رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

15:50 7.5.2020

پاکستان میں دکانیں سحری کے بعد سے شام پانچ بجے تک کھولنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے لاک ڈاؤن کھولنے سے متعلق فیصلوں سے متعلق آگاہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے مشاورت سے کیے گئے ہیں۔ چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ گلی محلوِں، دیہات اور ایسی دکانیں جہاں لوگوں کا زیادہ رش نہیں ہوتا، اُنہیں کھولا جائے گا۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کے بقول جن صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں الیکٹرک، سرامکس، ایلومینیم، پینٹ شاپس، ٹائیلز، ہارڈ ویئر شامل ہیں۔ البتہ بڑے شاپنگ مالز بدستور بند رکھنے ہی کا فیصلہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ سحری کے بعد دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی، جو شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔ یہ دکانیں ہفتے میں دو روز بند بھی رہیں گی۔ البتہ، خوراک سے متعلقہ دکانیں اور میڈیک اسٹورز پورا ہفتہ کھلے رہیں گے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کے آؤٹ ڈور شعبہ جات کھولنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسکول کی چھٹیوں میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔

15:33 7.5.2020

لاک ڈاؤن مرحلہ وار کھلے گا: وزیر اعظم عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں مرحلہ وار لاک ڈاؤن ختم کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہر شعبہ کھولنے کے لیے ایس او پیز بنائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر اس مشکل وقت سے نکلنا ہے تو عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ اگر لوگوں نے احتیاط نہ کی تو ہمیں پھر سخت لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ پوری دنیا شرائط کے تحت لاک ڈاؤن ختم کر رہی ہے۔ لہذٰا پاکستانی قوم کو بھی ان شرائط یا ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو کھلنا چاہیے۔ پیسے والے لوگ تو اپنی گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں۔ لیکن غریب آدمی کے لیے یہی سفر کا ذریعہ ہے۔

وزیر اعظم بولے کہ بیرون ممالک سے سوا لاکھ پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ اُن کی واپسی پر اُنہیں قرنطینہ میں رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں۔

لہذٰا ہونا تو یہ چاہیے کہ بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانی 'سیلف آئسولیشن' گھروں میں ہی اختیار کریں۔

15:22 7.5.2020

15:19 7.5.2020

دنیا بھر سے 19 ہزار پاکستانی وطن واپس آ چکے ہیں: دفتر خارجہ

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے 19 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لا یا جا چکا ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران اُن کا کہنا تھا ایک لاکھ سے زائد مزید پاکستانی شہری دنیا کے مختلف ممالک سے وطن واپسی کے منتظر ہیں۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ یکم مئی سے پانچ مئی تک پی آئی اے کی خصوصی پروازوں کے ذریعے ایک ہزار پاکستانی وطن واپس پہنچے ہیں۔

یہ پاکستانی دبئی، قطر، بحرین، سوڈان، کینیا، متحدہ عرب امارت، برطانیہ، یورپی یونین کے بعض ممالک، سری لنکا اور کوریا سے واپس آئے ہیں۔

ترجمان کے بقول اس کے علاوہ گزشتہ چند روز کے دوران واہگہ کے راستے 193 پاکستانی شہریوں کو بھارت سے پاکستان واپس لایا جا چکا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG