- By سہیل انجم
بھارت میں ایک دن میں 3900 کیسز
بھارت میں ایک دن میں کرونا کے اب تک کے سب سے زیادہ مثبت کیسز اور اموات ریکارڈ کی گئیں۔
وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3900 مثبت کیسز سامنے آئے جب کہ 195 افراد کی موت ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 46 ہزار 433 ہو گئی ہے جب کہ حکام نے 1568 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
پیر کو سب سے زیادہ 82 ہزار 792 مریضوں کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک 12ہزار 727 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ منگل کی صبح تک صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح 27.4 فی صد رہی۔
نئی دہلی میں تعینات نیم مسلح دستے آئی ٹی بی پی کے 45 جوانوں کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
بھارت کا بیرون ملک پھنسے شہریوں کو واپس لانے کا فیصلہ
بھارت نے کرونا وائرس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے شہریوں کی وطن واپسی کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کی واپسی کے لیے خصوصی طیاروں کے علاوہ نیوی کے بحری جہازوں کے ذریعے مختلف ملکوں میں موجود شہریوں کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بھارت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دو بحری جہاز مالدیپ اور متحدہ عرب امارات روانہ کر دیے گئے ہیں۔
بھارتی خبر رساں ادارے 'ہندوستان ٹائمز' کے مطابق یہ آپریشن سات مئی سے شروع ہو گا۔ جس میں سات روز کے اندر 12 ممالک سے 64 خصوصی پروازوں کے ذریعے لگ بھگ 14800 شہریوں کو واپس لایا جائے گا۔
- By شمیم شاہد
ضلع خیبر میں سیکڑوں افغان باشندے افغانستان واپس جانے کے منتظر
کرونا وائرس کے باعث سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے پاکستان میں پھنسے سیکڑوں افغان باشندے کئی دن سے ضلع خیبر میں افغانستان واپسی کے لیے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ان افغان باشندوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہے۔ ان میں سے اکثر افراد مارچ میں کرونا وائرس کی بندشوں سے قبل علاج یا معاشی معاملات کے حوالے سے پاکستان آئے تھے۔
سرحدی قصبے لنڈی کوتل کے قبائلیوں کے مطابق چند دن قبل ان افغان باشندوں کی تعداد تین سے چار ہزار کے لگ بھگ تھی مگر بعد میں زیادہ تر لوگ واپس پشاور سمیت دیگر علاقوں کی طرف چلے گئے تھے۔
اب بھی طورخم سے لے کر لنڈی کوتل اور لنڈی کوتل کے نواحی علاقوں میں 1500 سے دو ہزار تک افغان باشندے موجود ہیں۔ ان لوگوں میں زیادہ تر غریب افراد ہیں۔ اسی وجہ سے مرد مساجد جب کہ خواتین اور بچے سڑک کے کنارے مسافروں کے لیے موجود انتظار گاہوں یا خالی دکانوں میں رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان میں پھنسے پاکستانی باشندوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ضلع خیبر اور طورخم میں حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کی واپسی کے لیے افغان حکام سے رابطہ کریں۔
کرونا وائرس تین مختلف اقسام میں تبدیل ہو چکا ہے
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور جرمنی میں محققین نے معلوم کیا ہے کہ عالمی وبا کی ابتدا میں کرونا وائرس تین مختلف اقسام میں ارتقا پزیر ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس پر تحقیق کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس وائرس کی تین مختلف اقسام پائی گئی ہیں۔
'نیشنل اکیڈمی آف سائنسز' میں شائع تحقیق میں 'کیمبرج یونیورسٹی' کی ٹیم نے لکھا ہے کہ چینی شہر ووہان میں ابتدائی طور پر جو وائرس انسانوں میں داخل ہوا وہ کرونا وائرس کا 'ٹائپ اے' ہے۔
یہی ٹائپ ووہان میں امریکی شہری میں پائے گئے تھے اور امریکہ میں متاثر ہونے والے بہت سے مریضوں میں بھی اس کا جینوم پایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق چینی شہر ووہان میں جس قسم نے زیادہ تر لوگوں کو متاثر کیا وہ وبا کی ٹائپ بی ہے۔ یہی قسم مشرقی ایشیائی ممالک میں پائی گئی مگر اس خطے سے آگے بہت زیادہ نہیں پھیلی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو ووہان میں کوئی پیچیدہ واقع رونما ہوا یا کچھ اور عوامل ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے یہ قسم مشرقی ایشائی ممالک سے باہر زیادہ نہیں پھیلی۔
ماہرین کے مطابق ٹائپ سی وہ قسم ہے جو زیادہ تر یورپ میں پھیلی۔
اس قسم کے نمونے فرانس، اٹلی، سوئیڈن اور برطانیہ کے ابتدائی کیسز میں پائے گئے مگر یہ قسم چین میں نہیں دیکھی گئی۔
صحت اور طبی معلومات کی ویب سائٹ 'ہیلتھ لائن' نے لکھا کہ وائرس کی میوٹیشن یا تغیرات فی الوقت خطرناک نہیں ہیں۔ اٹلی اور نیویارک میں پائی جانے والی قسم ووہان میں پائی جانے والی قسم سے زیادہ ہلاکت خیز نہیں ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کی وجہ سے مختلف اقسام نظر آ رہی ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ نئی اقسام پہلے سے موجود اقسام سے زیادہ خطرناک ہیں۔
ویب سائٹ 'میڈیسن نیٹ' کے مطابق سائنسدان کرونا وائرس میں پیدا ہونے والے تغیر پر غور کر رہے ہیں کیونکہ کمزور اقسام ویکسین کا کام بھی دے سکتی ہیں۔