رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:39 4.5.2020

بھارت میں لاک ڈاون میں مزید دو ہفتوں کی توسیع

بھارت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاون میں دو ہفتوں کی توسیع کی گئی ہے۔

لاک ڈاون کا تیسرا مرحلہ آج سے شروع ہو گیا ہے جو 17 مئی تک چلے گا۔

اس دوران کرونا کے مثبت کیسز میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں کل مثبت کیسز کی تعداد 42456 جب کہ اموات 1390 تک پہنچ گئی ہیں۔

حکام کے مطابق 11442 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

تیسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن میں ملک کو تین زون ریڈ، اورینج اور گرین میں تقسیم کیا گیا ہے۔

گرین اور اورینج زون میں پابندیاں کافی نرم کی گئی ہیں جب کہ ریڈ زون میں پابندیاں برقرار ہیں۔

13:28 4.5.2020

وائرس کا شکار ایک اور ڈاکٹر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہلاک

کراچی میں کرونا وائرس کا شکار ایک اور ڈاکٹر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہلاک ہو گیا۔

ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کی موت بروقت علاج نہ ہونے کے باعث ہوئی۔

ان کے بقول ملک بھر میں یہ پانچویں ڈاکٹر ہیں جو کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 200 کے لگ بھگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر فرقان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سے ریٹائر ہونے کے بعد ضیا الدین اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

ان کا شمار شہر کے معروف ریڈیولوجسٹ اور سینئر ڈاکٹرز میں ہوتا تھا۔

ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ چار روز قبل انہیں سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد کرونا کی تشخیص ہوئی۔ انہیں گھر پر ہی قرنطینہ کیا گیا تاہم اتوار کے روز طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں کئی اسپتالوں میں لے جایا گیا جہاں کرونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کی سہولت موجود تھی لیکن ایمرجنسی روم میں وینٹیلیٹر خالی نہ ہونے کےباعث انہیں دوسرے اسپتال جانے کا مشورہ دیا جاتا رہا اور دو گھنٹے سے زائد ایمبولینس میں وقت گزارنے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔

دوسری جانب ڈاکٹر فرقان کے ایک اور قریبی رشتے دار نے بتایا کہ کرونا کی تشخیص کے باوجود ڈاکٹر فرقان سماجی دباؤ بڑھنے کے باعث اپنی بیماری ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ شروع میں اسپتال جانے سے گریز کرتے رہے تاہم آخری روز ان کی حالت بگڑنے پر جب انہیں اسپتال لے جایا گیا تو اس دوران شہر بھر میں کرونا مریضوں کو رکھنے والے اسپتالوں میں آئی سی یو میں کوئی بستر خالی نہ ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر وینٹی لیٹر پر نہ رکھا جاسکا۔

کراچی میں اس سے قبل ڈاکٹر عبدالقادر سومرو بھی کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ گلگت، راولپنڈی، پشاور میں بھی ایک ایک ڈاکٹر کی کرونا کے باعث ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

13:07 4.5.2020

خیبر پختونخوا: طبی عملے میں شامل مزید 8 اہلکار کرونا سے متاثر

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق مزید 8 نرسز کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صوبے میں وبا سے متاثرہ نرسز کی تعداد 48 ہو گئی ہے۔

نرسنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 8 نرسز کے ٹیسٹ پازیٹیو آنے کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2 مئی تک صوبے میں 40 نرسز کرونا سے متاثر تھے۔ اب متاثرہ نرسز کی تعداد 48 ہو چکی ہے۔ متاثرہ نرسز میں 25 میل جب کہ 23 فی میل ہیں۔

ڈاکٹروں کی انجمن نے بھی صوبے میں کرونا سے متاثرہ ڈاکٹروں کی تعداد ایک درجن سے زائد بتائی ہے۔

12:44 4.5.2020

'کسی چیز میں شفافیت نہیں ہے'

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات سامنے آئے گی۔ کسی چیز میں شفافیت نہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کرونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ماسک اور گلوز کیلئے کتنے پیسے خرچ کرنے کے لیے چاہیے۔ اگر بڑی تعداد میں خریدا جائے تو دو روپے کا ماسک ملتا ہے۔ ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ادارے کیا کام کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری ہیلتھ سے حاجی کیمپ کے قرنطینہ سینٹر کے بارے میں استفسار تو ان کا کہنا تھا کہ جی میں وہاں گیا تھا بیڈز اور پانی موجود تھا لیکن بجلی نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ حاجی کیمپ کو قرنطینہ سینٹر کس نے بنایا؟ جس پر سیکرٹری صحت کا جواب تھا کہ این ڈی ایم اے نے بنایا تھا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ این ڈی ایم اے کی رپورٹ آئی ہے لیکن ان کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ کسی چیز میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔

بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تعاون نہ ہونے کی وجہ غرور اور انا ہے۔

ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں کورونا کے حوالے سے یکساں پالیسی بنائی جائے۔ یکساں پالیسی نہ بنی تو عبوری حکم جاری کریں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG