رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: کئی ممالک میں صحافیوں کو مشکلات کا سامنا


فائل فوٹو

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے صحافیوں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لہذا صحافیوں کے لیے مشکلات کی بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں کیوں کہ صحافی بھی دیگر فرنٹ لائنرز کی طرح اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی شہر نیویارک میں 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کی ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایڈووکیسی کیری پیٹرسن کا کہنا تھا کہ بہت سی حکومتیں کرونا وائرس کی صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

کیری پیٹرسن کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اصل تصویر سامنے آ رہی ہے کہ کس طرح حکومتیں صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہے اور حقیقی معلومات کو لوگوں کے سامنے نہیں لاتیں۔

ان کے بقول صحافی لوگوں کے فائدے کی معلومات سامنے لا رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنا کام جاری رکھیں۔

پاکستان میں صحافی بے نظیر شاہ نے پشاور میں قرنطینہ سینٹر کی خراب صورت حال پر ایک اخباری رپورٹ کو ٹوئٹ کیا تھا۔ جس پر صوبائی وزیر اور مرکزی حکومت کے حامیوں نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی طرح پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی گذشتہ ماہ سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی کہ کرونا وائرس سے متعلق رپورٹس کی اشاعت سے پہلے ان کی سرکاری کلیئرنس حاصل کی جائے۔ لیکن یہ درخواست رد کردی گئی۔ تاہم بھارت میں بھی پریس پر دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یورپی شہر پیرس میں قائم 'رپوٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کے ایشا ڈیسک کے سربراہ ڈینیل بسٹرڈ کا کہنا ہے بھارت اور پاکستان کے عہدے دار کرونا وائرس کے دور میں آزادی صحافت کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کی علامت ہے کہ عام حالات میں وہ ‘پریس فریڈم’ سے کیسے نمٹتے ہوں گے۔

ڈینیل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں حکومتوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ معلومات پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے۔ جس کے لیے دونوں ممالک مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

اکثر مین اسٹریم میڈیا سے ناراض رہنے والے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس سے متعلق اپنی کارکردگی پر امریکی میڈیا کی کوریج اور اٹھائے جانے والے سوالات سے بھی ناخوش ہیں اور اس بار ان کی ناراضگی کا نزلہ وائس آف امریکہ پر بھی گرا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق وائس آف امریکہ کرونا وائرس سے متعلق کوریج پر امریکی عوام کی آواز بننے کے بجائے چین اور ایران جیسی آمرانہ ریاستوں کی ترجمانی کر رہا ہے۔

وائس آف امریکہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر جانب دار اور صحافتی اصولوں کے تحت خبروں کا ہر رُخ پیش کر رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے میڈیا نمائندوں کے ساتھ رویوں پر بات کرتے ہوئے کیری پیٹرسن کا کہنا ہے کہ کئی سال کے پریس مخالف جذبات، صحافت اور صحافیوں کی ساکھ کو کمزور کرنے کی حقیقی کوششوں کے اثرات اب وسیع پیمانے پر دکھائی دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی لیڈر ایسا کرتا ہے تو اس کے براہِ راست اثرات نہ صرف صحافیوں پر پڑتے ہیں بلکہ اس پیغام پر بھی اثرات پڑتے ہیں جو وہ پہنچانا چاہتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے زندگی کے تمام شعبوں کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے میڈیا پر کسی نہ کسی طرح منفی اثر نمایاں طور پر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

آزادی صحافت کی علم بردار تنظیموں کا کہنا ہے کہ بہت سی حکومتیں کرونا وائرس کی آڑ میں آزاد صحافت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق اس وقت کئی ممالک میں صحافتی اداروں اور صحافیوں کو پابندیوں کے ساتھ حکام کی جانب سے سینسر شپ، ہراساں کیے جانے، جیل میں قید اور جبری گمشدگیوں جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ڈینیل بسٹرڈ کا کہنا ہے کہ اس کی پہلی مثال چین ہے جہاں کرونا وائرس سے متعلق آگہی پھیلانے والوں کو سینسر شپ اور دباؤ کی مدد سے چپ کرایا گیا۔ جس کی وجہ سے یہ وائرس مزید پھیلا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں بھی کم و بیش یہی صورت حال تھی۔ فلپائن، کمبوڈیا اور ہنگری میں کرونا وائرس کو سخت ترین قوانین لاگو کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکی اور تھائی لینڈ میں کئی صحافیوں کی گرفتاری عمل میں آئی ۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اس صورت حال میں حکومتوں کے سامنے کچھ مطالبات رکھے ہیں۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایسا ملک جہاں صحافی جیل میں قید ہیں ان کو فوری رہا کیا جائے۔

کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام حکومتوں سے یہ کہیں گے کہ وہ صحافیوں کے کام کا احترام کریں تاکہ ان کی معلومات تک رسائی ہو اور وہ سچ دکھا سکیں۔ اس کے علاوہ میڈیا اداروں کو بند نہ کریں اور صحافیوں کے پریس کارڈز معطل نہ کیے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG