خیبر پختونخواہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی
خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس کیسز میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ محکمہ صحت کے سوموار کی شام جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ایک ہی دن میں مزید 519 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 14 ہزارسے بڑھ گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 12 اموات ہوئیں، جس سے مجموعی تعداد587 ہوگئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ 3 ہزار 579 متاثرہ مریض اب تک صحت یاب ہوچکے ہیں۔
پشاور شہر میں کرونا وائرس سے 5 ہزار 99 افراد متاثرہے جب کہ وائرس سے 311 اموات ہو چکی ہیں۔
پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار ایک فی صد تک سکڑنے کا خدشہ
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار ایک فی صد تک سکڑنے کا خدشہ ہے۔
اس سے قبل عالمی بینک نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان میں معیشت کی ترقی کی شرح تین فی صد رہے گی لیکن حالیہ پیش گوئی کے مطابق اس شرح میں مزید ایک فی صد کمی ظاہر کی گئی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سال قومی معیشت میں سکڑاؤ دیکھا گیا اور معاشی ترقی کی حقیقی رفتار محض 2.1 فی صد دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان کی قومی اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال معیشت میں 0.38 فی صد کا سکڑاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ سروس سیکٹر میں آنے والا بڑا سکڑاؤ ہے۔
فلپائن: طلبہ کی اسکولوں میں واپسی کرونا ویکسین سے مشروط
فلپائن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک کرونا وائرس کی ویکیسین دستیاب نہیں ہوتی، بچوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
فلپائن کے وزیرِ تعلیم لیونور برائنس نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلپائن کے صدر کے احکامات کے مطابق ویکسین کی دستیابی تک بچوں کو اسکولوں میں بالمشافہ تعلیم دیے جانے کا سلسلہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتے نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر طلبہ کا تعلیمی سال ضائع بھی ہو تو بھی انہیں اس وبا سے بچنے کے لیے اسکول نہیں جانا چاہیے۔
فلپائن کے وزیرِ تعلیم نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکیسین کی دستیابی تک ٹی وی یا انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے ہفتے اور اتوار کو کاروباری مراکز کھولنے کا حکم واپس لے لیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عید سے قبل ہفتے اور اتوار کو کاروباری مراکز کھولنے سے متعلق دیا گیا حکم واپس لے لیا جب کہ وفاقی حکومت کو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے کرونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے تاحال کرونا وائرس سے تحفظ سے متعلق قانون سازی نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے متعلق قومی سطح پر کوئی قانون سازی ہونی چاہیے۔ جس کا اطلاق پورے ملک پر ہو۔ ملک کے تمام ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں۔ چین نے بھی وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے۔
اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے جب کہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی قانون سازی کی تجویز دوں گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کرونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو اس معاملے پر رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ کرونا سے بچاؤ کے لیے قانون سازی کرے۔ آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا۔ ایک لاکھ سے زائد کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔
مزید جانیے