بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 35 کیس رپورٹ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ منگل کو مزید 35 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس طرح لداخ سمیت جموں و کشمیر میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد 1050 ہو گئی ہے۔ اب تک 10 افراد کی وائرس سے ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
ماہرین کے بقول وبا کے نفسیاتی اثرات بھی لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔
شورش زدہ علاقے میں تعینات بھارتی وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ایک افسر فتح سنگھ نے مبینہ طور پر اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی مار کر خود کشی کی۔ بھارتی ریاست راجستھان سے تعلق رکھنے والے سنگھ نے اپنے خود کشی نوٹ میں لکھا تھا کہ "میری لاش کو کوئی نہ چھوئے مجھے ڈر ہے کہ میں کرونا میں مبتلا ہو گیا ہوں۔"
حکام کے مطابق بھارت میں پیر کی صبح سے منگل کی دوپہر تک کرونا کے مزید چار ہزار کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس طرح ملک میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 71 ہزار ہو گئی ہے۔ اب تک 2300 افراد وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی علی وزیر میں وائرس کی تصدیق
قوانین کے تحت بغیر امتحان لیے طلبہ کو پروموٹ نہیں کر سکتے: وزیر تعلیم سندھ
پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن قانونی طور پر نویں، دسویں، فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کے طلبہ کی اگلی جماعتوں تک رسائی کے لیے امتحانات کے علاوہ کوئی قانونی راستہ موجود نہیں ہے۔
لہذٰا یہ قانونی گنجائش نکالنے کے لیے قانون میں ترمیم کرنا ہو گی۔
وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ بعض نجی اسکولوں نے تجاویز دی ہیں کہ وہ آن لائن تدریس اور بچوں کو ہوم ورک گھروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے یکم جون کو اسکول نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت آن لائن تدریس پر غور کر رہی ہے جس کے تحت اساتذہ کو اسکولوں میں بلایا جائے اور بچے گھر پر ہی رہیں۔ لیکن اس میں رکاوٹ دیہی علاقوں میں انٹر نیٹ نہ ہونا ہے۔ جس کے لیے کمپنیوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں کرونا سے اموات 38 ہزار سے زائد
برطانیہ میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات 38 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ یہ اموات یورپ کے کسی بھی ملک میں ہونے والی اموات سے زیادہ ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چھ ہزار سے زائد افراد وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
ناقدین کرونا وائرس کے خلاف حکومتی حکمت عملی پر بھی سوال اُٹھا رہے ہیں۔ خاص طور پر وزیر اعظم بورس جانسن کی کارکردگی بھی موضوع بحث ہے۔
برطانیہ کے قومی ادارہ برائے شماریات کی جانب سے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب وزیر اعظم بورس جانسن لاک ڈاؤن میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے بعض کاروبار کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں اپوزیشن جماعتوں کا یہ موقف ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن نے وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے میں تاخیر کی۔
وزیر اعظم پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ اُن کی حکومت اسپتالوں کو ضروری طبی آلات اور سامان کی فراہمی میں ناکام رہی۔