چین میں کرونا کے تین مصدقہ کیسز رپورٹ
چین میں کرونا وائرس کے تین مصدقہ کیسز اور پانچ افراد میں وائرس کی علامات پائی گئی ہیں۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے بدھ کا کہا ہے کہ تمام نئے کیسز بیرونِ ملک سے آنے والے افراد میں پائے گئے ہیں۔
چین ایسے افراد کو کرونا کیسز کی گنتی میں شامل نہیں کرتا جن میں کرونا کی علامات پائی جاتی ہیں۔
چین نے حال ہی میں کرونا وائرس پر قابو پانے کا دعویٰ کیا تھا جہاں متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 83 ہزار 46 ہو گئی ہے۔ اس وبا سے چین میں 4634 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
ترکی کا کرونا پابندیاں مزید نرم کرنے کا اعلان
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اعلان کیا ہے کہ ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کابینہ اجلاس کے بعد ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت بے روزگاری کے خاتمے اور صنعتوں کی پروڈکشن اور ایکسپورٹ بڑھانے میں مدد کرے گی۔
رجب طیب ایردوان نے اعلان کیا کہ گھروں سے باہر نکلنے پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی کی جا رہی ہے۔ اب 65 برس سے زیادہ عمر کے افراد بھی صبح دس بجے سے رات آٹھ بجے تک گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں۔
ترکی نے یکم جون سے ہی ریستوران، کیفے، پارکس اور کھیلوں کی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔
کرونا بحران کے دوران ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج میں کوئی کمی نہیں آئی
کوپرنیکس ماحولیاتی تبدیلی سروس سے وابستہ سائنسدانوں کے مطابق سال 2020 تاریخ کے 10 گرم ترین سالوں میں شمار ہو گا۔ یہی نہیں فائنانس واچ کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے مقابلے میں ماحولیاتی تبدیلی مالی استحکام کے لیے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔
سائنسی حقائق پر مبنی یہ دو رپورٹیں ان مفروضوں کی نفی کرتی ہیں جن کے مطابق خیال کیا جا رہا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر معاشی اور ترقیاتی کارروائیوں میں کئی ماہ طویل غیر معمولی جمود کی صورتِ حال سے شاید ماحولیاتی تبدیلی میں کمی واقع ہو گی۔
کوپرنیکس ماحولیاتی تبدیلی سروس سے منسلک سائنس دان فری جاویم بورگ کہتی ہیں کہ مئی کا گرم ترین مہینہ ہونا ایک خطرناک بات ہے۔
عالمی ادارۂ موسمیات کے سیکرٹری جنرل پیٹری تالس کہتے ہیں کہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے اقتصادی اور صنعتی کارروائیوں میں جو کمی آئی ہے وہ کسی طور بھی ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا نعم البدل نہیں ہے۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ پانچ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 5385 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایک روز کے دوران پاکستان میں سامنے آنے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس سے مزید 83 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس طرح ملک بھر میں وبا کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد 2255 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں اب تک سات لاکھ 54 ہزار 252 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ملک میں وائرس سے ایک لاکھ 13 ہزار 697 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 36 ہزار 308 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
اس وائرس سے پنجاب اور سندھ سب سے زیادہ متاثر ہیں جہاں بالترتیب 43 ہزار 460 اور 41 ہزار 303 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 527، بلوچستان میں 7031، اسلام آباد میں 5963، گلگت بلتستان میں 444 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 974 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔