رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

08:35 18.5.2020

ویکسین تیار کرنے کا کام تیز کیا جائے: ٹرمپ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ویکسین کی تیزی سے تیاری پر خصوصی توجہ دیں۔ وائٹ ہائوس میں 'آپریشن وارپ اسپیڈ' کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال کے اواخر تک ویکسین آ جانی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ''ویکسین آئے یا نہ آئے ملک کو بہرحال دوبارہ کھول دیا جائے گا۔''

ان کی انتظامیہ نے اس ہفتے اس بات کو یقینی بنانے کے منصوبے بھی تیار کرنے کے اقدامات کیے ہیں کہ امریکہ میں اہم نوعیت کے طبی ساز و سامان کی کمی نہ ہونے پائے۔

نامہ نگار پیٹسی ودکسارا نے اپنی رہورٹ میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ جنوری 2021 تک کروڑوں کی تعداد میں کرونا وائرس کی ویکسین تیار ہو جائے گی۔

مزید پڑھیے

01:48 18.5.2020

بھارت نے لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کر دی

بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں لاک ڈاون 31 مئی تک جاری رہے گا۔ تاہم اب لاک ڈاون کے قواعد میں خاصی نرمی کر دی گئی ہے۔

جن علاقوں ٘میں کرونا متاثرین کی تعداد کم ہو گی وہاں لاک ڈاون کی پابندیاں نرم ہوں گی۔ اس سلسلے میں مختلف صوبے حالات کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

ہفتے اور اتوار کے روز بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا اور اب یہ تعداد چین کے متاثرہ لوگوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔

کرونا مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے بھارت اب ایشیاء میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

جانز ہاپکنز کرونا وائرس ریسورس سینٹر کے مطابق بھارت میں مصدقہ کیسوں کی تعداد 91 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے اور اموات 2800 سے تجاوز کر گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں لاک ڈاون کے نفاذ سے کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

ہوائی اڈوں کو بند کرنے پہلے مارچ میں بھارت نے غیر ملکوں میں مقیم اپنے شہریوں کو واپس ملک میں لانے کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے تھے۔

01:46 18.5.2020

پنجاب نے پیر سے 26 صنعتیں کھولنے کی اجازت دے دی

پنجاب کی حکومت نے لاک ڈاون میں مزید نرمی کرتے ہوئے صنعتیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ صنعت و تجارت کے مطابق پیر 18 مئی سے صوبہ میں قواعد و ضوابط کے مطابق صنعتوں کو کھول دیا جائے گا۔

محکمہ صنعت و تجارت پنجاب نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا نوٹی فیکشن جاری کر دیا ہے۔ جس کے تحت صوبے بھر کی 26 صنعتوں کو پیر سے کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

نوٹی فیکشن کے مطابق تمام صنعتوں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔

پنجاب کے وزیر تجارت میاں اسلم اقبال کے مطابق وزیر اعلیٰ کی منظوری سے صنعتیں کھولنے کا نوٹی فیکشن جاری کر دیا گیا ہے۔ کھولی جانے والی تمام صنعتوں کے لیے ضابطہ کار بھی جاری کر دیے ہیں جن پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔

“معاشی صورت حال کے تناظر میں وزیراعلیٰ نے اہم فیصلے کیے ہیں اور دفاع سے متعلقہ اشیا تیار کرنے والی انڈسٹری کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے”۔

محکمہ صنعت و تجارت کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق پنجاب بھر میں فوڈ انڈسٹریز، رائس ملز، فلور ملز، پولٹری فیڈ ملز، پاورلومز اور لائیو اسٹاک سے متعلقہ صنعیتں 18 مئی سے کھل جائین گی۔

اس کے ساتھ ساتھ سینیٹائرز، صابن، ٹشو پیپرز تیار کرنے والے کارخانے، حفاظتی لباس، ماسک، گلوز تیار کرنے والی انڈسٹریز، اسٹوریج، پرنٹنگ، پیکنگ، سائیکل، موٹر سائیکل، کار کی انڈسٹری، دودھ اور دودھ سے بننے والی اشیا کو بھی کھول دیا گیا ہے۔

نوٹی فیکشن کے مطابق آئل اینڈ گیس پرڈوکشن کمپنیوں، پاک عرب ریفائنری کمپنی، کھاد بنانے والے فیکٹریوں، ملحقہ پرڈوکشن، ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج، ٹریکٹر، تھریشر، ہارویسٹر بنانے والی کمپنیوں، بیج، کھاد، زرعی ادویات، جانوروں کے چارے کی دکانوں کو بھی کام کرنے کی اجازت ہو گی۔

جاری کردہ مراسلے کے مطابق ایل پی جی سینٹر، سوڈا ایش انڈسٹری، موبائل فون بنانے والی کمپنیوں، اینٹوں کے بھٹے، ریت بجری، سیمنٹ اور چھتیں تیار کرنے والے کارخانے بھی پیر 18 مئی سے کھل جائیں گے۔

محکمہ صنعت و تجارت نے واضح کیا ہے کہ کھولے جانے والی تمام صنعتوں میں کرونا سے بچاؤ کے لیے قواعد و ضوابط کو یقینی بنایا جائے گا اور ان کو وقتاً فوقتاً چیک بھی کیا جائے گا۔

01:43 18.5.2020

ڈزنی ورلڈ 20 مئی سے جزوی کھل رہا ہے

ڈزنی کی انتظامیہ اور یونین کے درمیان کئی روز سے بات چیت ہو رہی تھی جس کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کچھ تفریحی مقامات اور شاپنگ مال کھول دیے جائیں۔ اور ملازمین کے لیے خاص طور سے احتیاطی اور حفاظتی تدابیر کا خیال رکھا جائے۔

جمعرات کے روز ڈزنی کی یونین کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس بارے میں بحث جاری ہے کہ مقبول تھیم پارکوں کو کب کھولا جائے، لیکن اب یہ مسئلہ افہام و تفہیم سے طے کر لیا گیا ہے۔

کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے ایک تیسرے فریق کی مدد سے ڈزنی سپرنگز کھول دیے جائیں گے اور اس ماہ کے آخر میں تین بڑے سٹور بھی کھل جائیں گے۔

ڈزنی سپرنگز کے نائب صدر میٹ سائمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابھی عارضی طور ہمارے تھیم پارک اور ہوٹل بند رہیں گے۔ مرحلہ وار تمام تفریح گاہوں کو کھولا جا رہا ہے۔ ہم ایک غیر معمولی ماحول میں رہ کر یہ سارے کام احتیاط سے کریں گے۔

نائب صدر سائمن نے کہا کہ احتیاطی تدابیر کا نفاذ بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور کیش میں لین دین نہیں ہو گا، تاکہ خریدار اور کیشیئر کا جسمانی رابطہ کم سے کم ہو۔ فیس ماسک کی پابندی لازمی ہو گی۔ سماجی فاصلے کے اصول کا خیال رکھا جائے گا۔ صفائی ستھرائی اور جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ زیادہ کیا جائے گا۔

ڈزنی ورلڈ کے تھیم پارک بند کرنے سے جنوری سے مارچ کی سہ ماہی میں کمپنی کو تقریباً ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ماہ کے اوائل میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG