وبا کے باعث افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی تیز ہونے کا امکان
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ افغانستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے امریکی فورسز کی واپسی کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ پھر چاہے بین الافغان مذاکرات میں خاطر خواہ کامیابی نہ بھی ملے، تب بھی یہ عمل جاری رہنے کی توقع ہے۔
پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران ملیحہ لودھی نے کہا کہ دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح افغانستان کو بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس وقت افغانستان میں دو سیاسی متحارب فریق شراکت اقتدار کے کسی معاملے پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔
ان کے نزدیک بین الافغان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ ہے۔ ان کے نزدیک مذاکرات شروع نہ ہونے کی ایک اور وجہ صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان چپقلش ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا جس کے بدلے میں طالبان افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرنے کے پابند تھے۔ جس کے بعد بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا۔ لیکن یہ عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے اورنہ ہی بین الافغان مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس: کئی ممالک میں صحافیوں کو مشکلات کا سامنا
صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے صحافیوں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لہذا صحافیوں کے لیے مشکلات کی بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں کیوں کہ صحافی بھی دیگر فرنٹ لائنرز کی طرح اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی شہر نیویارک میں 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کی ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایڈووکیسی کیری پیٹرسن کا کہنا تھا کہ بہت سی حکومتیں کرونا وائرس کی صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
کیری پیٹرسن کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اصل تصویر سامنے آ رہی ہے کہ کس طرح حکومتیں صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہے اور حقیقی معلومات کو لوگوں کے سامنے نہیں لاتیں۔
ان کے بقول صحافی لوگوں کے فائدے کی معلومات سامنے لا رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنا کام جاری رکھیں۔
زیادہ فرینچ فرائز کھائیں، بیلجیم کے شہریوں سے اصرار
کرونا وائرس اور فرینچ فرائز کا بظاہر کوئی واسطہ نہیں لیکن بیلجیم میں زیادہ سے زیادہ فرائز کھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ساتھ ہی آلو کے کاشت کاروں اور فرائز تیار کرنے والے پروسیسنگ پلانٹس پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے سبب آلو کی طلب میں کمی کو دور کرنے کے لیے ہر ہفتے اضافی مقدار میں فرائز بنائیں۔
بیلجیم میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیفے اور ریستوران بند ہیں جس کے نتیجے میں فرائز کی طلب میں 80 فی صد کمی ہو گئی ہے۔
کیا ڈاک کھولنے سے کرونا وائرس لگ سکتا ہے
سانس کے ذریعے منتقل ہونے والا یہ مہلک وائرس کسی بھی چیز پر کئی دن تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کو چھوتا ہے، جس پر وائرس موجود ہو، تو وہ اس کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے اور جب وہ اپنے چہرے کو ہاتھ لگاتا ہے تو جراثیم سانس کے ذریعے جسم کے اندر چلا جاتا ہے۔
کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت اور اس کی ہلاکت خیزی کے باعث ہر شخص غیر معمولی احتیاط سے کام لے رہا ہے، اور خاص طور پر گھر سے باہر چیزوں کو چھونے سے اجتناب کر رہا ہے تاکہ یہ وائرس اسے منتقل نہ ہو۔
اکثر لوگوں کا یہ خدشہ بجا ہے کہ کرونا خط اور ڈاک کے پیکٹوں پر بھی موجود ہو سکتا ہے اور اسے چھونے سے منتقلی کا خطرہ ہے۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت اور بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی مراکز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابھی تک انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ ڈاک کو چھونے سے یہ مہلک وائرس کسی انسان میں منتقل ہوا ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اس وقت پھیلتا ہے جب وہ متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے اور لوگوں کے قریب سانس لینے یا اونچا بولنے سے منہ سے خارج ہونے والے آبی بخارات کے ذریعے فضا میں پھیل جاتا ہے اور جب کوئی دوسرا شخص وہاں سانس لیتا ہے تو وہ اس میں منتقل ہو جاتا یے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امکان بہت ہی کم ہے کہ کوویڈ 19 خطوں یا ڈاک کے پیکٹوں پر لمبے عرصے تک برقرار رہ سکتا ہیے اور جو کوئی انہیں چھوئے گا، اس میں منتقل ہو جائے گا۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ سب سے بہتر یہی ہے کہ ڈاک کو چھونے اور کھولنے کے دوران اپنے چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں اور جب آپ خط اور ڈاک کے پیکٹ کھول لیں تو اپنے ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔
طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ وبا کے دنوں میں آپ دن میں کئی بار صابن سے کم ازکم 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونا اپنا معمول بنا لیں۔ کیونکہ اس وقت مہلک وائرس سے محفوظ رہنے کا یہی آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔
دوسرے کاروباری اداروں کی طرح امریکہ کی پوسٹل سروس نے بھی اپنے دفاتر میں لوگوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پوسٹ آفس میں آتے وقت ایک دوسرے سے کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ قائم رکھیں