رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:35 16.5.2020

نیدرلینڈز میں ایک کتا اور تین بلیاں کرونا وائرس سے متاثر

نیدرلینڈز کے حکام نے کہا ہے کہ ایک کتے اور تین بلیوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ملک میں پالتو جانوروں کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے اولین واقعات ہیں۔

وزیر زراعت کیرولا شاؤٹن نے پارلیمان کو تحریری طور پر اس بارے میں آگاہ کیا۔ کتے کے بارے میں خیال ہے کہ اسے اپنے مالک سے وائرس لگا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ پالتو جانوروں کے مالک اس مشورے پر عمل کریں: کرونا وائرس کے مریض احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے جانوروں سے دور رہیں۔ جو پالتو جانور بیمار ہوں انھیں جس حد تک ممکن ہو، گھر کے اندر رکھا جائے۔

دنیا بھر میں لاکھوں انسان کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں، لیکن اس وبا سے چند ایک ہی جانور متاثر ہوئے ہیں۔ اس وائرس کے حملے میں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیدرلینڈز کے قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں جانوروں سے انسانوں کو وائرس لگنے کا خدشہ بہت کم ہے۔

گزشتہ ماہ ملک کے جنوب میں ایک فارم پر متعدد منکس کو کرونا وائرس میں مبتلا پایا گیا تھا۔ منک اود بلاؤں کی قسم کا ممالیہ جانور ہوتا ہے۔

کیرولا شاؤٹن نے بتایا کہ اس فارم کے قریب رہنے والی گیارہ بلیوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے تو معلوم ہوا کہ تین میں وائرس کی اینٹی باڈیز موجود تھیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ انھیں وائرس لگا تھا لیکن وہ صحت یاب ہوچکی ہیں۔

اسی طرح ایک شخص کے 8 سال کے پالتو امریکن بل ڈاگ کو سانس لینے میں دشواری پر جانچا گیا۔ اس کے خون کا نمونہ لیا گیا تو ظاہر ہوا کہ اس میں بھی وائرس کی اینٹی باڈیز پیدا ہوچکی تھیں۔

اس سے پہلے کئی ملکوں میں بلیاں، شیر اور کتے کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ فروری میں ہانگ کانگ میں ایک شخص کے بیمار ہونے کے بعد اس کا کتا بھی وائرس سے متاثر ہوگیا تھا۔

03:31 16.5.2020

کرونا وائرس کی وبا میں سفید جوتے اور وائٹ ہاؤس

چھ مئی کی صبح امریکی دارالحکومت میں وہائٹ ہاؤس کے سامنے سرخ اینٹوں کی راہداری پر سفید رنگ کے جوتوں کے درجنوں جوڑے ترتیب سے رکھے تھے جو دور تک نظر آرہے تھے۔

جوتوں کے یہ اسّی جوڑے ان نرسوں نے اپنے ساتھیوں کی یاد میں رکھے تھے جو وہائٹ ہاؤس کے سامنے اپنے ان ساتھیوں کو خراج پیش کرنے کیلئےجمع ہوئی تھیں، جنہوں نے کرونا وائرس کی وبا میں خدمات انجام دیتے ہوئے اسی وباء کے ہاتھوں جان کی بازی ہار دی۔

امریکہ میں چھ مئی کو نرسوں کا قومی دن منایا گیا۔ یہ دن نرسوں کے ہفتے کا آغاز بھی تھا اور 12 مئی، اس ہفتے کا آخری دن۔ فلورنس نائٹنگیل کا جنم دن بھی، وہ انگلش نرس جنہوں نے نرسنگ کے پیشے کی بنیاد رکھی اور جو رات کو اپنے راؤنڈ کی وجہ سے 'لیڈی ود دی لیمپ' بھی مشہور ہوئیں۔

اس موقعے پر اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نرسنگ صرف ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ یہ اس فرض کی ادائیگی ہے جو دوسروں کی بے لوث خدمت سے متعلق ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔

کرونا وائرس کی وبا کے دوران دنیا بھر میں نرسنگ کے پیشے کی اہمیت جس طرح محسوس کی گئی شاید اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی اور یقیناً اس وقت جب پوری دنیا کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے ہسپتالوں میں نرسیں ایک سہارا بن گئی ہیں اور کووڈ 19 کے مریضوں کی ایسے میں دیکھ بھال کر رہی ہیں جب ان کے اہلِ خانہ ان کے قریب نہیں جا سکتے۔

مزید پڑھیے

03:28 16.5.2020

لاک ڈاؤن سے 75 فیصد نوجوان ذہنی دباؤ میں مبتلا

رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے سے پتا چلا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث اپنے گھروں میں بند نوجوانوں کی ایک چوتھائی تعداد پریشان اور متفکر ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ حالات کب معمول پر آئیں گے۔

برطانیہ کی رائل سوسائٹی فار پبلک ہیلتھ یعنی آر ایس پی ایچ کے تحت کرائے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 18 سے 24 سال کے نوجوان لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کی صورت حال سے معمر افراد کی نسبت زیادہ پریشان ہیں جن کی عمریں 75 سال سے زیادہ ہیں۔ معمر افراد میں کرونا وائرس سے پریشانی کی شرح 47 فی صد ہے۔

مجموعی طور پر اس عالمی وبا کے دوران معمر افراد کی نسبت نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ سروے میں اکثر نوجوانوں کا کہنا تھا کہ گھر میں بند رہنے سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے، ان کا موڈ خراب رہنے لگا ہے، اور وہ ذہنی لحاظ سے خود کو اچھا محسوس نہیں کرتے۔

62 فی صد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ خود کو زیادہ تنہا محسوس کرتے ہیں اور تنہائی کا احساس انہیں اکثر پریشان کرتا ہے، جب کہ 65 سے 74 برس کی عمر کے گروپ میں سے صرف 21 فی صد نے یہ کہا وہ اس قرنطینہ میں وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

03:26 16.5.2020

ترکی میں تشویش کے ماحول میں بندشوں میں نرمی

کرونا وائرس کی عالمی وبا سے متاثرہ متعدد ملکوں میں عائد بندشوں کو مرحلہ وار نرم کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں ترکی بھی شامل ہے، جہاں حکومت کا دعویٰ ہے کہ کرونا وائرس کو کنڑول کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

تاہم، ماہرین بدستور پس و پیش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معمول کی سرگرمیوں پر بندشوں میں نرمی قبل از وقت اقدام ہو سکتا ہے۔ ترکی میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں گرچہ اموات میں کمی واقع ہوئی ہے اور انفیکشن کی شرح بھی نیچے چلی گئی ہے، لیکن تشویش اپنی جگہ برقرار ہے۔

ترک حکومت نے فی الوقت بدھ کے دن چودہ سال سے کم عمر بچوں کو چار گھنٹے کے لئے باہر جانے کی اجازت دیدی ہے۔ اس کے بعد ہی بیشتر بچوں کی پہلی منزل آئس کریم کی دوکانیں تھیں جہاں سات ہفتوں سے اپنے گھروں میں عملاً قید بچوں نے اپنے لئے تفریح کا سامان پیدا کیا۔ اسی طرح، حکومت نے پنسٹھ برس سے اوپر کی عمر کے لوگوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اتوار کے دن چار گھنٹے کے لئے اپنے گھروں سے باہر جاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG