رسائی کے لنکس

کرونا وائرس ویکسین کلینکل ٹرائل کے مرحلے میں داخل


کرونا وائرس کی مہلک وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے امریکہ میں تیار کی گئی ویکسین کی کلینکل ٹرائل شروع کر دی گئی ہے۔ نیویارک میں گزشتہ سوموار کو پہلے امیدوار کے بازو میں اس ویکسین کا انجیکشن لگایا گیا۔

نیویارک سے شائع ہونے والے اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق، ان رضاکاروں کو یہ ڈوز یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ٹرائل سینٹر اور نیویارک یونیورسٹی لیگون ہیلتھ میں دئے گئے اور انسانوں پر یہ تجربات ادویات کی کمپنی فائزر اور بائیو این ٹیک کے تعاون سے کئے جا رہے ہیں۔

اسی طرح کے تجربات فائزر کمپنی کے تحت جرمنی میں بھی شروع کئے گئے ہیں۔ دنوں ممالک میں تجربات صحت مند مریضوں میں کئے جا رہے ہیں جنھیں تجرباتی طور پر تیار کی گئی چار ویکیسنوں یا سلائین سلوشن میں سے ایک کے دو دو ڈوز دئے جائیں گے۔

اگر یہ ویکسن کامیاب رہے اور اس کی منظوری مل گئی تو ماہرین کو توقع ہے کہ اس ویکسین کے لاکھوں ڈوز تیزی سے تیار کرلیے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ادویات کی کمپنی فائزر پرامید ہے کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) سے اس سال اکتوبر تک اس ویکسین کی ہنگامی منظوری مل جائے گی اور وہ اس سال کے اخیر تک اس کے بیس ملین ڈوز تقسیم کرنے کے قابل ہوں گے۔

اگر آئندہ نو ماہ کے اندر ایک منظور شدہ ویکسین مارکیٹ میں دسیتاب ہوتی ہے، تو ماہرین کے مطابق، یہ ایک ریکارڈ ساز اور عجوبے کی مترادف پیش رفت ہوگی، چونکہ کسی ویکسین کی تیاری میں بعض اوقات عشرے لگ جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سینٹر برائے ویکسین ڈولپمنٹ اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ڈائریکٹر کرسٹین لائیک نے بتایا کہ انسانوں پر یہ کلینکل ٹرائل پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں کئے جائیں گے۔ لیکن تمام تجربات اس سال مئی سے اکتوبر کے درمیان مکمل کرلئے جائیں گے۔

نیویارک یونیورسٹی لینگون ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مارک مولیگن کہتے ہیں کہ این وائی یو لینگون کی طرح نیویارک، اس ویکسین پر تجربات کے لئے نہایت موضوع ترین مرکز ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ویکسین ہمیشہ سے متعدی امراض کے خطرات سے عوام کی صحت عامہ کو بچانے کا موثر ہتھیار رہے ہیں۔ اسی لئے ان امیدواروں کا قریبی مطالعہ بہت اہم ہے جن پر تجربات کئے جارہے ہیں۔

تجربات کے موجودہ مرحلے کو ’ڈوز اسکلیشن فیز‘ یا خوراک میں اضافے کا مرحلہ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ان 360 افراد کے جسموں میں اس ڈوز کے ردعمل یا ری ایکشن کے شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، جن کی عمریں اٹھارہ سے پچپن اور پنسٹھ سے پچاسی سال ہوں گی۔ یہ تمام لوگ صحت مند ہیں اور ان میں کرونا وائرس موجود نہیں ہے۔

بڑی عمر کے لوگوں پر تجربات اسی وقت کئے جائیں گے جب کم عمر کے لوگوں پر یہ تجربات کامیاب اور محفوظ ہوں گے۔ اسی طرح کے تجربات موڈرینا کی بنائی ہوئی تحقیقی ویکسین کی مدد سے بھی کی جارہی ہے، لیکن اس میں کم مریض شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG