برطانیہ کے سوا یورپ کے بیشتر ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز
فرانس اور اسپین سمیت بیشتر یورپی ملکوں میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے جب کہ برطانیہ نے کرونا وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق فرانس، بیلجیم، یونان اور اسپین میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی پر عمل درآمد شروع ہو گا۔
فرانس میں لگ بھگ آٹھ ہفتوں کے بعد پیر کی صبح سے شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔ پرائمری اسکول ٹیچرز ایک مرتبہ پھر اسکولوں میں آ گئے ہیں جب کہ ہیئر ڈریسرز سمیت بعض دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود فرانس میں ریستوران، تھیٹرز، سنیما اور بارز بدستور بند رہیں گے۔
پاکستان میں متاثرین کی تعداد 30 ہزار سے بڑھ گئی
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 28 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 667 تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے مزید 1476 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ ہونے والے افراد مجموعی تعداد 30 ہزار 941 ہو گئی ہے۔
پاکستانی فوج میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
طورخم سرحد پر کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے تعینات میجر محمد اصغر خود اس مہلک وائرس کا نشانہ بننے کے بعد چل بسے ہیں۔
فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر اصغر پاکستان اور افغانستان کی اہم سرحدی گزرگاہ طورخم پر لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کے دوران کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اسکریننگ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔
اس دوران وہ بھی وائرس کا شکار ہوئے جنہیں مرض کی شدت بڑھنے سے سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگی تھی جس پر انہیں سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا۔
بیان کے مطابق میجر اصغر کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر محمد اصغر نے کرونا سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ قوم کی خدمت سے بڑا کوئی کاز نہیں ہے۔
والد کی وفات پر میں ماں کے گلے لگ کر رو بھی نہ سکا
قرنطینہ کی مدت پوری ہو گئی۔ دو ٹیسٹ بھی منفی آ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ابھی تک فاصلہ برقرار ہے۔ اس سے زیادہ کیا ستم ہو گا کہ ابھی تک والد کی وفات پر میں اور امی ایک دوسرے کے گلے سے لگ کر رو بھی نہیں سکے۔ یہ الفاظ ہیں کراچی کے رہائشی 37 سالہ سید وقار الحسن کے، جن کے والد لطیف الحسن کرونا وائرس کا شکار ہو کر وفات پا گئے اور اسی روز ان میں اور ان کی والدہ شہناز لطیف میں بھی وائرس کی تشخیص ہو گئی۔
حال ہی میں وائس آف امریکہ نے کرونا کا شکار ہونے والے افراد کی تدفین کے عمل پر ایک ڈیجیٹل رپورٹ بنائی۔ جسے دیکھ کر وقار کا غم تازہ ہو گیا کہ وہ بھی اپنے والد کے آخری سفر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں شدید ملال ہے۔ وقار نے ہمیں اپنی آپ بیتی سنائی جسے ہم ان کی زبانی یہاں پیش کر رہے ہیں۔
20مارچ کو میرے والد کی طبیعت ناساز ہوئی۔ انھیں ہلکا بخار تھا، پھر نزلہ، زکام، گلا خراب ہوا، جو بظاہر معمول کی بات تھی۔ ہم نے ڈاکٹر کو علامتیں بتا کر اینٹی بائیو ٹکس اور اینٹی الرجی دوائیں دینا شروع کیں۔ لیکن پھر 27 مارچ کو جب وہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروا کر لوٹے تو ان کا سانس بہت تیز چل رہا تھا۔ جب وہ لیٹتے تو انھیں سانس لینے میں دشواری پیش آتی۔ یہ کیفیت نمونیا کے مرض جیسی تھی۔
امی نے جب ابو کی یہ حالت دیکھی تو انھوں نے مجھے کہا کہ انھیں اسپتال لے جانا چائیے۔ ان کے لیے رات گزارنا مشکل ہو سکتا ہے۔