رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

19:23 1.6.2020

کرونا میں مبتلا بہت سے مریض تاخیر سے اسپتال آرہے ہیں: اسلام آباد انتظامیہ

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کرونا کے مرض میں مبتلا بہت سے مریض تاخیر سے اسپتال آ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کے بچنے کے امکانات میں کمی آ رہی ہے۔

ایک بیان میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ جس وقت کرونا کی وبا آئی اس وقت پمز اسپتال اسلام آباد میں صرف چار وینٹی لیٹرز موجود تھے جن کی تعداد کو بڑھا کر 12 کیا گیا جن میں سے دو بچوں کے لیے مخصوص ہیں۔ مزید 12 وینٹی لیٹرز ملنے سے پمز اسپتال کے پاس 24 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔

ان کے بقول یہ وینٹی لیٹرز این ڈی ایم اے کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تشویش ناک حالت میں موجود تمام مریضوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور کسی کو بھی انکار نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ بعض مریض بہت تاخیر سے اسپتال پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بچانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی رہتے ہیں اور ان کے بچنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

19:20 1.6.2020

افغانستان میں کیسز میں تیزی سے اضافہ

افغانستان کی وزارت صحت نے پیر کے روز گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 545 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق اب ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 15750 ہو گئی ہے۔

صحت کے حکام کے مطابق کابل میں دو ہفتوں میں پہلی بار نئے کیسز کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔

وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اموات کی تعداد 265 ہو گئی ہے جب کہ 1428 مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔

19:17 1.6.2020

پاکستان میں چند ایک کے علاوہ سب شعبے کھولنے کا اعلان

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔ عوام جتنی بے احتیاطی کریں گے اتنانقصان ہوگا۔ غربت اور وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔

کرونا کی صورت حال پر قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد بریفنگ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث لاگو کیا گیا لاک ڈاؤن کھولنے کے بعد بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وبا مزید نہیں پھیلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسے والے لوگ ملک میں شور مچا رہے تھے کہ لاک ڈاؤن کیا جائے۔ کراچی میں 30 سے 35 فی صد لوگ کچی آبادی میں رہتے ہیں ان پر لاک ڈاون کا کیا اثر ہونا تھا۔ ڈھائی کروڑ افراد ڈیلی ویجرز اور ہفتہ وار کمانے والے تھے۔

وزیر اعظم کے مطابق ملک کےمعاشی حالات پہلے ہی اچھے نہیں تھے، وائرس کی وجہ سے مزید متاثر ہوئے۔ پاکستان کی ٹیکس کلیکشن 30 فی صد کم ہوئی جب کہ برآمدات بھی گر گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر لاک ڈاؤن بڑھایا تو غربت بڑھے گی۔ جزوی لاک ڈاؤن کا مقصد وائرس کا پھیلاؤ کم کرنا تھا۔

عمران خان کے مطابق لاک ڈاؤن احتیاط ہے۔ وائرس کا علاج نہیں ہے۔ رواں سال کرونا کے ساتھ رہنا ہے۔ جب تک ویکسین نہیں آتی تب تک کرونا نہیں جا رہا۔

دوسری جانب مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاک ڈاؤن صرف ہفتے اور اتوار کو ہوگا جب کہ بازار اور شاپنگ مال اب جمعے کو بھی کھلیں گے۔

14:29 1.6.2020

پاکستان: مئی میں 50 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا کیسز کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اور صرف مئی کا مہینہ اس حوالے سے خطرناک ترین ثابت ہوا جس میں 54 ہزار 346 کیسز سامنے آئے ہیں۔

وزارتِ صحت اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ کرونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کیسز کی تعداد 28 ہزار 245 ہے۔ پنجاب میں 26 ہزار 240، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 27، بلوچستان میں چار ہزار 393، گلگت بلتستان میں 711، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 255، اسلام آباد میں دو ہزار 589 کیسز موجود ہیں۔

ہلاکتوں میں پنجاب سب سے آگے ہے جہاں اب تک 497 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 473، بلوچستان میں 47، اسلام آباد میں 28، گلگت بلتستان میں 11 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس بارے میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو سخت لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے۔

ان کے بقول ملک میں جہاں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے وہیں اس کی وجہ سے ہونے والی اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن کے ڈاکٹر قیصر سجاد کہتے ہیں کہ کرونا کے مریضوں کے حوالے سے احتیاط ہی واحد علاج ہے لیکن پاکستان میں جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے اس سے کیسز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف عام مریض نہیں بلکہ طبی عملہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG