اٹلی میں کرونا وائرس کے نئے مریضوں اور اموات میں مسلسل کمی
عالمی وبا کوویڈ19 کا پھیلاؤ یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں مسلسل کم ہو رہا ہے جن میں اٹلی بھی شامل ہے۔ اٹلی اس وقت سپین کے بعد یورپ کا سب سے متاثرہ ملک ہے۔
ہفتے کے روز اٹلی میں کرونا وائرس سے 194 اموات ہوئیں جو ایک روز پہلے 243 تھیں۔ شہری تحفظ کی ایجنسی نے بتایا کہ ہفتے کے روز کرونا کے 1083 کیس رپورٹ ہوئے جب کہ جمعے کے روز یہ تعداد 1327 تھی۔
اٹلی میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت 21 فروری کو ہوئی تھی ، جب کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 30395 افراد کی اموات ہو چکی ہیں۔ کرونا سے سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانے والے ملکوں میں اٹلی کا نمبر تیسرا ہے۔ اس فہرست میں پہلے نمبر پر امریکہ ، پھر برطانیہ اور اس کے بعد اٹلی کا نمبر آتا ہے۔
اٹلی میں ہفتے کے روز تک کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 218268 تھی جو امریکہ اور سپین کے بعد دنیابھر میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اٹلی میں اس وقت زیر علاج کرونا کے مریضوں کی تعداد 84842 ہے جو ایک روز پہلے 87961 تھی۔
ہفتے کے روز کرونا کے 1034مریض انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں تھے جب کہ ایک روز قبل یہ تعداد 1168 تھی۔اس تعداد میں بھی مسلسل کمی آ رہی ہے۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کرونا سے متاثر ہونے والے 103031کو صحت مند قرار دے دیا گیا ہے جب کہ ایک روز قبل تک صحت یاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 99023 تھی۔
شہری تحفظ کی ایجنسی کے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز تک ملک میں ساڑھے 16 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں ۔ جب کہ ایک روز قبل ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 16 لاکھ 10 ہزار کے قریب تھی۔ اٹلی کی کل آبادی 6 کروڑ ہے۔
مہنگے ترین شہر میں مفت خوراک لینے والوں کی لمبی ترین قطار
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہفتے کے روز اس عمارت کے سامنے کم از کم ایک ہزار لوگ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آئے جہاں مفت خوراک کے پیکٹ تقسیم کیے جا رہے تھے۔ ان میں اکثریت ان غریب کارکنوں اور قانونی دستاویز نہ رکھنے والے تارکین وطن کی تھی جو عالمی وبا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہو چکے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کا شمار متمول ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ لیکن، کرونا وائرس نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو مفت خوراک ڈھونڈنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مفت خوراک حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی لائن کم و بیش ایک کلومیٹر لمبی تھی جو صبح پانچ بجے سے ہی وہاں آ کر کھڑے ہو گئے تھے، تاکہ ان کی باری جلد آ سکے۔ خوراک تقسیم کرنے والے رضاکاروں کے پاس 1500 کے لگ بھگ پیکٹ تھے۔
نکاراگوا سے آ کر جنیوا میں رہنے والے ایک شخص انگریڈ برالا نے بتایا کہ میں جنیوا میں پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔ مگر ملازمت جاتی رہی ہے۔ میری جیب خالی ہو چکی ہے۔ مجھے اپنے بل، انشورنس اور سب کچھ ادا کرنا ہے۔ میرے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں رہا۔ یہ بہت اچھا ہے کہ ہمیں ایک ہفتے کی خوراک مفت دے رہے ہیں۔ ایک ہفتہ تو سکون سے گزر جائے گا۔ آگے کا اللہ مالک ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی آبادی تقریباً 86 لاکھ ہے جن میں سے 6 لاکھ 60 ہزار کے لگ بھگ غریب ہیں۔ ایک خیراتی ادارے کاریٹاس کا کہنا ہے کہ یہ عموماً اکیلی مائیں ہیں جو اپنے بچے پال رہی ہیں۔ ان کی تعلیم بہت کم ہے۔ انہیں ملازمت مشکل سے ملتی ہے۔ اگر نوکری جاتی رہے تو دوبارہ ڈھونڈنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔
ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 11 لاکھ افراد غربت کی لکیر کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں، کیونکہ ان کی آمدنیاں 2018 کی اوسط آمدنی یعنی 6736 امریکی ڈالر سے 60 فی صد سے بھی کم ہے۔
جنیوا، زیورخ کے بعد دنیا کا مہنگا ترین شہر ہے جب کہ اس شہر میں اوسط آمدنی بھی نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی گزر بسر ہو جاتی ہے۔
غریبوں کی مدد کے لیے کام کرنے والے گروپ جینوا سالیڈیرٹی کیروین کی ایک عہدے دار، سلوانا ماٹروماٹو کا کہنا ہے کہ میں نے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے سب مدد کرنے نکل پڑے ہیں۔ یہ ایک اچھی چیز ہے۔ یہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہے۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ایک عہدے دار پیٹرک ویلینڈ نے بتایا کہ ہم نے پچھلے ہفتے خوراک لینے والوں کا سروے کیا تھا، جس سے پتا چلا تھا کہ ان میں سے آدھے لوگ قانونی دستاویزات کے بغیر یہاں رہ رہے تھے جب کہ باقیوں کی حیثیت قانونی تھی یا انہوں نے پناہ کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔
جنیوا کا شمار دنیا کے امیر ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔ اس شہر میں لوگ مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ لیکن پھر ہوا یہ کہ جیسے ہی کوویڈ 19 پھیلنا شروع ہوا، لوگ آن واحد میں اپنے روزگار سے محروم ہو گئے۔
ایک غیر قانونی تارک وطن نے جس کا نام فرننڈو ہے، بتایا کہ میں ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا مگر کرونا وائرس کی وجہ سے نوکری جاتی رہی اور میرے پاس کچھ نہیں رہا۔ اس لیے مجھے مفت خوراک کی لائن میں کھڑا ہونا پڑا۔ جب اچھے دن واپس آئیں گے تو میں بھی ضرورت مندوں کی اسی طرح مدد کروں گا جس طرح یہ آج میری مدد کر رہے ہیں۔
رپورٹرز ڈائری: 'عید کا جوڑا نہیں چاہیے، بس راشن دے دیں'
یہ رمضان گزشتہ رمضان کی نسبت خاصا مختلف ہے۔ نہ کوئی رونق ہے نہ کوئی سرگرمی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کا اثر اب ذہنوں پر اتنا ہے کہ اس مہینے کی پرجوش روایتیں کچھ ماند سی پڑ گئی ہیں۔
بازار بند ہیں تو گہما گہمی، عید کی تیاری کا جوش اور ولولہ بھی اب نظر نہیں آتا۔ گزشتہ برس ان ہی دنوں میری درزی سے اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ اب وہ مزید کوئی سوٹ کیوں نہیں سی سکتا کیوں کہ اس کے بقول تو 10 رمضان تک بکنگ بند ہوگئی تھی۔
اب یہ حال ہے کہ درزی کا روز ہی فون آ رہا ہے کہ کوئی سوٹ ہے تو دے دیں تاکہ میں کچھ کما سکوں۔ لاک ڈاؤن سے دکان بند ہے اور گھر کا چولہا چلانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔
ان حالات میں کیا عید منائیں؟ لیکن ہر ایک کی ضرورت تو ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ سو یہ سوچ کر کہ عید پر نہ سہی، جب یہ وبا ختم ہو گی تب نئے کپڑے پہن کر اپنے پیاروں اور عزیزوں کے ہمراہ کہیں باہر جانا تو ہوگا، ایک دو نئے جوڑے سلوانے میں کوئی حرج نہیں۔
چلو مشہور برانڈ نے تو کپڑوں کی سیل کے ساتھ آن لائن ڈلیوری کا سلسلہ جاری رکھا ہی ہے۔ پر وہ کپڑے جو ملتے ہی دکان پر ہیں یا کسی برانڈ کے نہیں، میچنگ ہے یا کوئی دوپٹہ، وہ کیسے آن لائن منگوائے جائیں؟
وہ دکان دار جو رمضان کا سارا سال انتظار کرتے تھے کہ اس ماہ وہ کوئی اسٹال لگائیں یا کوئی بھی مال بیچیں گے تو خوب منافع ہو گا۔ وہ اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔ نہ جانے ان کا گزارہ کیسے ہو رہا ہو گا؟