رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:21 12.6.2020

افغانستان: چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے 656 نئے کیسز رپورٹ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

افغانستان کی وزارتِ صحت نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 'کووڈ 19' کے 656 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی کل تعداد 23 ہزار 500 سے زائد ہو گئی ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 446 ہو چکی ہے۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے عالمی بینک کے افغانستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں ملک کے غریب افراد پر 'کووڈ 19' کے اثرات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

صدارتی محل سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عالمی بینک نے افغانستان میں غربت میں کمی کے لیے افغان حکومت کے منصوبوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

15:58 12.6.2020

پاکستانی کشمیر: مظفر آباد میں ایک ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ جمعہ سے شروع ہونے والے مکمل لاک ڈاؤن کے دروان مساجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی تو کی گئی لیکن نمازیوں کی تعداد کم رہی۔

لاک ڈاؤن کے دوران سبزی، ادویات اور گوشت کی دکانوں کے علاوہ تمام کاروبار بند ہیں۔ تجارتی مراکز اور شاہراہوں پر پولیس کا سخت پہرا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے صرف مظفر آباد میں مکمل لاک ڈاؤن کیا ہے جب کہ باقی علاقوں میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا ہے۔

15:15 12.6.2020

کرونا کے پھیلاؤ کے باوجود بازاروں میں رش برقرار

کراچی میں ایک طرف دوبارہ سخت لاک ڈاؤن کی افواہیں گردش کر رہی ہیں تو دوسری طرف بازاروں میں شہریوں کا رش کم نہیں ہو رہا۔ کرونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے باوجود بیشتر بازاروں میں ایس او پیز کی پابندی نہیں کی جا رہی۔ کیسز بڑھنے کے باوجود کچھ شہری اب بھی کرونا کو حقیقت نہیں سمجھ رہے۔

کرونا کے پھیلاؤ کے باوجود بازاروں میں رش برقرار
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:52 0:00

15:12 12.6.2020

پنجاب میں کرونا سے متاثرہ افراد کی نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

حکومتِ پنجاب نے صوبے میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو روکنے کے لیے 'کمیونٹی ٹرانسمیشن پالیسی' اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت کرونا وائرس کے مریضوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے گا۔

اِس بات کا فیصلہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرِ صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان، ڈی جی رینجرز پنجاب اور دیگر سول اور عسکری حکام بھی شریک تھے۔

اجلاس کے دوران صوبے میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وائرس کا پھیلاؤ کم کرنے کے لیے لاہور میں علیحدہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی اور صوبے کے دیگر شہروں کے لیے الگ حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

اجلاس میں شریک ماہرینِ صحت نے صوبہ بھر کے اسپتالوں میں بستروں کی گنجائش بڑھانے اور متاثرہ مریضوں کے کیس مینجمنٹ کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔ ماہرینِ صحت نے بتایا کہ کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث دستیاب وسائل میں زیادہ بہتر حکمتِ عملی بنائی جا رہی ہے۔

اجلاس میں اِس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ کرونا کا پھیلاوئ روکنے کے لیے ماہرین پر مشتمل خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔ ورکنگ گروپ کی سفارشات کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں ماسک کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ بازاروں اور عوامی مقامات پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG