- By شمیم شاہد
سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور وائرس سے متاثر
سابق وفاقی وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما حاجی غلام احمد بلور کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے متاثر ہونے کے بعد خاندان کے دیگر افراد کے بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
بلور ہاؤس کے ترجمان نے حاجی غلام احمد بلور کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے بیان کے مطابق حاجی غلام احمد بلور کے متاثر ہونے کے بعد ان کے خاندان کے دیگر افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ غلام احمد بلور کو ان کی رہائش گاہ پر قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
نیویارک کے میلے بند، ٹھیلے بند، محنت کش پریشان
کرونا وائرس سے پہلے نیویارک کی ہر گلی میں کھانے پینے کے ٹھیلے نظر آتے تھے لیکن اب لوگ گھر سے کم ہی نکلتے ہیں جس سے یہ کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسے کاروبار سے زیادہ تر تارکین وطن منسلک ہیں۔
آئی سی سی کی تھوک سے بال چمکانے پر پابندی کی سفارش
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے دورانِ میچ بالرز کی جانب سے بال کو تھوک سے چمکانے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ پابندی کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
سابق بھارتی کرکٹر انیل کمبلے کی زیرِ صدارت آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران متفقہ طور پر تھوک سے بال چمکانے پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔
تاہم کرکٹ کمیٹی کو پسینہ لگا کر بال چمکانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
تھوک سے بال کو چمکانے اور کرونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات پر آئی سی سی کے میڈیکل ایڈوائزری پینل سے بھی رائے لی گئی ہے۔
انیل کمبلے نے تھوک سے بال چمکانے پر پابندی کی سفارش کی تھی۔
پاکستان میں مئی کے آخر تک کرونا کیس دو لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں: رپورٹ
پاکستان میں کرونا وائرس پر تحقیق کرنے والے صحت کے ایک ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتِ حال بدترین شکل اختیار کر گئی تو اس ماہ کے آخر میں ملک میں کیسز کی تعداد دو لاکھ جب کہ وبا سے چار ہزار اموات ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ رفتار ہی برقرار رہی تو بھی مئی کے آخر میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد اندازے سے کم دکھائی دے رہی ہے۔
جناح سندھ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں پاکستان میں ہر ہفتے کیسز کی تعداد میں تقریبا 50 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔
اسی اندازے سے اگر کیسز بڑھتے رہے تو مئی کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ جب کہ 2000 افراد ممکنہ طور پر اس وبا سے ہلاک ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی کے آخر تک ہر ہفتے چھ ہزار نئے مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کرنا پڑسکتا ہے جن میں سے 200 سے 250 افراد کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی صورت میں اگر یہ صورتِ حال خراب ہو گئی تو ہر ہفتے دگنی تعداد میں مریض سامنے آئیں گے جس سے اموات چار ہزار جب کہ متاثرین کی تعداد دو لاکھ اور ہر ہفتے 20 ہزار نئے مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کرنا پڑسکتا ہے۔
ان میں سے 700 افراد کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوگی۔