رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:03 10.5.2020

کرونا وائرس: پنجاب میں 'اسمارٹ ٹیسٹنگ' کا آغاز

حکومتِ پنجاب نے کرونا وائرس کے باعث جاری لاک ڈاؤن میں جہاں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہیں صوبے بھر میں 'اسمارٹ ٹیسٹنگ' شروع کر دی ہے۔ محکمۂ صحت پنجاب کے مطابق اسمارٹ ٹیسٹنگ ماہرین کی مشاورت سے شروع کی گئی ہے جس کا مقصد نتائج کا تجزیہ کرکے کرونا سے نمٹنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل بنانا ہے۔

کرونا وائرس: پنجاب میں 'اسمارٹ ٹیسٹنگ' کا آغاز
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:17 0:00
10:26 10.5.2020

پاکستان میں اموات کی تعداد 639 ہو گئیں

پاکستان میں کرونا وائرس کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1991 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے جب کہ حکام نے 21 اموات کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری ویب سائٹ پت جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 29465 ہو گئی ہے جب کہ متاثرہ افراد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1991 کا اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں اموات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری طور پر کرونا سے 639 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

سب سے زیادہ کیسز پنجاب میں 11093 ہے جب کہ سندھ میں کیسز کی تعداد 10771 ہے۔ حکام نے خیبر پختونخوا میں 4509 افراد، بلوچستان میں 1935، اسلام آباد میں 641، گلگت بلتستان میں 430 جب کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 86 افراد میں وائرس کی تصدیق کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے 8023 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں کیسز کم آئے ہیں لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ اموات خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں وائرس سے 234 افراد کی موت ہوئی جب کہ پنجاب میں 192، سندھ میں 180، بلوچستان میں 24، اسلام آباد میں 5، گلگت بلتستان میں 4 افراد وائرس سے ہلاک ہوئے تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

01:38 10.5.2020

واشنگٹن ڈی سی کی ایک سڑک کا نام چین کے ڈاکٹر لی پر رکھ دیا گیا

کانگریس کی خاتون رکن لز چینی نے جمعرات کو ایک قرارداد ایوان نمائندگان میں پیش کی۔ بل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نام دنیا اور چین کی حکومت کو مسلسل یاد دلاتا رہے گا کہ حق و سچ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔

مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ''ہم ڈاکٹر لی کی جرتمندی کو کبھی فراموش نہیں کریں گے، اور چین کی کیمونسٹ پارٹی کو جواب دہ ہونا پڑے گا''۔

سینیٹ میں بھی اسی طرح کا ایک بل اسی دن سینیٹر بین ساسے نے پیش کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ لی چین کے عوام کے ہیرو ہیں۔ چیرمین شی جن پنگ ڈاکٹر لی کو اپنی پارٹی کا شہید بنانے کی جتنی بھی کوشش کریں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈاکٹر لی کے بے غرض کام اور آواز کو کیمونسٹ پارٹی نے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

ڈاکٹر لی ووہان کے مرکزی ہسپتال میں آنکھوں کے ڈاکٹر تھے اور انہوں نے دسمبر کے آخر میں اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ سارس کی طرح کا وائرس ظاہر ہوا ہے۔ ان کے اس اظہار پر ان کی مقامی انتظامیہ نے باز پرس کی تھی۔ اس کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ نامزد سرکاری حکام کے سوا کوئی اور کرونا وائرس کے بارے میں بات نہیں کرے گا۔

اس وقت تک چین نے یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ انسان سے انسان تک پھیلنے والا وائرس یعنی کرونا وائرس کا کوئی وجود ہے۔ اس وقت ووہان میں جو ڈاکٹر اس مرض کے شکار مریضوں کا علاج کر رہے تھے۔ انہیں حفاظتی لباس پہننے نہیں دیا گیا۔ ڈاکٹر لی بھی اس مرض کی لپیٹ میں آگئے اور سات فروری کو ان کا انتقال ہو گیا۔

امریکہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی غیر ملکی کے نام پر سڑک کا نام رکھا گیا ہو۔

دریں اثنا، واشنگٹن میں چین کے سفیر اور سفار خانے کا دیگر عملہ اس تنقید کی تاویلیں پیش کر رہا ہے کہ چین نے کرونا وائرس کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے میں تاخیر سے کام لیا۔ چین کے سفیر کا اس بارے میں بدھ کو اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون شایع ہوا تھا، جس کا عنوان تھا 'چین پر الزام دھرنے سے یہ عالمی وبا ختم نہیں ہو گی' سفارت خانے کی ویب سائٹ پر بھی اس طرح کی صفائیاں پیش کی جا رہی ہیں۔

00:51 10.5.2020

قرنطینہ مرکز سے 70 افراد فرار، کھانا نہ ملنے کی شکایت

بھارت کی ریاست بہار کے ضلع نوادا میں کرونا وائرس کے لیے قائم کیے جانے والے ایک قرنطینہ مرکز سے 70 کے لگ بھگ افراد فرار ہو گئے۔ اس مرکز میں ان لوگوں کو رکھا جا رہا تھا جن کے بارے میں کرونا انفکشن سے متاثرہ ہونے کا شبہ تھا۔

مرکز سے بھاگنے والوں نے الزام لگایا ہے کہ وہاں کھانے پینے کا انتظام بہت ناقص تھا۔ اور انہیں ضرورت کے مطابق کھانے پینے کو نہیں مل رہا تھا۔

ایک مقامی ٹیلی وژن چینل نے ہفتے کے روز ایک فوٹیج نشر کی جس میں قرنطینہ میں رکھے جانے والے افراد کو اپنا سامان اٹھائے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

نوادا ڈسٹرکٹ کے سردالا بلاک کے آدرش انٹر سکول میں تقریباً 150 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ یہ قصبہ ریاست کے صدر مقام پٹنہ سے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یشپال مینا نے بتایا کہ دوسرے علاقوں سے روزگار کے لیے آئے ہوئے پچاس کے لگ بھگ افراد قرنطینہ مرکز چھوڑ کر اس وقت بھاگ گئے جب انہیں پتا چلا کہ مرکز کے ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 15 کے لگ بھگ افراد کو پکڑ کر دوبارہ قرنطینہ مرکز پہنچا دیا گیا ہے۔

بھارت میں حالیہ دنوں میں اس کے بعد سے کرونا انفکشن کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔

اس نرمی کا ایک اور مقصد دیہاتوں اور بستیوں سے شہروں میں جا کر کام کرنے والے مزدورں اور کارکنوں کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔

حکومت نے بستیوں اور دوسرے علاقوں سے بڑے شہروں میں روزگار کے لیے آنے والوں کو 14 روز تک قرنطینہ میں رکھنے کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی ہے اور ان کے لیے خصوصی ریل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔

بھارت میں اس وقت کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 62 ہزار سے زیادہ ہے جب کہ 2100 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG