پنجاب حکومت کا لاہور کے متعدد علاقے بند کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے لاہور میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی بڑھتی تعداد سامنے آنے کے بعد متاثرہ علاقوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یاسمین راشد نے بتایا کہ بند کیے جانے والے علاقوں میں شاہدرہ، شاد باغ، ہربنس پورہ، مزنگ، گلبرگ کے کچھ علاقے، نشتر ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن کی کچھ سوسائٹیز اور اندرونِ لاہور کے کچھ علاقے شامل ہیں۔
یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ تمام علاقوں کو رواں ہفتے منگل کی رات بارہ بجے بند کر دیا جائے گا جو آئندہ پندرہ دنوں کے لیے بند رہیں گے۔
وزیرِ صحت پنجاب نے کہا کہ پابندی کے دوران ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں، میڈیکل اسٹورز، دودھ دہی کی دکانیں اور تندور کھلے رہیں گے۔
کرونا کے کیسز میں کمی کے بعد یورپ میں پابندیاں مزید نرم
یورپ میں کرونا وائرس کی وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں اور لاک ڈاؤن سے متعلق احکامات بتدریج واپس لینے کا سلسلہ جاری ہے۔
کئی یورپی ملکوں نے پیر سے یورپی شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد امکان ہے کہ یورپی ممالک کے درمیان شہریوں کی آزادانہ آمد و رفت کا سلسلہ کسی حد تک بحال ہو سکے گا۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی پابندیوں کے خاتمے کا مقصد سیر و سیاحت کی صنعت کو سہارا دینا ہے جس کا یورپی یونین کی معیشت میں تقریباً 10 فی صد حصہ ہے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ریستورانوں کو ڈائن اِن کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے بعد گاہک ریستورانوں میں بیٹھ کر کھانا کھا سکیں گے۔ فرانس کی حکومت نے ملک کے باقی علاقوں میں ریستورانوں کو اپنی حدود میں کھانا سرو کرنے کی پہلے ہی اجازت دے دی تھی لیکن پیرس میں ڈائن ان پر پابندی تھی۔
برطانیہ میں عام دکانیں پیر سے دوبارہ کھل رہی ہیں جب کہ عبادت گاہوں کو بھی انفرادی عبادات کے لیے اپنے دروازے کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ملک میں ڈرائیو ان سنیماز اور چڑیا گھر بھی پیر سے کھل رہے ہیں۔
یونان نے تین ماہ کی بندش کے بعد اپنے تمام عجائب گھر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یونان کی حکومت نے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی کا ہوائی اڈہ بھی یورپ سے آنے والی پروازوں کے لیے کھول دیا ہے۔
تھائی لینڈ میں کرفیو ختم
ایشیا کے ملک تھائی لینڈ نے کرونا وائرس کے سبب دو ماہ سے نافذ کردہ کرفیو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تھائی لینڈ میں گزشتہ 21 دنوں میں کرونا وائرس کی مقامی منتقلی کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے جس کے بعد حکام نے ملک بھر میں ریستوران اور شراب خانے کھول دیے ہیں۔
تھائی لینڈ میں رواں برس 13 جنوری کو کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور اب تک اس وبا سے 3135 افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ 58 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
تھائی لینڈ میں 120 طلبہ سے کم تعداد والے اسکول بھی کھول دیے گئے ہیں۔ نمائشی ہالز، میوزک کنسرٹس، فلم پروڈکشنز اور کھیلوں کے مقابلے تماشائیوں کے بغیر منعقد کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔
بیجنگ میں مسلسل دوسرے روز ریکارڈ کیسز
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مارچ کے مہینے کے بعد مسلسل دوسرے روز کرونا وائرس کے ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں جس کے باعث وہاں موجود ایشیا کی سب سے بڑی فوڈ مارکیٹ بند کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق پیر کو کرونا کے مزید 36 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو شہر میں مارچ کے بعد سامنے آنے والے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صرف چار روز کے دوران شہر میں 79 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ لگ بھگ ڈھائی ماہ بعد کرونا کیسز سامنے آنے پر حکام نے ایک مرتبہ پھر بعض پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
بیجنگ شہر کے ترجمان نے پیر کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ موجود ہے جس کے پیش نظر سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم انہوں نے اِن اقدامات کا ذکر نہیں کیا۔
دوسری جانب بیجنگ کے بعض اسکولوں میں تدریسی عمل روک دیا گیا ہے جب کہ 'زنفیڈی' مارکیٹ کو بند کرتے ہوئے قریبی رہائشیوں کے کرونا ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔
حکام نے چند روز کے دوران مذکورہ مارکیٹ جانے والے افراد کی شناخت کے لیے مہم بھی شروع کر دی ہے جب کہ اتوار کو شہر بھر میں 76 ہزار 499 افراد کے کرونا ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔