یوم علی پر صرف امام بارگاہوں میں مجالس کی اجازت، متعلقہ علاقوں میں موبائل سروس بند
حکومتِ پنجاب کی جانب سے یوم علی کے موقع پر صرف امام بارگاہوں میں احتیاطی تدابیر کے تحت مجالس کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
یوم علی پر جلوس نکالنے کی اجازت نہ ہونے پر پولیس نے لاہور کے مختلف علاقوں میں رکاٹیں کھڑی کر کے جلوس کے راستوں کو سیل کر دیا۔ مذکورہ علاقوں میں ٹریفک کی آمدورفت بھی معطل ہے۔ حکام نے دو کلو میٹر کے علاقے میں موبائل فون سروس بھی بند کر دی ہے۔
ایس پی سیکیورٹی لاہور محمد بلال کے مطابق حکومت کی جانب سے کسی بھی جلوس کی اجازت نہیں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایس پی سیکیورٹی نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے جلوس کے راستے کو آٹھ مختلف مقامات پر کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر درجنوں دکانوں کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 564 دکانوں کو سیل کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے ہفتے کے چار روز پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو بازار اور کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دی تھی۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو بازار اور مارکیٹس بند رہیں گی۔
پنجاب میں پیر سے شاپنگ مالز اور آٹو موبائل انڈسٹری کھولنے کا فیصلہ
پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے پیر سے شاپنگ مالز اور آٹو موبائل انڈسٹری بھی کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔
میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ شاپنگ مالز کے اوقات کار کا بھی تعین کر دیا گیا ہے۔ مالز میں ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ شاپنگ مالز میں تھرمل گن سے چیکنگ، ہینڈ سینیاٹائزر اور ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر صنعت کا کہنا تھا کہ آٹو موبائل انڈسٹری کے پیداواری یونٹس بھی ہفتے کے ساتوں دن کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔
دبئی: لاک ڈاؤن سے پریشان فلم بینوں کے لیے پہلا 'ڈرائیو ان' سنیما
متحدہ عرب امارات کی ریاست 'دبئی' میں لاک ڈاؤن سے پریشان فلم بینوں کے لیے پہلا 'ڈرائیو اِن' سنیما کھل گیا ہے۔ جس میں باقاعدہ طور پر فلم اتوار کو دیکھی جاسکے گی۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے مایوسی کا شکار فلم بین اب دبئی میں واقع دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ مالز میں سے ایک مال کی چھت پر بنے ایک نئے ڈرائیو ان سنیما میں اپنی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے فلموں سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔
متحدہ عرب امارات میں وبائی مرض سے بچنے کے لیے سماجی دوری برقرار رکھنا لازمی قرار دی گئی ہے۔ جس کو مد نظر رکھتے ہوئے 'ووکس سنیماز' نے ایک ڈرائیو ان سنیما قائم کیا ہے۔ جس میں گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی دو افراد فلم دیکھ سکیں گے۔
سنیما آئندہ اتوار سے باقاعدہ عوام کے لیے کھول دیا جائےگا۔ جس میں بیک وقت 75 گاڑیاں کھڑی کی جاسکیں گی۔ یعنی ایک شو کو ایک وقت میں کم ازکم 150 افراد دیکھ سکیں گے۔
رپورٹرز ڈائری: 'ہم مسلمان ہو گئے ہیں، کچھ راشن ہی دلوا دیں'
دنیا کے بیشتر ممالک کے شہریوں کی طرح ہم لاہور والوں کے لیے بھی لاک ڈاؤن کی اصطلاح اور تجربہ بالکل نیا تھا۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن کیے جانے کے بعد مجھے پہلی حیرت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب میں نے دفتر سے گھر جاتے ہوئے اپنے علاقے کے بازار کو اندھیرے میں ڈوبا ہوا پایا۔
رات نو بجے کا وقت تھا جب میں لاک ڈاؤن کے پہلے روز دفتر سے گھر روانہ ہوئی تھی۔ میرے علاقے کا بازار جو رات گئے بھی روشن رہا کرتا تھا وہ اب مکمل طور پر اندھیرے میں تھا۔ ریستوران ہوں یا چھابڑی اور ٹھیلوں پر سامان بیچنے والے، جنرل اسٹور اور بیکریاں، دودھ دہی کی دکانیں اور نان بائی کا ہوٹل، سب ہی کے شٹر ڈاؤن تھے اور بجلی بند۔
دیر رات تک جاگنے والے لاہوریوں کی طرح میں بھی یہ سوچ رہی تھی کہ اگر اب نصف شب بچوں نے پیزا یا برگر کی فرمائش کی یا مجھے خود ٹھنڈی بوتل یا آئس کریم کی طلب ہوئی تو کس دکان کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
خیر اگلے چند روز صورتِ حال کو سمجھنے اور پابندی کے اطلاق کی حدود جاننے میں لگے۔ پھر ہمیں معلوم ہو گیا کہ بس جو بھی خریداری کرنی ہے شام پانچ بجے سے پہلے ہی کر لیں اور اپنی ذائقے کی حس کو بھی صبح ہی جگا کر پوچھ لیں کہ آپ شام یا نصف شب میں کیا تناول کرنا پسند فرما سکتی ہیں۔
اس دوران لاہور شہر کے وہ مناظر دیکھے جو اس سے پہلے شاید ہی کبھی دیکھے ہوں گے۔ روشنیوں سے جگمگاتی لبرٹی مارکیٹ کی تاریکی، تل دھرنے کی جگہ نہ رکھنے والے اچھرہ بازار کی تنہائی اور شور برپا کرتے انار کلی بازار کی خاموشی تو ڈرانے لگی تھی۔