صدر ٹرمپ کا کرونا وائرس ٹاسک فورس سے ذمہ داری واپس لینے کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کو ختم کرنے اور دوسرے مرحلے میں عالمی وبا کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے پر توجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتِ حال کو اب وفاقی ادارے دیکھیں گے اور وائٹ ہاؤس اداروں سے رابطے میں رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے ٹاسک فورس کے سربراہ اور ملک کے نائب صدر مائیک پینس اور ان کی ٹیم سے متعلق کہا کہ "انہوں نے بہت شاندار کام کیا ہے۔"
صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ وہ اس موقع پر ٹاسک فورس کو کیوں ختم کر رہے ہیں جب ملک بھر میں کرونا کیسز سے ہلاکتوں اور نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟ اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو مزید پانچ سال تک کے لیے بند نہیں کر سکتے۔
پاکستان میں ہلاکتوں اور نئے کیسز میں مسلسل اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس سے یومیہ ہلاکتوں اور نئے کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سے 40 اموات اور 1049 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں مجموعی ہلاکتیں 526 ہو گئیں جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 22 ہزار 550 تک پہنچ گئی ہے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں خیبرپختونخوا میں 194 رپورٹ ہوئی ہیں۔ پنجاب میں 156 اور سندھ میں 148 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس سے اب تک بلوچستان میں 21، وفاقی دارالحکومت اسلام میں چار اور گلگت بلتستان میں تین اموات ہوئیں۔
ہالی ووڈ کی رونقیں آخر کب بحال ہوں گی
ہالی ووڈ میں وبا کے موضوع پر کئی فلمیں بنائی گئی ہیں۔ لیکن ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے والی صنعت سے وابستہ اداروں اور لوگوں کو حقیقی زندگی میں کرونا وائرس کی صورت میں وبا کے اتنے بڑے پیمانے پرے اثرات کا سامنا ہے۔
حالیہ دنوں میں جبکہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ گھروں پر محصور رہے ایک فلم کوارنٹین یعنی قرنطینہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں میں شامل رہی۔ لیکن، امریکہ کے سینما گھروں میں کرونا وائرس کے بعد پہلے جیسی رونقیں کب اور کیسے بحال ہوں گی۔ یہ سوال ہالی ووڈ صنعت سے وابستہ کاروباری اداروں اور فلم بین عوام دونوں کے لئے اہم ہے۔
موجودہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ فلم ساز اداروں سٹوڈیوز اور ڈسٹری بیوٹرز کو نئے چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں انٹرنیٹ پر سٹریمنگ سروسز کے ذریعے ڈیجیٹل سکرینوں پر فلمیں دیکھنے کا رجحان بھی شامل ہے۔
کرونا سے لڑنے کے لیے ترکی میں عطر کا استعمال
پوری دنیا کی طرح، ترکی میں بھی کرونا وائرس حملہ آور ہے۔ تاہم، ترکوں نے اس سے مقابلے کیلئے اپنے روایتی رسم و رواج کا سہارا لیتے ہوئے، کولون یعنی خوشبو کا استعمال بڑھا دیا ہے۔
ترکی میں عام خیال یہ ہے کہ چونکہ کولون میں الکحل زیادہ مقدار میں ہوتا ہے اس لئے ہاتھوں پر موجود کرونا وائرس کو مارنے کیلئے عطر بہت سازگار ہے۔ آجکل بڑے بڑے خوشبویات بنانے والوں سے لیکر مقامی عطاروں اور کیمیا دانوں تک، سب عطر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔
استنبول کے سب سے بزرگ عطار، ضیا میلی شجر، اس وقت تقریباً نوے برس کے ہیں۔ اپنے پیشے کی وجہ سے انہیں ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن سے استثنا حاصل ہے۔
ضیا ہر روز مقامی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنی دوا سازی کی دکان کھولتے ہیں۔ وہ خاندانی عطار ہیں اور یہ دکان گزشتہ ایک صدی سے اوپر ان کے خاندان کی ملکیت ہے۔
ان کی دکان کی دیواروں پر ان کے خاندان کی دوا سازی اور عطاری سے متعلق پیشہ ورانہ اکتساب کی سندیں عربی عبارات میں لٹکی ہوئی ہیں جو کہ ترک جمہوریہ کے وجود میں آنے سے پہلے کی ہیں۔