رسائی کے لنکس

logo-print

'لاک ڈاؤن میں کام کرنے والے ملازمین کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے'


کوڈ نائنٹین کے باعث دو ماہ سے زیادہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد امریکی معیشت کو دوبارہ کھولا جارہا ہے تو کارکنوں کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

لیکن لاک ڈاؤن کے کٹھن حالات میں بھی روزمرہ اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے والے ملازمین، ٹرانسپورٹ اور صحت عامہ سے منسلک عملہ اپنے فرائض انجام دیتا رہا۔ ان میں کئی افراد اس موذی مرض کا شکار ہوئے۔

مختلف کمپنیوں نے ان ملازمین کے پرخطر حالات میں کام کو سراہتے ہوئے مختلف مالی ترغیبات دیں۔ ان میں فی گھنٹہ کام کی اجرت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ اس اضافے کو مشکل حالات کا الاؤنس یا ہیرو پے کہا جاتا ہے۔

معیشت بتدریج کھلنا شروع ہوئی تو ایمازون جیسی کئی کمپنیوں نے ان ترغیبات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ٹارگٹ جیسے بعض بڑے اسٹوروں نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو 4 جولائی تک ہیرو پے ادا کرتے رہیں گے۔ چند کمپنیوں نے ہر ہفتے اپنے ملازمین کو بونس دینے کا اعلان کیا ہے۔

کارکنوں کی تنظیم یونائیٹڈ فوڈ اینڈ کمرشل ورکرز نے ملازمین کی فی گھنٹہ اجرت میں ہیرو پے کو یکسر ختم کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔ تنظیم کے مطابق ملازمین نے اس بحران میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر انتہائی ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ ان ہیروز کےکام کا اعتراف کرنا چاہئے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے تنخواہوں میں اضافے کو جاری رکھنا چاہیے۔

وائس آف امریکہ نے 73 فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کے مالک شاہد ہاشمی سے اس سلسلے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کے آغاز سے انہوں نے ایسٹ کویسٹ پر تمام کھلے رہنے والے اسٹورز کے ملازمین کی فی گھنٹہ اجرت میں ایک سے دو ڈالر کا اضافہ کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فی گھنٹہ معاوضے میں اضافے کو بحران ختم ہونے تک جاری رکھیں گے اور تمام بہادر ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاوضے میں اضافے کے علاوہ انہوں نے ملازمین کی صحت کا بھی مناسب انتظام کیا تھا۔ چونکہ ایک وقت میں ایک ریستوران میں صرف دس لوگ کھانا کھا سکتے تھے اس لیے ڈرائیو تھرو سروس کے ذریعے لوگوں کو فاسٹ فوڈ فراہم کیا گیا۔

شاہد ہاشمی کا شمار امریکی خواب کو حقیقت بنانے والے پاکستانی امریکیوں میں ہوتا ہے۔ وہ پیور فوڈز مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، انھوں نے بتایا کہ ان کے اسٹورز کی سیلز میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کمیونٹی رہنماؤں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی اہم اشیا کی فراہمی کے لیے کام کرنے والے ملازمین کا کرونا وائرس بحران میں کام کرنا طوفان میں گھری ہوئی کشتی کو سہارا دینے کے مترادف ہے۔

نیویارک میں رئیل اسٹیٹ سے وابستہ پاکستانی نژاد بزنس مین عمران آگرہ نے بتایا کہ انہوں نے کرونا وائرس بحران میں کام کرنے والے کمپنی ملازمین کو خصوصی بونس دیا تاکہ انھیں احساس ہو کہ ان کے کے کام کو سراہا جارہا ہے۔

دوسری طرف انتہائی ضروری سامان حیات فراہم کرنے والے اسٹورز اور کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کہتے ہیں کہ اس بحران میں کام کرنے کے لیے انھیں بہت حوصلہ اور ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑا۔

ورجینیا کے ایک سی وی ایس سٹور کی شفٹ مینیجر فرزانہ سندھو نے بتایا کہ بحران کے ابتدائی دنوں میں بہت سے لوگ پریشان تھے کہ اس ان دیکھے وائرس سے کیسے بچا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام سے براہ راست ڈیل کرنا پڑتا ہے اس لیے میں ان ملازمین کو داد دیتی ہوں جنہوں نے اتنے خوف اور غیر یقینی حالات میں لوگوں کو ادویہ اور دوسری اشیا کی کی فراہمی جاری رکھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ سی وی ایس کے اب تک کے معاوضے اور صحت سے متعلق اقدامات سے مطمئن ہیں جن کے تحت تمام ملازمین کو ان کے کام کے دورانیے کے مطابق بونس دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ویسے تو وہ سب بہادر لوگ ہیں جنہوں نے اس مشکل صورتحال کا سامنا کیا لیکن جنہوں نے اپنی جان کو مشکل میں ڈال کر اشیائے ضرورت کی فراہمی جاری رکھی، وہ بہت بڑے ہیروز ہیں اور ان کے کردار کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG