رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

09:23 11.6.2020

پاکستان میں مسلسل دوسرے روز پانچ ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 101 اموات اور 5834 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

پاکستان میں یہ دوسرا موقع ہے کہ ایک روز میں 100 سے زائد اموات اور پانچ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں عالمی وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 2356 اور ایک لاکھ 19 ہزار 536 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 38 ہزار سے زیادہ ہے۔

پاکستان میں ٹیسٹ کی استعداد بھی بڑھائی جا رہی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 26 ہزار 573 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں مجموعی طور پر سات لاکھ 80 ہزار 825 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

02:19 11.6.2020

چین میں کرونا وائرس کی ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج

چین میں کرونا وائرس کے لیے بنائی گئی ایک ممکنہ ویکسین پر تحقیق کرنے والوں نے کہا ہے کہ بندروں پر تجربات کے حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں، کیونکہ ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بننا شروع ہوگئی تھیں اور کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ اب ایک ہزار انسانوں پر تجربے کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اس بارے میں طبی جریدے سیل میں ایک رپورٹ آن لائن شائع کی گئی ہے۔ اس کے مطابق، ممکنہ ویکسین کا نام بی بی آئی بی پی کوڈ وی ہے اور اس میں ایسی اینٹی باڈیز شامل ہیں جو وائرس کو بے اثر کرتی ہیں۔ یہ اینٹی باڈیز بندروں، چوہوں، سوروں اور خرگوشوں میں متاثر خلیوں میں موجود وائرس کو روک دیتی ہیں۔

تحقیق کرنے والوں نے کہا ہے کہ ان نتائج سے ممکنہ ویکسین موثر معلوم ہوتی ہے جس کا اب کلینیکل تجربہ جاری ہے۔

اس ویکسین کو سرکاری ادارے چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ، یعنی سینوفارم سے ملحقہ بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بایولوجیکل پروڈکٹس نے تیار کیا ہے۔ یہ ان پانچ ویکسینز میں سے ایک ہے جن کے چین میں انسانوں پر تجربات کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

02:18 11.6.2020

کرونا وائرس ایک بلڈ گروپ کو زیادہ متاثر کرتا ہے، دوسرے کو کم

لاکھوں افراد پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خون کے او گروپ کے لوگوں کو کرونا وائرس زیادہ متاثر نہیں کرتا، جبکہ اے گروپ کے لوگ زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

جینیٹک ٹیسٹ کرنے والی فرم ٹوئنٹی تھری اینڈ می نے اپریل میں اس بارے میں سائنس دانوں کی مدد کرنا شروع کی، تاکہ وہ جان سکیں کہ کیوں کرونا وائرس کچھ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچاتا ہے اور کچھ لوگوں میں معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں یا کوئی علامات نہیں ہوتیں۔

اس ہفتے کمپنی نے اس تحقیق کے ابتدائی نتائج جاری کیے جس کے لیے ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ مریضوں کا ڈیٹا دیکھا گیا۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیق ابھی جاری ہے۔ لیکن ابتدائی ڈیٹا سے لگتا ہے کہ وائرس کا مقابلہ کرنے میں کسی شخص کا بلڈ گروپ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ او بلڈ گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد نئے کرونا وائرس سے کم متاثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ درحقیقت دوسرے بلڈ گروپس کے مقابلے میں او بلڈ گروپ کے لوگوں کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کا امکان 9 سے 18 فیصد کم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے

02:16 11.6.2020

شمالی کوریا میں کرونا کے ساتھ خوراک کی قلت، عوام بھوکے مر رہے ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ شمالی کوریا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے علاوہ وہاں خوراک کی قلت اور غذائیت میں کمی کی وجہ بھوک اور بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے اہل کاروں کا کہنا ہے کرونا وائرس کے ساتھ شمالی کوریا کے ایک کروڑ سے زیادہ لوگ خوراک کی قلت اور غذائیت میں کمی کا شکار ہیں۔ شمالی کوریا کی کل آبادی کے 40 فی صد حصے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے۔

جینوا سے ہماری نامہ نگار لیزا شلائین نے خبر دی ہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان خاتون الیسا بیتھ بائرز کا کہنا ہے شمالی کوریا کی بیشتر آبادی کو طبی سہولتیں میسر نہیں، نہ انہیں صاف پانی ملتا ہے اور نہ نکاسی آب اور صحت و صفائی کی خدمات میسر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہاں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 17 لاکھ بچے کم خوراکی کا شکار ہیں، جس سے ان کی صحت پر گہرے اور طویل المعیاد اثرات پڑتے ہیں۔خوراک کے اس بحران کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس کی وبا کا بھی سامنا ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG