کرونا کے باعث کرکٹ کی معطلی سے بورڈز کو مالی خسارہ
کرونا وائرس کے سبب عالمی سطح پر کرکٹ میچز کی معطلی سے کرکٹ بورڈز پریشان ہیں۔ صرف انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو موسم گرما میں میچز نہ ہونے کی وجہ سے 380 ملین پاؤنڈز کا خسارہ ہو گا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال مقامی کلبس اور کرکٹ بورڈ کے لیے بدترین ہے۔ اگر مسلسل 800 دن تک کرکٹ کھیلی جائے تو ہی یہ نقصان پورا ہو سکے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہیریسن نے برطانوی حکومت کی ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ اسپورٹس کمیٹی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ کرکٹ سیزن دو اپریل کو شروع ہونا تھا لیکن کرونا وائرس کے سبب جولائی کے آغاز تک کوئی میچ نہیں کھیلا جاسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی ماہ سے کھیلوں کا کوئی ایک مقابلہ بھی نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کرونا وائرس ٹاسک فورس سے ذمہ داری واپس لینے کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کو ختم کرنے اور دوسرے مرحلے میں عالمی وبا کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے پر توجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتِ حال کو اب وفاقی ادارے دیکھیں گے اور وائٹ ہاؤس اداروں سے رابطے میں رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے ٹاسک فورس کے سربراہ اور ملک کے نائب صدر مائیک پینس اور ان کی ٹیم سے متعلق کہا کہ "انہوں نے بہت شاندار کام کیا ہے۔"
صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ وہ اس موقع پر ٹاسک فورس کو کیوں ختم کر رہے ہیں جب ملک بھر میں کرونا کیسز سے ہلاکتوں اور نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟ اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو مزید پانچ سال تک کے لیے بند نہیں کر سکتے۔
پاکستان میں ہلاکتوں اور نئے کیسز میں مسلسل اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس سے یومیہ ہلاکتوں اور نئے کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سے 40 اموات اور 1049 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں مجموعی ہلاکتیں 526 ہو گئیں جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 22 ہزار 550 تک پہنچ گئی ہے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں خیبرپختونخوا میں 194 رپورٹ ہوئی ہیں۔ پنجاب میں 156 اور سندھ میں 148 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس سے اب تک بلوچستان میں 21، وفاقی دارالحکومت اسلام میں چار اور گلگت بلتستان میں تین اموات ہوئیں۔
ہالی ووڈ کی رونقیں آخر کب بحال ہوں گی
ہالی ووڈ میں وبا کے موضوع پر کئی فلمیں بنائی گئی ہیں۔ لیکن ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے والی صنعت سے وابستہ اداروں اور لوگوں کو حقیقی زندگی میں کرونا وائرس کی صورت میں وبا کے اتنے بڑے پیمانے پرے اثرات کا سامنا ہے۔
حالیہ دنوں میں جبکہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ گھروں پر محصور رہے ایک فلم کوارنٹین یعنی قرنطینہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں میں شامل رہی۔ لیکن، امریکہ کے سینما گھروں میں کرونا وائرس کے بعد پہلے جیسی رونقیں کب اور کیسے بحال ہوں گی۔ یہ سوال ہالی ووڈ صنعت سے وابستہ کاروباری اداروں اور فلم بین عوام دونوں کے لئے اہم ہے۔
موجودہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ فلم ساز اداروں سٹوڈیوز اور ڈسٹری بیوٹرز کو نئے چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں انٹرنیٹ پر سٹریمنگ سروسز کے ذریعے ڈیجیٹل سکرینوں پر فلمیں دیکھنے کا رجحان بھی شامل ہے۔