رسائی کے لنکس

logo-print

ہالی ووڈ کی رونقیں آخر کب بحال ہوں گی


ہالی ووڈ میں وبا کے موضوع پر کئی فلمیں بنائی گئی ہیں۔ لیکن ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کا کاروبا کرنے والی صنعت سے وابستہ اداروں اور لوگوں کو حقیقی زندگی میں کرونا وائرس کی صورت میں وبا کے اثرات کا سامنا ہے۔

حالیہ دنوں میں جب کہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ گھروں پر محصور رہے ایک فلم کوارنٹین یعنی قرنطینہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں میں شامل رہی۔ لیکن، امریکہ کے سنیما گھروں میں کرونا وائرس کے بعد پہلے جیسی رونقیں کب اور کیسے بحال ہوں گی۔ یہ سوال ہالی ووڈ صنعت سے وابستہ کاروباری اداروں اور فلم بین عوام دونوں کے لیے اہم ہے۔

موجودہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ فلم ساز اداروں سٹوڈیوز اور ڈسٹری بیوٹرز کو نئے چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں انٹرنیٹ پر سٹریمنگ سروسز کے ذریعے ڈیجیٹل سکرینوں پر فلمیں دیکھنے کا رجحان بھی شامل ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں اگرچہ سنیما گھروں کی سکرینوں کی تعداد میں 11 فیصد اضافہ ہوا اس دوران سنیما گھروں میں فلم بینوں کی تعداد میں کمی آئی اور ایسے میں آمدنی کو برقرار رکھنے کے لئے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

کرونا بحران سے پہلے ہی بہت سے سینما اور تھیٹر کی کمپنیاں اپنے کاروباری اہداف سے کم بزنس کر رہی تھیں۔ اب جبکہ جارجیا جیسی کچھ ریاستوں نے اقتصادی کارروائیوں کی اجازت دی ہے تو سینما گھروں کو نئے حالات میں سماجی فاصلوں کی پابندی کرتے ہوئے سیٹنگ کا انتظام کرنا ہوگا۔

تفریحی صنعت کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے کے لیے وائس آف امریکہ نے پاکستانی امریکی فلم ساز اور سکرپٹ کے لکھاری ممتاز حسین سے بات کی۔ وہ کہتے ہیں یہ بات تو عیاں ہے کہ کرونا بحران سے امریک پر کئی قسم کے اثرات مرتب ہونگے۔ لیکن تھیٹر اور سینما گھر امریکی ثقافت کا حصہ ہے۔ اور آہستہ آہستہ یہ پلیٹ فارم رونقیں بحال کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ سنیما گھروں میں جا کر فلم دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے لوگوں کا ڈنر کے لئے کسی ریستوران میں اکٹھے ہونا۔ یہ ایک سماجی روایت اور ثقافت کا ایک اہم جزو ہے۔

ممتاز حسین جو کہ ہالی ووڈ اور پاکستان میں کئی فلمی پراجیکٹس پر کام کرچکے ہیں کہتے ہیں کہ امریکہ میں فلم بین لوگوں کی دو بڑی قسمیں ہیں ایک تو وہ لوگ جو امرا ہیں اور ان کے لیے سینما اور تھیٹر جانا فن اور آرٹ کے حوالے سے جمالیاتی حسن اور اور تخلیقی کاوشوں کو سراہا بھی ہے اور ان سے لطف اندوز ہونا بھی۔

دوسری طرف بہت سے لوگ سینما گھروں میں جا کر فلم دیکھنے کو جدید طرز حیات کے مطابق لطف اندوز ہونے کا معمول سمجھتے ہیں۔ لہذا تھیٹر اور فلم کی رونقیں بتدریج بحال ضرور ہوں گی۔

سن 2018 میں ہالی ووڈ نے عالمی سطح پر تقریباً 42 ارب ڈالر کا کاروبار کیا۔ لیکن اس سال امریکہ کے اندر باکس آفس میں فلمیں دیکھنے کے حوالے سے اس صنعت کو کو رونا بحران سے پہلے ایک ارب ڈالر کی کمی کا سامنا تھا۔ اور اب ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر اس بحران کی وجہ سے تفریحی صنعت کو پانچ ارب اور پندرہ ارب ڈالر کے درمیان خسارہ ہونے کا اندیشہ ہے، کیونکہ فلموں کی تخلیق سے تقسیم کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بہت سے فلمی میلے اور فلموں کی نمائش کو موخر کر دیا گیا ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق، ہالی ووڈ کی سٹوڈیوز اس وقت تک پروڈکشن کا کام پھر سے نہیں کریں گے جب تک کووڈ نائنٹین کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا انتظام میسر نہ ہو۔

اگر فلمی ستاروں کی اس موذی مرض سے براہ راست متاثر ہونے کی بات کی جائے تو ہالی وڈ کے چوٹی کے اداکار ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ ریتا ولسن کرونا وائرس سے نمٹنے کے بعد اب صحتیاب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا میں قرنطینہ کی حالت میں کئی دن گزارے۔ اور اپنے چاہنے والوں کو اپنی صورت حال سے آگاہ رکھا۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے اینٹی باڈیز بنانے کے لیے خون کا عطیہ بھی دیا۔

جہاں تک فلمی صنعت کا پھر سے ابھرنے کا تعلق ہے تو اس میں فلم بینوں کا سینما گھروں میں جا کر کر فلمیں دیکھنے کا رجحان بڑے عوامل میں شامل ہوگا۔ اور اس بات کا تعلق امریکی عوام کی مالی بہتری کی بحالی سے ہے، کیونکہ اب تک تین کروڑ سے زائد امریکی اپنی ملازمت کھو چکے ہیں۔

ممتاز حسین کہتے ہیں کہ یہ ایک فطری عمل ہے کہ پہلے لوگ اپنے روزگار کے ٹوٹے ہوئے سلسلے کو دوبارہ سے جوڑنے کی کوشش کریں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ یقیناً یہ وقت دنیا کے لئے ایک کڑا امتحان ہے۔لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ لوگ اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ جدید دنیا میں جب زندگی کی رفتار تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہے آرٹ کی مختلف قسمیں زندگی کو سمجھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لہذا، لوگ آہستہ آہستہ فلم اور آرٹ کی طرف واپس لوٹیں گے۔ اور ایسے رجحان کی طرف واپسی ہمارے اندازوں سے کہیں پہلے بھی ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG