بھارت: عبادت گاہیں، شاپنگ مالز اور ریستوران کھولنے کی اجازت
بھارت میں کرونا کے ریکارڈ کیسز سامنے آنے کے باوجود حکومت لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت نے ملک بھر میں آٹھ جون سے عبادت گاہیں، دفاتر، شاپنگ مالز اور ریستوران کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
لیکن ان مقامات پر اب پہلے کی طرح رش کی اجازت نہیں ہو گی بلکہ سینیٹائزر کے استعمال، ماسک اور سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی پابندی ہو گی۔
حکومت نے اُن مقامات جہاں کرونا کے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے، اُنہیں فی الحال نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارتِ صحت نے اس سلسلے میں ایس او پیز جاری کر دیے ہیں۔ ان مقامات پر 65 سال سے زائد عمر کے افراد، حاملہ خواتین اور 10 سال سے کم عمر بچوں کا داخلہ ممنوع ہو گا۔
ان مقامات پر سماجی فاصلے، ہاتھوں کی صفائی اور فیس ماسک کی سختی سے پابندی کرنا ہو گی اور لوگوں کا داخلہ مرحلہ وار ہو گا۔
عبادت گاہوں میں جانے والے جوتے اپنی گاڑیوں یا پھر الگ رکھیں گے۔ مذہبی کتابوں، مجسموں یا مورتیوں کو چھونا ممنوع ہو گا۔ مندروں میں نہ تو پرساد دیے جائیں گے اور نہ ہی چڑھاوا ہو گا۔
مزید پڑھیے
بھارت: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد زندگی معمول پر لوٹنے لگی
ایک کروڑ 20 لاکھ آبادی والے صوبے میں کرونا کے صرف 4500 مریضوں کی گنجائش
بلوچستان کے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صوبے میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد زیادہ بڑھی تو اسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔
بلوچستان حکومت کے ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر سلیم ابڑو نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ کی آبادی والے صوبے میں تمام سرکاری اسپتالوں اور قرنطینہ کے لیے مختص کی گئی جگہوں پر صرف 4500 مریضوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مقامات پر بیک وقت 500 ایسے لوگوں کو رکھا جا سکتا ہے جن کی حالت نازک ہو۔ ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا کہ اگر صوبے میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ جاتی ہے تو اُس صورت میں ہم صرف دعا کر سکتے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کرونا سے متاثرہ مریض بڑی تعداد میں صحت یاب ہوئے ہیں۔ ان کے بقول صوبے میں کرونا سے ساڑھے چار ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں جب کہ دو ہزار سے زائد تندرست ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا کہ بلوچستان کو افرادی قوت کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ اگر ہم ایک ہزار قرنطینہ سینٹر بھی بنا لیں تو اُن کو چلانے کے لیے ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کی کمی ہے۔
ڈاکٹر سلیم ابڑو کا کہنا تھا کہ صوبے میں طبی عملے کے 300 ارکان کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں 230 ڈاکٹرز، 10 نرسیں اور 60 افراد پیرا میڈکس اسٹاف کے بھی شامل میں۔
- By روشن مغل
افغانستان میں کرونا وائرس کے ریکارڈ یومیہ کیسز رپورٹ
افغانستان کی وزارتِ صحت نے ملک کے 14 صوبوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووِڈ 19 کے 915 نئے کیسز رپورٹ کیے ہیں۔
افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 18 ہزار 900 سے زائد ہو گئی ہے۔ افغانستان میں کرونا کی وبا شروع ہونے کے بعد ایک ہی روز میں 915 نئے کیسز کا اندراج ایک ریکارڈ ہے۔
وزارتِ صحت کے بیان کے مطابق کرونا وائرس کے نتیجے میں اب تک 309 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسی دوران 'رپورٹرز سین فرنٹیرز' (آر ایس ایف) نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ ہفتے ایک افغان صحافی اور ایک میڈیا ورکر کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کرونا کی وبا شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 70 افغان صحافی اور میڈیا ورکرز وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔