افغانستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد کرونا کا شکار ہو سکتے ہیں: رپورٹ
دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ہجرت سے پیش آنے والے مسائل سے متعلق تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن (آئی او ایم) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں ناکافی انتظامات کے باعث ساڑھے تین کروڑ افراد کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال جنوری میں کرونا وبا کے آغاز سے اب تک دو لاکھ 71 ہزار افغان شہری ہمسایہ ممالک ایران اور پاکستان سے واپس آئے ہیں۔
ناکافی وسائل کے باعث بیشتر افراد کی واپسی پر کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسکریننگ اور بیمار افراد کو قرنطینہ میں بھی نہیں رکھا جا سکا تھا۔
ادارے کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں کرونا کے تصدیق شدہ کیسز تین ہزار کے لگ بھگ اور پانچ مئی تک مرض سے 90 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مراکش میں ڈرونز کی مدد سے کرونا کا مقابلہ
کرونا وائرس کی وبا کے دنوں میں ڈرون ایک اہم ٹیکنالوجی بن کر سامنے آیا ہے۔ شمالی افریقی ملک مراکش میں عالمی وبا کا مقابلہ کرنے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
مراکش میں ڈورنز صرف حکومتی ہدایات کے تحت ہی فلموں کی شوٹنگ، زراعت، شمسی پینل کی نگرانی اور نقشہ سازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اب یہی ڈورنز کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔
ڈرونز کے ذریعے کرونا سے متاثرہ علاقوں کی نگرانی کے علاوہ اس سے اسپرے اور عوامی اعلانات کے کام لیے جا رہے ہیں۔
مراکش میں مارچ سے جاری لاک ڈاؤن کی لوگ بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت چھتوں پر اجتماعی عبادات جاری ہیں جب کہ گلی محلوں میں بھی لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکل رہے ہیں۔
کرونا کے باعث کرکٹ کی معطلی سے بورڈز کو مالی خسارہ
کرونا وائرس کے سبب عالمی سطح پر کرکٹ میچز کی معطلی سے کرکٹ بورڈز پریشان ہیں۔ صرف انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو موسم گرما میں میچز نہ ہونے کی وجہ سے 380 ملین پاؤنڈز کا خسارہ ہو گا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال مقامی کلبس اور کرکٹ بورڈ کے لیے بدترین ہے۔ اگر مسلسل 800 دن تک کرکٹ کھیلی جائے تو ہی یہ نقصان پورا ہو سکے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہیریسن نے برطانوی حکومت کی ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ اسپورٹس کمیٹی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ کرکٹ سیزن دو اپریل کو شروع ہونا تھا لیکن کرونا وائرس کے سبب جولائی کے آغاز تک کوئی میچ نہیں کھیلا جاسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی ماہ سے کھیلوں کا کوئی ایک مقابلہ بھی نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔