رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:59 21.5.2020

لاک ڈاؤن میں کام کرنے والے ملازمین کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے

کوڈ نائنٹین کے باعث دو ماہ سے زیادہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد امریکی معیشت کو دوبارہ کھولا جارہا ہے تو کارکنو ں کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

لیکن لاک ڈاؤن کے کٹھن حالات میں بھی روزمرہ اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے والے ملازمین، ٹرانسپورٹ اور صحت عامہ سے منسلک عملہ اپنے فرائض انجام دیتا رہا۔ ان میں کئی افراد اس موذی مرض کا شکار ہوئے۔

مختلف کمپنیوں نے ان ملازمین کے پرخطر حالات میں کام کو سراہتے ہوئے مختلف مالی ترغیبات دیں۔ ان میں فی گھنٹہ کام کی اجرت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ اس اضافے کو مشکل حالات کا الاؤنس یا ہیرو پے کہا جاتا ہے۔

معیشت بتدریج کھلنا شروع ہوئی تو ایمازون جیسی کئی کمپنیوں نے ان ترغیبات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ٹارگٹ جیسے بعض بڑے اسٹوروں نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو 4 جولائی تک ہیرو پے ادا کرتے رہیں گے۔ چند کمپنیوں نے ہر ہفتے اپنے ملازمین کو بونس دینے کا اعلان کیا ہے۔

کارکنوں کی تنظیم یونائیٹڈ فوڈ اینڈ کمرشل ورکرز نے ملازمین کی فی گھنٹہ اجرت میں ہیرو پے کو یکسر ختم کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔ تنظیم کے مطابق ملازمین نے اس بحران میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر انتہائی ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ ان ہیروز کےکام کا اعتراف کرنا چاہئے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے تنخواہوں میں اضافے کو جاری رکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیے

02:45 21.5.2020

کرونا وائرس نے تیرہ سالہ فلسطینی طالبہ کو معلمہ بنادیا

اس وقت پوری دنیا کو کرونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، تعلیمی اداروں سمیت معمولات زندگی معطل ہیں۔ ایک فلسطینی لڑکی نے اس فارغ وقت کو گزارنے کے لیے اپنے محلے میں سکول کھول لیا اور ان دنوں وہ اپنے ارد گرد رہنے والے بچوں کو پڑھا رہی ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے سلسلے میں غزہ کی پٹی میں تمام سکول مارچ میں بند کر دیے گئے تھے۔ اور اب وہاں ایک محلے میں عارضی سکول کھلا ہے۔ یہاں ایک تیرہ سالہ لڑکی فجر حمید فلسطینی بچوں کو پابندی سے پڑھا رہی ہے۔

فجر نے بتایا کہ میں نے سوچا کیوں نہ اس خالی وقت میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دوں، کیوں کہ پرائمری جماعت کے بچے ان طویل چھٹیوں میں سب کچھ بھول بھال جائیں گے۔ اس لیے اب میں ان کی پڑھائی کو جاری رکھ رہی ہوں۔

فجر حمید بچوں کو انگریزی، عربی اور حساب پڑھاتی ہے۔ اب اس کے عارضی سکول میں پندرہ بچے زیر تعلیم ہیں۔

فجر کو پڑھانے میں بہت لطف آتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ بڑی ہو کر بھی تدریس کے پیشے سے منسلک رہیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارا علاقہ خاصا پسماندہ ہے۔ اس لیے میرا ارادہ ہے کہ میں ایک سکول کھولوں گی اور اپنے علاقے کے بچوں کو تعلیم دوں گی۔

فلسطین کے مختلف سکولوں میں اب تک بیس بچے کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ یہ علاقہ کافی عرصے تک اسرائیل کی ناکہ بندی کی زد میں رہ چکا ہے۔

02:43 21.5.2020

برازیل میں ایک دن میں 1179 مریض چل بسے

لاطینی امریکہ میں کرونا وائرس سے بدترین متاثر ملک برازیل میں منگل کو 1179 افراد ہلاک ہوئے، جو ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں کا نیا ریکارڈ ہے۔ ان میں سے 324 اموات صرف ایک صوبے ساؤپولو میں ہوئی ہیں۔

برازیل چوتھا ملک ہے جہاں ایک دن میں ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ باقی تین ممالک امریکہ، فرانس اور برطانیہ ہیں۔ اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن وہاں بھی ایک دن میں ایک ہزار اموات نہیں ہوئی تھیں۔

21 کروڑ آبادی والے ملک برازیل میں کرونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق 18 مارچ کو ہوئی تھی اور ابتدا میں وبا کے پھیلنے کی رفتار سست تھی۔ لیکن اس ماہ کیسز اور اموات میں تیزی آئی۔ اب مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ امریکہ اور روس کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ یہاں 2 لاکھ 75 ہزار کیسز اور 18 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔

ساؤپولو کے مئیر نے چند دن پہلے خبردار کیا تھا کہ ان کا سوا کروڑ آبادی کے شہر کے اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں اور شہریوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو صورتحال قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔

برازیل کے صدر جائر بولسونارو کرونا وائرس کے خطرے کو مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معمولی سا فلو ہے۔ لوگوں کا قرنطینہ میں رہنے اور لاک ڈاؤن کرنے سے معیشت پر زیادہ برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ بحران شروع ہونے کے بعد ایک وزیر صحت کو اختلافی رائے رکھنے پر صدر نے برطرف کردیا تھا جبکہ دوسرے نے خود مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیے

02:41 21.5.2020

زندگی معمول پر آرہی ہے لیکن معمول کے معنی بدل رہے ہیں

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے اور کاروبار زندگی کو رفتہ رفتہ معمول پر لایا جارہا ہے۔ لیکن، لوگوں کو اندازہ ہورہا ہے کہ معمول کے معنی بدل رہے ہیں۔

تعلیمی ادارے، دفاتر، عوامی سفر کے ذرائع اور ریستوران لاک ڈاؤن کے بعد کی زندگی میں اگلے محاذ پر ہیں۔ سب کچھ کھلتا جا رہا ہے۔ لیکن، سب کچھ اتنا مختلف کیوں ہے؟ یہ نہیں کھل رہا۔

کرونا وائرس کی ویکسین بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس میں اگر سال نہیں تو غالباً مہینے ضرور لگیں گے۔ ان حالات میں کروڑوں افراد کی روزمرہ زندگی کی صورت کیسی ہوگی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اہم شعبے سماجی فاصلے کو کیسے ممکن بنائیں گے اور وبا کی نئی لہر کو کیسے روکا جائے گا۔

مختلف ملکوں میں معمولات کی طرف واپسی کے معنی مختلف ہیں۔ بھارت میں بھوک سے بے حال مزدوروں کے لیے اس کا مطلب ٹرین کا پہیہ چلنا ہے اور اب وہ اپنے دیہات واپس جاکر کھیتی باڑی کرسکتے ہیں، کیونکہ شہروں میں ان کے روزگار ختم ہوگئے ہیں۔

سمندر میں پھنسے ہوئے تفریحی جہاز کے ملازم کروشیا کے سیکڑوں کارکنوں کے لیے اس کا مطلب مہینوں بعد ساحل پر پہنچنا ہے۔ کیلی فورنیا کے دولت مندوں کے لیے اس کا مطلب بیورلے ہلز میں مہنگی بوتیک کا دوبارہ کھلنا ہے جہاں وہ خریداری کے لیے جاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG