کرونا وائرس سے اموات ڈھائی لاکھ، صحت یاب تقریباً 12 لاکھ
کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ ہو گئی ہے جب کہ 363 لاکھ افراد اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں مریضوں کی تعداد 12 لاکھ اور اموات 69 ہزار سے زیادہ ہیں۔ یورپ میں ہلاکتوں میں مسلسل کمی جاری ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق اب تک 212 ملکوں اور خود مختار خطوں میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ پیر کو دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 36 لاکھ 30 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 51 ہزار سے بڑھ چکی تھی۔
24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 306، برطانیہ میں 288، برازیل میں 263، اٹلی میں 195، بھارت میں 175، اسپین میں 164 اور کینیڈا میں 160 مریض چل بسے۔ میکسیکو میں یہ تعداد 93، سویڈن میں 90، بیلجیم میں 80، روس میں 76، ایران میں 74، ترکی میں 64، پرو میں 58 اور جرمنی میں 52 تھی۔
امریکہ میں پیر کی سہہ پہر 776 اموات ہو چکی تھیں جب کہ 19 ہزار نئے کیسز کا علم ہوا تھا۔ ملک میں اب تک کرونا وائرس کے 74 لاکھ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں 12 لاکھ سے کچھ زیادہ مثبت آئے ہیں۔
کرونا وائرس سے ایک لاکھ امریکی ہلاک ہوسکتے ہیں، صدر ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاستیں بتدریج لاک ڈاؤن ختم کرنے کے ساتھ عوام کو کرونا وائرس سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا سے امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
اتوار کی شب، لنکن میموریل میں منعقدہ ایک ورچوئل ٹاؤن ہال میں امریکیوں کی جانب سے کئے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ اس معاملے پر دونوں جانب کے خوف و خدشات اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ ایک جانب وہ لوگ ہیں جو اس وائرس سے بیمار ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں، دوسری جانب وہ ہیں جو اپنی ملازمتوں کے ختم ہونے کے بعد اپنی روزی روٹی کیلئے پریشان ہیں۔
صدر ٹرمپ نے وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے حوالے سے اپنے گزشتہ چند ہفتے کے تخمینے یعنی 60 ہزار میں ترمیم کرتے ہوئے اب اسے ایک لاکھ کے عدد تک بڑھا دیا ہے۔ جانز ہاپکنز یونیوسٹی کے ڈیٹا کے مطابق، اب تک وائرس سے 69 ہزار امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس: صدارتی انتخاب میں ٹرمپ اور بائیڈن کی الجھنیں
کرونا وائرس کے نتیجے میں دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح امریکہ میں بھی زندگی کے تمام اہم شعبوں پر گہرے اثرات بدستور جاری ہیں جن میں نومبر کا صدارتی انتخاب بھی شامل ہے۔ الیکشن کو جب کہ تقریبا چھ مہینے ہی رہ گئے ہیں، معمول کی سیاسی سرگرمیاں جو ایسے موقع پر دیکھنے آتی رہی ہیں، وہ لاک ڈاون کی وجہ سے عام نظر نہیں آ رہی اور بظاہر میڈیا خاص کر ٹیلی ویژن تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ملک میں جب کہ بعض کاروبار کھل رہے ہیں، بائیڈن اور ٹرمپ دونوں کو اس انتخاب میں کامیابی کے لئے اپنے اپنے طور پر چیلنجوں کا سامنا ہے، دونوں فی الوقت اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ انتخابی مہم کا نقشہ کس طرح بنایا جائے۔
ابھی جب کہ کرونا وائرس بدستور انسانی جانوں کو نگلتا جا رہا ہے اس بات کے لئے بھی احتجاج اور دباؤ بڑھ رہا ہے کہ زبردست اقتصادی بحران کے پیش نظر کاروباری زندگی کو جلد بحال کیا جانا چاہئے
لیکن ماہرین کے مطابق بندش کا خاتمہ بہرحال اتنا آسان فیصله بھی نہیں۔ اس فیصلے پر مختلف آرا اور سوچ پائی جاتی ہے، مثلاً اوہائیو کی ریاست کے گورنر مائیک ڈیوین کا کہنا ہے کہ یہ ایک توازن رکھنے والی بات ہے۔ ہمیں معیشت کو بحال کرنا ہے تو دوسری جانب لوگوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
اٹلی میں کاروبار جزوی طور پر بحال
اٹلی یورپ کا وہ ملک ہے جو کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔مگر دو ماہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد اب اس قابل ہے کہ ملک میں کاروبار جزوی طور پر کھولے جا سکیں۔
پیر چار مئی کو اٹلی کے 40 لاکھ باشندے کام پر واپس آئے۔ ان میں تعمیراتی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کے کارکن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ روم اور اس کے گرد و نواح میں ٹریفک کی آمدورفت بھی جاری ہو گئی ہے اور سڑک کنارے وینڈرز بھی نظر آنے لگے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لوگوں میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی ہے اور وینڈرز اور دیگر چھوٹے کاروباری لوگ بہت زیادہ پر امید نہیں، مگر پھر بھی خوش ہیں کہ دکان تو کھلی، گاہک بھی آ ہی جائیں گے۔