انڈونیشیا میں کرونا کے مزید 529 کیس رپورٹ
انڈونیشیا میں بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کرونا کے مزید 529 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
ملک میں کرونا سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ انڈونیشیا میں اب تک 17025 افراد میں کرونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ملک بھر میں اب تک 135726 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ 18 مئی کو کرونا وائرس ازخوٹس کیس پر سماعت کرے گی
سپریم کورٹ آف پاکستان 18 مئی کو کرونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس کی سماعت کرے گی۔ سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد بینچ کی سربراہی کریں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس سجاد علی شاہ کی عدم دستیابی پر جسٹس مشیر عالم اور جسٹس سردار طارق مسعود کو بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔
جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس قاضی امین بدستور بینچ کا حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز، سیکریٹری صحت اور چیف سیکریٹری صاحبان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
وفاقی اور پنجاب حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ وفاق کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں قومی رابطہ کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں بارے عدالت کو آگاہ کیا گیا۔
وفاق کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعمیراتی سیکٹر کے فیز ٹو کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شاپنگ مالز، شادی ہالز 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوام کی سہولت کے لیے چھوٹے کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس قبل ہونے والی سماعت میں عدالت کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔
پاک افغان سرحد دو مقامات پر کھول دی گئی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرونا کے باعث بند کی جانے والی دو سرحدی گزرگاہیں طورخم اور چمن کے مقام پر کھول دی گئی ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے اس حوالے سے ایک نوٹی فکیشن بھی جاری کیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق ہفتے کو پیدل شہریوں کی آمدورفت جب کہ دیگر دنوں میں دو طرفہ تجارت کے لیے قافلوں کی آمدورفت ہو گی۔
ہفتے کی صبح پاکستان میں پھنسے کئی افغان شہری ضلع خیبر کے سرحدی قصبے لنڈی کوتل پہنچنا شروع ہو گئے۔ حکام نے امیگریشن کے بعد انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت دے دی۔
لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے صحافی مہراب آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لنڈی کوتل سے طورخم تک ہزاروں لوگ قطاروں میں سرحد عبور کرنے کے لیے کھڑے دکھائی دیے۔
اُن کے بقول سیکیورٹی اہلکار لنڈی کوتل سے طورخم تک محدود تعداد میں گاڑیوں کو آنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جس سے لوگوں کو کئی کلو میٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔
ضلع خیبر کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شمس الاسلام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پاکستان سے افغانستان جانے والوں کے علاؤہ افغانستان سے پاکستانی باشندوں کی واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ لیکن ابھی تک افغانستان سے افغان باشندوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔