لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر سزائیں اور گرفتاریاں
دنیا کے بیشتر ممالک میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ کئی ملکوں میں خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر سزائیں دینے کے علاوہ قانون توڑنے والے افراد کو حراست میں بھی لیا جا رہا ہے۔
کرونا وائرس: صحافی کن حالات میں کام کر رہے ہیں؟
کرونا وائرس کے ماحول میں صحافی بھی فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں متعدد صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ عالمی وبا کے دوران صحافی کن حالات میں کام کر رہے ہیں اور انہیں کیا مشکلات درپیش ہیں؟ جانتے ہیں سدرہ ڈار کی ڈیجیٹل رپورٹ میں۔
امریکہ نے ووہان کی لیبارٹری سے کرونا کے پھیلاؤ کے شواہد نہیں دیے: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ امریکہ نے اب تک کرونا وائرس کے چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری سے پھیلنے کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔ اس لیے ثبوت کی عدم فراہمی تک یہ ایک دعویٰ ہی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالات کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے پیر کو ورچوئل بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ کی حکومت نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیے جس سے اس دعوے کو تقویت مل سکے کہ کرونا وائرس چین کی لیبارٹری سے نکلا تھا۔ ہمارے نکتہ نظر سے یہ اب تک قیاس آرائی ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کوئی بھی معلومات حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں اس وائرس کی جنم بھومی سے متعلق بتایا گیا ہو۔
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کرونا وائرس جانوروں سے انسان میں منتقل ہوا ہے اور یہ ممکنہ طور پر چین کی اس مارکیٹ سے پھیلا ہے جہاں جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت ہوتا تھا۔
تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار چین کو ٹھیرا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ مسلسل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے شواہد دیکھے ہیں کہ کرونا وائرس ووہان کی لیبارٹری سے ہی پھیلا ہے۔ تاہم چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔