لاک ڈاؤن میں نرمی ہو گی یا نہیں، پاکستان میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
پاکستان میں لاک ڈاؤن جاری رہے گا یا نہیں، لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے گی یا نہیں؟ کس حد تک نرمی ممکن ہے؟ ان تمام معاملات پر بات چیت کے لیے وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔
قومی رابطہ کمیٹی، نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کی طرف سے دی گئی تجاویز کا جائزہ لے کر فیصلے کرے گی۔
اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی بھی شریک ہیں۔
قومی رابطہ کمیٹی لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ساتھ اس ضمن میں تیار کردہ ایس او پیز کی منظوری بھی دے گی۔
این سی او سی نے گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرِ صدارت اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق سفارشات مرتب کی تھیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے ملک بھر میں 11 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی، چھوٹی دکانیں، عید کی خرید و فروخت سے متعلق دکانیں، مقامی ٹرانسپورٹ اور اندرون ملک پروازیں کھولنے کی تجاویز منظور کر لیں۔ تاہم این سی او سی نے تجویز دی کہ اسکولز، شادی ہال، ہوٹل اور بڑے شاپنگ مالز بند رکھے جائیں اور ریلوے سروس بھی فی الحال بحال نہ کی جائے۔
این سی او سی اجلاس میں پائپ ملز، الیکٹریکل کیبلز، اسٹیل، ایلومینیم، برتن سازی کی صنعتیں، سینٹری، پینٹس، ہارڈ وئیر اسٹورز کھولنے کی سفارش بھی کی گئی۔
رمضان کے آخری 15 روز میں مذہبی اجتماعات کے لیے قواعد وضوابط میں تبدیلی نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اعظم قومی رابطہ کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق قوم کو اعتماد میں لیں گے۔
کرونا سے 260 نرسیں ہلاک، طبی عملے کے 90 ہزار افراد متاثر: رپورٹ
انٹرنیشنل کونسل فار نرسز (آئی سی این) جنیوا نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث 260 نرسیں ہلاک جب کہ طبی عملے کے 90 ہزار سے زائد اراکین متاثر ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے درست اعداد و شمار فراہم نہ کرنا، حفاظتی سامان کی کمی اور دیگر وجوہات کے باعث وائرس سے متاثرہ طبی عملے کی تعداد اس سے دگنا بھی ہو سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق 'آئی سی این' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہاورڈ کیٹن کا کہنا ہے کہ حکومتیں وائرس سے متاثر ہونے والے طبی عملے کے مستند اعداد و شمار فراہم نہیں کر رہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا دنیا کے 30 ملکوں سے جمع کیے جانے والے اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔ لہذٰا وائرس کے باعث ہلاک یا متاثر ہونے والے افراد کا جامع ڈیٹا مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں متاثرین کی تعداد 24 ہزار سے تجاوز کر گئی
پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار مزید 38 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 564 تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 ہزار 196 افراد کے کرونا وائرس ٹیسٹ کیے گئے ہیں جب کہ 1523 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 23 ہزار 73 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 6464 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
برطانیہ میں مریض 2 لاکھ، اموات 30 ہزار
برطانیہ میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کو مریضوں کی تعداد 2 لاکھ اور اموات 30 ہزار سے تجاوز کر گئیں۔ یورپ بھر میں مریض 15 لاکھ اور ہلاکتیں ایک لاکھ 46 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 212 ملکوں اور خود مختار خطوں میں عالمگیر وبا کے متاثرین کی تعداد 38 لاکھ اور اموات کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار سے بڑھ گئی۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 649، اٹلی میں 369، بیلجیم میں 323، فرانس میں 278، اسپین میں 244، میکسیکو میں 236، جرمنی میں 232، کینیڈا میں 180 اور برازیل میں 101 مریض چل بسے۔ بھارت میں 92، پرو میں 89، سویڈن میں 87، روس میں 86، ایران میں 78 اور ترکی میں 64 مریض دم توڑ گئے۔
برازیل کے دن کے اعداد و شمار نامکمل ہیں، کیونکہ وہاں ایک سے زیادہ بار انھیں اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ منگل کو وہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 578 تھی۔