کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے خواہش مندوں کی پارٹیاں
کرونا وائرس کا علاج یا ویکسین موجود نہیں اس لیے دنیا بھر میں لوگ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اربوں افراد لاک ڈاؤن میں گھر پر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو وبا کے دنوں میں خصوصی پارٹیاں کر رہے ہیں، تاکہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہوسکیں۔
امریکہ، برطانیہ، جرمنی، نیدرلینڈز، بیلجیم، آسٹریا اور اسٹونیا میں ایسی تقریبات میڈیا میں آچکی ہیں اور سرکاری حکام نے ان پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
بیلجیم میں 15 مارچ کو سماجی فاصلے کے سرکاری ہدایات پر عمل کا آغاز ہونے سے پہلے کی رات کو متعدد تقریبات کا ہنگامی طور پر اہتمام کیا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے نتیجے میں کتنے افراد وائرس میں مبتلا ہوئے، لیکن گزشتہ چھ ہفتوں میں بیلجیم یورپ میں وائرس کے بدترین شکار ملکوں میں شامل ہے۔
کرونا وائرس ویکسین: کلینکل ٹرائل کے مرحلے میں داخل
کرونا وائرس کی مہلک وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے امریکہ میں تیار کی گئی ویکسین کی کلینکل ٹرائل شروع کر دی گئی ہے۔ نیویارک میں گزشتہ سوموار کو پہلے امیدوار کے بازو میں اس ویکسین کا انجیکشن لگایا گیا۔
نیویارک سے شائع ہونے والے اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق، ان رضاکاروں کو یہ ڈوز یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ٹرائل سینٹر اور نیویارک یونیورسٹی لیگون ہیلتھ میں دئے گئے اور انسانوں پر یہ تجربات ادویات کی کمپنی فائزر اور بائیو این ٹیک کے تعاون سے کئے جا رہے ہیں۔
اسی طرح کے تجربات فائزر کمپنی کے تحت جرمنی میں بھی شروع کئے گئے ہیں۔ دنوں ممالک میں تجربات صحت مند مریضوں میں کئے جا رہے ہیں جنھیں تجرباتی طور پر تیار کی گئی چار ویکیسنوں یا سلائین سلوشن میں سے ایک کے دو دو ڈوز دئے جائیں گے۔
اگر یہ ویکسن کامیاب رہے اور اس کی منظوری مل گئی تو ماہرین کو توقع ہے کہ اس ویکسین کے لاکھوں ڈوز تیزی سے تیار کرلیے جائیں گے۔
نشہ کرنے والوں کو قرنطینہ میں منشیات کی فراہمی
سان فرانسسکو کی انتظامیہ کو کرونا وائرس کے مقابلے کے دوران ایک نئے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ ہے قرنطینہ میں رکھے جانے والے کئی افراد کو ان کا نشہ پورا کرنے کے لیے منشیات کی فراہمی۔
ہوا کچھ یوں کہ کرونا وائرس کی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کے دوران درجنوں بے گھر افراد کے بارے میں یہ شبہ ہوا کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہو سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں ٹیسٹ کے نتائج آنے تک کے لیے قرنطینہ کے ایک مرکز میں بھیج دیا گیا۔
سان فرانسسکو کی انتظامیہ نے ایک ہوٹل لیز پر لے کر اس کے کمروں میں متاثرہ افراد کو رکھنے کا بندوبست کیا ہے، جن میں ایسے بے گھر افراد بھی شامل ہیں جو مختلف نشوں کی لت میں مبتلا ہیں۔
قرنطینہ میں جانے کے بعد ان کے لیے اپنا نشہ پورا کرنا مشکل ہو گیا۔ نشہ ٹوٹنے پر ان کی حالت بگڑنے لگی اور نشہ پورا کرنے کے لیے باہر کی جانب لپکنے لگے، جس کے بعد یہ ضروری ہو گیا کہ ان کا نشہ پورا کیا جائے۔ تاہم، انتظامیہ کے پاس ایسا کوئی فنڈ موجود نہیں تھا جس سے منشیات خریدی جا سکیں۔
سات ہفتوں میں 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی بیروزگار
امریکہ میں گزشتہ ہفتے 32 لاکھ افراد نے محکمہ محنت کو مطلع کیا کہ وہ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور انھیں مدد کی ضرورت ہے۔ اس طرح سات ہفتوں میں بیروزگار ہوجانے والوں کی تعداد 33 ملین یعنی 3 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
بعض ریاستوں کے حکام نے کہا ہے کہ ان کے ایک چوتھائی سے زیادہ کام کرنے والوں کا ذریعہ آمدن ختم ہوا ہے۔
محکمہ محنت اپنی ماہانہ رپورٹ جمعہ کو جاری کرے گا۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ اس میں اپریل کے مہینے میں بیروزگاری 15 فیصد یا زیادہ بیان کی جائے گی جو کساد بازاری کے زمانے کی شرح ہے۔
صدر ٹرمپ نے مارچ کے وسط میں ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ، چوتھے میں 52 لاکھ، پانچویں میں 44 لاکھ اور چھٹے ہفتے میں 38 لاکھ شہری بیروزگار ہوئے تھے۔