رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:07 4.5.2020

کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک

12:04 4.5.2020

پاکستان میں سب سے زیادہ مریض پنجاب میں زیر علاج

کیسز

زیر علاج

ہلاکتیں

صحت یاب

پنجاب

752447331242667

سندھ

746557801301555

خیبرپختونخوا

31292138180811

بلوچستان

1218100021197

گلگت بلتستان

3641013260

کشمیر

7127044

اسلام آباد

415355456

11:44 4.5.2020

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 35 لاکھ 67 ہزار سے متجاوز

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 35 لاکھ 67 ہزار سے متجاوز ہو گئی جب کہ سب سے زیادہ متاثرہ افراد امریکہ میں 11 لاکھ 88ہزار ہیں۔

وبا سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے والی ویب سائٹ 'ورلڈو میٹرز' کے مطابق امریکہ کے بعد سب سے زیادہ مریضوں کی تعداد اسپین میں 2 لاکھ 47 ہزار، اٹلی میں 2 لاکھ 10ہزار، برطانیہ میں ایک لاکھ 86 ہزار، فرانس میں ایک لاکھ 68ہزار جب کہ جرمنی میں ایک لاکھ 65ہزارافراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

روس میں حکام نے ایک لاکھ 34 ہزار، ترکی میں ایک لاکھ 26ہزار، برازیل میں ایک لاکھ ایک ہزار، ایران میں 97ہزار جب کہ چین میں 82 ہزار افراد کے وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کا آغاز چین سے ہوا تھا۔ جہاں ہوبے صوبے کے شہر ووہان سے یہ وائرس دنیا بھر میں دسمبر 2019 میں پھیلا تھا۔

11:37 4.5.2020

لاک ڈاؤن نے خیبرپختونخوا کے مقامی فن کاروں کو مایوس کر دیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس کے باعث پاکستان ميں جاری لاک ڈاؤن نے جہاں ديگر شعبہ ہائے زندگی کو جکڑ کر رکھ ديا ہے وہیں صوبہ خيبر پختونخوا ميں فن و ثقافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے فن کار ان دنوں شديد کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہيں۔

شادی بياہ اور ديگر تقريبات سميت ہر قسم کی سرگرميوں پر پابندی کے باعث فن کاروں کے گھروں ميں تنگ دستی نے ڈيرے ڈال لیے ہيں۔

فياض خان کا تعلق صوبہ خيبر پختونخوا کی خوبصورت وادی سوات سے ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کرونا وبا کے بعد خوف کی وجہ سے تمام محفليں بند ہيں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ اکثر لوگ موسيقی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ديگر اضلاع سے اس وادی کا رُخ کرتے تھے ليکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب وہ بھی نہيں آسکتے اور نہ ہم کہيں جا سکتے ہيں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG