- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں 24 گھنٹوں میں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی فرد میں کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
محکمہ صحت کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اب تک 2872 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 2798 کے نتائج آ چکے ہیں۔
حکام کے مطابق 86 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جن میں سے 64 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ 22 مریض زیر علاج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2705 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی۔
- By علی فرقان
پاکستان کے تین ارکان قومی اسمبلی میں کرونا وائرس کی تصدیق
پاکستان کی پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل اراکین اسمبلی اور سیکریٹریٹ اسٹاف میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
قومی ادارہ صحت کے مطابق تین اراکین اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ قومی اسمبلی کے تین ملازمین بھی اس وبا میں مبتلا پائے گئے ہیں۔
وبا سے متاثر اراکین اسمبلی میں ظفریاب خان، گل ظفر اور محمود شاہ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو ماہ کے بعد پاکستان کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس رواں ہفتے ہونے جارہے ہیں۔
ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار جب کہ سینیٹ کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا۔
اس غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے لیے تمام اراکین پارلیمنٹ کے کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
قومی ادارہ صحت نے ہفتے کو اراکین سینیٹ و قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کے ملازمین کے کرونا وائرس کے نمونے حاصل کیے جن کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق اب تک تین اراکین اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سینیٹر مرزا محمد آفریدی پہلے سے اس وبا میں مبتلا ہیں جب کہ انہوں نے خود کو قرنطینہ کر رکھا ہے۔ قومی اسمبلی کے تین ملازمین بھی پہلے سے کرونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کی پارلیمنٹ عملی طور پر گزشتہ دو ماہ سے معطل ہے۔ وبا سے پیدا شدہ حالات میں قومی اسمبلی و سینیٹ کے ورچوئل اجلاس بلانے پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد باقاعدہ اجلاس بلائے گئے ہیں۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ان غیر معمولی اجلاسوں میں کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔
کرونا وائرس بحران میں امریکی قانون ساز کیسے کام کر رہے ہیں؟
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں لیکن سینیٹ کے ارکان اس ہفتے کام پر واپس آ گئے ہیں۔ البتہ ایوانِ نمائندگان کے ارکان اب بھی گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ اس وبا کے ایام میں امریکی قانون ساز اپنا کام کیسے جاری رکھے ہوئے ہیں؟ دیکھیے اس رپورٹ میں
تین اعلیٰ امریکی عہدیدار وائرس کے خدشے کے پیش نظر قرنطینہ میں چلے گئے
امریکہ میں تین انتہائی اعلیٰ عہدیدار کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر خود قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وائٹ ہاؤس کی کرونا رسپانس ٹیم کے اہم رکن ڈاکٹر انتھونی فاؤچی، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر اسٹیفن ہان اس لیے قرنطینہ میں گئے ہیں کیوں کہ ان کا عملے کے ان ارکان سے سامنا ہوا تھا جن میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز کے مطابق ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کو وائرس پائے جانے کے کم درجے پر رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کی عمر 79 سال ہے۔ ان کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیزکے ڈائریکٹر کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔