع دنیا کو دی تھی۔ اگر وہ پہلے باخبر کر دیتا تو اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہ ہو تیں۔ اس نے عالمی ادارہ صحت کو بھی اپنے اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کے روز کہا کہ بہت سی شہادتیں ایسی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ کرونا وائرس کا وبائی مرض کسی بازار سے نہیں بلکہ چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری سے نکلا۔ تاہم انہوں نے یہ کہنے سے احتراز کیا کہ آیا یہ فعل ارادی تھا یا حادثاتی۔
پچھلے ہفتے امریکی انٹیلی جینس کے حکام نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں کہ ابتدائی طور پر یہ وائرس کسی جنگلی جانور سے انسان کو لگا تھا یا یہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائیرا لوجی سے حادثاتی طور پر باہر آیا۔
امریکی ٹی وی، اے بی سی نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ یاد رکھنا چاہیے کہ چین کی دنیا کو انفیکٹ کرنے اور غیر معیاری تجربہ گاہوں کی تاریخ موجود ہے۔ دنیا کو یہ تجربہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بہت سے شواہد کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وائرس ووہان کی تجربہ گاہ سے نکلا جہاں چمگادڑوں میں اس وائرس کی موجودگی پر تحقیق ہو رہی تھی۔
پومپیو نے کہا کہ انہیں امریکی انٹیلی جینس کی اس تحقیق پر کوئی شک نہیں کہ یہ نہ انسان کا بنایا ہوا ہے اور نہ یہ جینیاتی طور تبدیل کیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ نے چین پر الزام لگایا کہ اس نے دنیا کو بہت تاخیر سے یہ اطلاع دی کہ کرونا وائرس پھیل چکا ہے۔ اگر وہ پہلے باخبر کر دیتا تو اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہ ہوتیں۔ اس نے عالمی ادارہ صحت کو بھی اپنے اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ امریکی یا بین الاقوامی سائنس دانوں کو ووہان لیبارٹری جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی چین نے اصلی وائرس کا نمونہ فراہم کیا۔ اس طرح چین نے دنیا کو اس وائرس کے ماخذ کے بارے مزید تحقیق کرنے سے روکنے کی تحریک چلائی۔
وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ہم ذمہ داری کا تعین اور جواب دہی کریں گے۔ اس جواب دہی کے لیے وقت کا تعین ہم خود کریں گے۔