رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:41 15.5.2020

بین الاقوامی فلائٹ آپریشن کی بندش میں 16 دن کی توسیع

حکومتِ پاکستان نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر بین الاقوامی فلائٹ آپریشن مزید 16 روز بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ اندرون ملک فلائٹ آپریشن 16 مئی سے بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی ایئر لائن نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پشاور ایئر پورٹ سے چار اور کوئٹہ ایئرپورٹ سے ہفتے میں آٹھ پروازیں چلیں گی۔

اسلام آباد اور لاہور سے ہفتے میں 32 پروازیں چلیں گی۔ نوٹی فکیشن کے مطابق کراچی سے ہفتے میں 68 پروازیں چلیں گی۔ پی آئی اے اور سیرین ایئر لائنز کو اندرون ملک پروازیں چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بین الاقومی فضائی آپریشن کی بندش میں مزید 16 دن کی توسیع کا نوٹم بھی جاری کردیا ہے۔

نوٹم کے مطابق بین الاقوامی پروازیں 31 مئی تک رات 11بج کر59منٹ تک بند رہیں گی۔ خصوصی پروازوں اور چارٹرڈ طیاروں کو پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ بندش کا اطلاق حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی خصوصی پروازوں پر نہیں ہو گا۔ کارگو فلائٹس کو بھی فیصلے سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

سول ایوی ایشن نے 25 مارچ کو کرونا وائرس کے پیشِ نظر اندرون اور بیرون ملک فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا تھاْ۔ اس پابندی میں 21 اپریل اور اس کے بعد مزید 15 روز کی توسیع کر دی گئی تھی۔ گزشتہ فیصلے کے مطابق فلائٹ آپریشن آج 15 مئی سے بحال ہونا تھا، تاہم، بین الاقوامی فضائی آپریشن اب 31 مئی تک معطل رہے گا۔

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے ریلیف آپریشن بھی جاری ہے۔ خصوصی پرواز پی کے 8750 فرانس میں پھنسے 149 پاکستانیوں کو لے کر اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب سے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے مزید پروازوں کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق، جدہ سے پی آئی اے کی پرواز پیر 18مئی کو250 مسافروں کو لے کرفیصل آباد جائے گی جبکہ جمعرات 21 مئی کو دمام سے اسلام آباد کے لیے خصوصی پرواز چلائی جائے گی۔

اس پرواز سے بھی 250 پاکستانی واپس جائیں گے۔ ہفتہ 16 مئی کو پی آئی اے کی پرواز مدینہ سے 250 افراد کو لے کر کراچی کے لیے روانہ ہوگی۔ سعودی ایئر لائنز کی دو خصوصی پروازیں17 اور 21 مئی کو پشاور اور ملتان کے لیے شیڈول ہیں۔

اسلام آباد سے بارسلونا کے لیے پرواز 17 مئی کو روانہ ہوگی۔ لاہور سے فرینکفرٹ کے لیے پرواز 19 مئی جب کہ اسلام آباد سے میلان کے لیے پرواز 22 مئی کو روانہ ہو گی۔

17:00 15.5.2020

دنیا بھر میں کرونا مریضوں کی تعداد 45 لاکھ کے لگ بھگ

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 45 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ اس وائرس سے اب تک تین لاکھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

فلپائن میں ہزاروں افراد بڑے جزیرے لوزون کی پناہ گاہ میں جمع ہو چکے ہیں اور حکومت کو خدشہ ہے کہ ملک میں کرونا وائرس انتہائی شدت سے پھیل سکتا ہے۔ اس جزیرے کے شہری سمندری طوفان کے باعث لاک ڈاؤن سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ طوفان شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے ساتھ جزیرے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

چینی شہر ووہان میں جہاں کرونا وائرس سب سے پہلے نمودار ہوا تھا، اس وائرس کے دوبارہ سر اٹھانے کے بعد محکمہ صحت کے اہلکاروں نے ہر شہری کا ٹیسٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ ووہان کے تمام شہریوں کے ٹیسٹ دس روز میں مکمل کر لیے جائیں گے۔

امریکی بحریہ کے جہاز میں قائم ہسپتال USNS لاس اینجلس سے روانہ ہو رہا ہے۔ یہ جہاز 27 مارچ کو لاس اینجلس کی بندرگاہ پر پہنچا تھا اور اس نے لاس اینجلس کے اسپتالوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو ختم کرنے کے لیے مدد فراہم کی۔ تاہم اس جہاز کا 60 افراد پر مشتمل طبی عملہ لاس اینجلس میں ہی موجود رہے گا اور مختلف نرسنگ سینٹرز میں خدمات انجام دے گا۔

ادھر نیو یارک میں پانچ کاؤنٹیاں آج جمعہ کے روز سے لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کر رہی ہیں۔ تاہم ان میں نیو یارک شہر شامل نہیں ہے۔ ریاست نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے مذکورہ پانچ کاؤنٹیوں کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

روس میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ بڑھائے جا رہے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کیسز کے اعتبار سے روس دوسرے نمبر پر ہے۔ جہاں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد اس وائرس کی لپیٹ میں ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کیسز امریکہ میں ہیں جن کی تعداد 14 لاکھ ہے۔

14:56 15.5.2020

14:41 15.5.2020

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور پارلیمنٹ کی پریس گیلری بند

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمانی رپورٹنگ کرنے والے تین صحافیوں کے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے پر پریس گیلری کو بند کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھی 22 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پریس گیلری اور پریس لاؤنج سے اسمبلی اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے بجائے سرکاری ٹی وی سے براہ راست کارروائی دیکھتے ہوئے رپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز سے کرونا وائرس پر حکومتی حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے سینیٹ و قومی اسمبلی کے اجلاس منعقد ہورہے تھے۔ جن کی رپورٹنگ کے لیے محدود تعداد میں صحافیوں کو پارلیمنٹ آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بہزاد سلیمی کہتے ہیں کہ جمعرات کو پارلیمنٹ کی کوریج کرنے والے تین صحافیوں کے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے۔

انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کی حفاظت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی کے جمعے کو ہونے والے اجلاس کو پریس گیلری کے بجائے ویڈیو لنک سے دیکھتے ہوئے کوریج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بہزاد سلیمی نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی کوریج کرنے والے تمام صحافیوں کے کرونا وائرس ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

صحافتی تنظیموں نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وبا کی صورتِ حال میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے والے کرونا وائرس کا آسان ہدف ہیں لہذا ان کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔

خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کرونا وائرس میں مبتلا ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں یہ اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔

اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانی صحافیوں کے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ صحافی اور بعض اراکین اسمبلی جو کرونا وائرس میں مبتلا ہوئے ہیں انہیں یہ وبا پارلیمنٹ کے جاری اجلاس سے لگی ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج کے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا لیکن تین پارلیمانی صحافیوں اور دو سینیٹرز کے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ارادہ ملتوی کردیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹ کا ورچوئل اجلاس جلد بلایا جائے گا جہاں اس وبا کے خطرے سے بلاخوف اطمینان سے بات ہو سکے گی۔

خیال رہے کہ حکومت پارلیمنٹ کا ورچوئل اجلاس بلانا چاہتی تھی تاہم حزب اختلاف نے یہ کہہ کر اسے رد کردیا کہ پارلیمانی قواعد میں اس کی اجازت نہیں ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے یہ اجلاس اب غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG