رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:35 11.5.2020

برطانیہ کے سوا یورپ کے بیشتر ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز

فرانس میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز ہو رہا ہے۔
فرانس میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز ہو رہا ہے۔

فرانس اور اسپین سمیت بیشتر یورپی ملکوں میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے جب کہ برطانیہ نے کرونا وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق فرانس، بیلجیم، یونان اور اسپین میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی پر عمل درآمد شروع ہو گا۔

فرانس میں لگ بھگ آٹھ ہفتوں کے بعد پیر کی صبح سے شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔ پرائمری اسکول ٹیچرز ایک مرتبہ پھر اسکولوں میں آ گئے ہیں جب کہ ہیئر ڈریسرز سمیت بعض دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود فرانس میں ریستوران، تھیٹرز، سنیما اور بارز بدستور بند رہیں گے۔

مزید پڑھیے

10:33 11.5.2020

پاکستان میں متاثرین کی تعداد 30 ہزار سے بڑھ گئی

پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 28 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 667 تک پہنچ گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے مزید 1476 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ ہونے والے افراد مجموعی تعداد 30 ہزار 941 ہو گئی ہے۔

02:59 11.5.2020

پاکستانی فوج میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت

طورخم سرحد پر کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے تعینات میجر محمد اصغر خود اس مہلک وائرس کا نشانہ بننے کے بعد چل بسے ہیں۔

فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر اصغر پاکستان اور افغانستان کی اہم سرحدی گزرگاہ طورخم پر لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کے دوران کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اسکریننگ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

اس دوران وہ بھی وائرس کا شکار ہوئے جنہیں مرض کی شدت بڑھنے سے سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگی تھی جس پر انہیں سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا۔

بیان کے مطابق میجر اصغر کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر محمد اصغر نے کرونا سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ قوم کی خدمت سے بڑا کوئی کاز نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

02:55 11.5.2020

والد کی وفات پر میں ماں کے گلے لگ کر رو بھی نہ سکا

قرنطینہ کی مدت پوری ہو گئی۔ دو ٹیسٹ بھی منفی آ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ابھی تک فاصلہ برقرار ہے۔ اس سے زیادہ کیا ستم ہو گا کہ ابھی تک والد کی وفات پر میں اور امی ایک دوسرے کے گلے سے لگ کر رو بھی نہیں سکے۔ یہ الفاظ ہیں کراچی کے رہائشی 37 سالہ سید وقار الحسن کے، جن کے والد لطیف الحسن کرونا وائرس کا شکار ہو کر وفات پا گئے اور اسی روز ان میں اور ان کی والدہ شہناز لطیف میں بھی وائرس کی تشخیص ہو گئی۔

حال ہی میں وائس آف امریکہ نے کرونا کا شکار ہونے والے افراد کی تدفین کے عمل پر ایک ڈیجیٹل رپورٹ بنائی۔ جسے دیکھ کر وقار کا غم تازہ ہو گیا کہ وہ بھی اپنے والد کے آخری سفر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں شدید ملال ہے۔ وقار نے ہمیں اپنی آپ بیتی سنائی جسے ہم ان کی زبانی یہاں پیش کر رہے ہیں۔

20مارچ کو میرے والد کی طبیعت ناساز ہوئی۔ انھیں ہلکا بخار تھا، پھر نزلہ، زکام، گلا خراب ہوا، جو بظاہر معمول کی بات تھی۔ ہم نے ڈاکٹر کو علامتیں بتا کر اینٹی بائیو ٹکس اور اینٹی الرجی دوائیں دینا شروع کیں۔ لیکن پھر 27 مارچ کو جب وہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروا کر لوٹے تو ان کا سانس بہت تیز چل رہا تھا۔ جب وہ لیٹتے تو انھیں سانس لینے میں دشواری پیش آتی۔ یہ کیفیت نمونیا کے مرض جیسی تھی۔

امی نے جب ابو کی یہ حالت دیکھی تو انھوں نے مجھے کہا کہ انھیں اسپتال لے جانا چائیے۔ ان کے لیے رات گزارنا مشکل ہو سکتا ہے۔

مزید تفصیل

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG