لاک ڈاؤن کے دوران ایشیائی ملکوں میں بے چینی کا سبب بننے والی افواہیں
برِّ اعظم ایشیا میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران گمراہ کُن معلومات اور افواہیں خوف و ہراس کا سبب بن رہی ہیں۔
پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے دیگر ملکوں میں لاک ڈاؤن کے دوران متعدد ایسی غلط معلومات اور افواہیں پھیلائی گئیں جن کے سبب عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی پھیل گئی ہے۔
پاکستان میں جہاں کرونا وائرس کے سبب نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے۔ سماجی میڈیا پر ایک گمراہ کن ویڈیو شیئر کی گئی جس میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے ایک دکان دار کو اپنی دکان چھوڑ کر بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔
درحقیقت یہ ویڈیو 2015 میں پولیس کے ایک قحبہ خانے پر چھاپے کی ہے جس میں ایک شخص کو بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
پاکستانی صارفین کی طرف سے اس ویڈیو کا پرانا ہونے کی نشاندہی کیے جانے کے باوجود مذکورہ ویڈیو کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور واٹس ایپ پر لاکھوں صارفین نے دیکھا۔
کرونا وائرس: آسٹریلوی بورڈ کو رواں برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد پر تحفظات
آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے سربراہ کیون روبرٹس نے رواں برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وبائی مرض کی موجودگی میں اکتوبر، نومبر میں عالمی کپ کا انعقاد خطرے سے خالی نہیں ہے۔
کیون روبرٹس نے جمعے کی صبح ایک ویڈیو کال کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم سب پرامید ہیں کہ عالمی کپ اکتوبر، نومبر میں منعقد ہو لیکن وبائی مرض کی وجہ سے جو حالات درپیش ہیں ان میں ایونٹ کا انعقاد خطرناک ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی موجودگی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔
کیون نے مشورہ دیا کہ اگر عالمی کپ رواں برس نہ ہوسکا تو یہ فروری، مارچ میں کرایا جا سکتا ہے۔ رواں سال آئی سی سی کو کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے اس لیے وہ الجھن کا شکار ہے۔
پاکستان میں 57 اموات، 2636 کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 57 مریض چل بسے جب کہ ملک بھر میں 2636 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پاکستان میں ایک روز کے دوران ہلاکتوں اور نئے کیسز کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 1317 ہو گئی ہے جب کہ اس وائرس سے 64 ہزار 28 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 22 ہزار 305 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھی گیارہ ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
واشنگٹن میں جمعے سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کا آغاز
امریکی دارلحکومت واشنگٹن کرونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں میں نرمی کر کے کاروبار حیات کی بحالی کی طرف جمعہ کو پہلا قدم اٹھائے گا۔
واشنگٹن ڈی سی میئر کے آفس کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق پہلے مرحلے میں ریسٹورنٹس کو باہر بیٹھنے کا انتظام کر کے گاہکوں کو کھانا پیش کرنے کی اجازت ہو گی۔
عبادت گاہوں میں بیک وقت صرف دس لوگ اجتماع میں شرکت کر سکیں گے۔ جب کہ جم خانے، عجائب گھر، نمائش گاہیں اور تیراکی کے تالاب جیسے عوامی مقامات بدستور بند رہیں گے۔ جب کہ لوگوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ پہلے سے واضح کی گئی مروجہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
شہر کی میئر مریل باوزر کے مطابق دارالحکومت کو جزوی طور پر کھولنے کا فیصلہ کوویڈ 19 کے کیسز میں دو ہفتوں کی مسلسل کمی کے رجحان کے بعد کیا گیا ہے۔
واشنگٹن سیاحت کا ایک بڑا مرکز ہے اور یہاں پورا سال گہماگہمی دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر واشنگٹن ڈی سی اپنے تاریخی مقامات، قومی یادگاروں، عجائب گھروں اور ریسٹورنٹس کی وجہ سے سیاحوں کے لیے ایک پر کشش منزل ہے۔
لیکن مارچ کے وسط میں کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے سیاحت اور اس سے منسلک معیشت کے مختلف سیکٹرز میں اقتصادی کارروائیاں رک گیئں تھیں۔
حکام کے مطابق اس ماہ کے پہلے ہفتے تک واشنگٹن کو سیر و سیاحت میں جمود کی وجہ سے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیکسوں کی وصولی میں 7 کروڑ 8 لاکھ ڈالرز کی کمی واقع ہوئی۔
گزشتہ سال تقریباً تین کروڑ امریکی سیاح دارالحکومت میں سیر و تفریح کے لیے آئے اور انہوں نے یہاں 8 ارب سے زیادہ ڈالر خرچ کیے۔ ان اقتصادی سرگرمیوں سے 896 ملین ڈالر کے ٹیکس موصول ہوئے۔ اور سیر و سیاحت کی صنعت نے 78 ہزار کارکنوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔
اب جب کہ واشنگٹن میں گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے، کرونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر عائد پابندیوں کے باعث اقتصادی سرگرمیاں محدود اور بہت کم نظر آتی ہیں۔ کیونکہ کوویڈ 19 کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے اور لوگ زندگی کے تمام شعبوں میں میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔