ایران میں مساجد کھل گئیں لیکن 15 صوبے دوبارہ وائرس کی لپیٹ میں
اتوار کو ایرانی صدر حسن روحانی نے پیر سے 132 علاقوں میں مساجد کھولنے کا اعلان کیا۔ ان علاقوں میں کرونا کا زور نسبتاً کم ہے اور یہ سفید زون کہلاتے ہیں۔
صدر روحانی نے وسط اپریل سے ایران میں معمول کی زندگی واپس لانے کے عمل کو شروع کیا تھا۔ پرائمری تعلیم کے نائب وزیر رضوان حکمت زادے نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ سفید زون میں سولہ مئی سے سکول کھل سکتے ہیں۔
منگل کو جاری ہونے والی سرکاری رپورٹ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور سوا چھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت نے یہ بھی بتایا کہ 31 صوبوں میں سے 15 صوبوں میں کرونا وائرس کی دوسری لہر آئی ہے۔
کیا کرونا وائرس کی ایک سے زیادہ اقسام گردش میں ہیں؟
امریکی حکومت کی جانب سے کروائی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی ایک نئی لہر آئی ہے جو اس سے پہلے کی مثالوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
لاس ایلموس نیشنل لیبارٹری کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وائرس کی نئی قسم ابتدائی صورت سے مختلف ہے اور یورپ میں تین ماہ پہلے اس کا پتا چلا تھا۔
یہی تبدیل شدہ وائرس امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں پہنچا اور وسط مارچ سے اسی نے دنیا میں زیادہ لوگوں کو بیمار کیا ہے۔
تحقیق کے نتائج لکھنے والے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ویکسین اور دوائیں بنانے والوں کو متنبہ کرنے کی فوری ضرورت ہے، تاکہ وہ وائرس کی نئی قسم کا موثر حل تیار کریں۔
- By مدثرہ منظر
کیا نیویارک میں زندگی معمول پر آجائے گی؟
امریکہ میں طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کر کے بعض کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی ہے، مگر کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں اور موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ بدھ کے روز بھی امریکہ میں کووڈ نائنٹین کے مریضوں کی تعداد بارہ لاکھ سے متجاوز اور اموات اکہتر ہزار سے زیادہ ہیں۔
اسی دوران مختلف ریاستوں کے گورنر اپنے ہاں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں۔
نیویارک امریکہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سرِ فہرست ہے۔ ماہرین اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ نیویارک گنجان آباد ہے، یہاں کے بین الاقوامی ائیرپورٹ کرونا وائرس کے خطرات کے باوجود کھلے رہے، اس کا زیرِ زمین ریل کا نظام یا سب وے سسٹم جلد بند نہ کیا جا سکا۔ اس کی آبادی میں تنوع امریکہ کی باقی ریاستوں سے زیادہ ہے۔
- By قمر عباس جعفری
وبا کے سبب یورپی یونین کو شدید کساد بازاری درپیش ہوگی: ماہرین
یورپی یونین نے بدھ کے روز کہا ہے کہ 27 ملکوں کے اس گروپ کو اس سال کرونا وائرس کی وبا کے سبب شدید نوعیت کی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وائن لی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ برسلز میں ایک نیوز کانفرنس میں یورپی یونین کی معیشت سے متعلق کمشنر، پاولاگرنتیلونی نے بتایا ہے کہ توقع یہ کی جا رہی ہے کہ 2021ء میں چھہ فیصد بحالی سے پہلے 2020ء میں یورپی معیشت سات اعشاریہ پانچ فیصد سکڑ جائے گی۔
یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر خطے میں کرونا وائرس کے سبب معاشی بدحالی کی پیشگوئیاں اس وقت سے ہی کی جا رہی ہیں جب سے اس وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ اور اس حوالے سے دنیا کے ہر خطے کے بارے میں جائزے پیش کئے جا رہے ہیں۔
تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی معیشت انفرادی ملکوں کی سطح پر بھی اور مجموعی طور پر بھی شدید مشکلات کا شکار ہونے والی ہے۔